کھاد بحران، خیبرپختونخوا میں گندم کی فصل متاثر

کھاد کے مصنوعی بحران اور صوبے میں جعلی ادویات کی دھڑلے سے فروخت کے باعث خیبر پختونخوا میں گندم کی فصل 50فیصد سے زائد حد تک متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ جس کی وجہ سے صوبے کو آئندہ برس گندم بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پشاور، مردان، چارسدہ، صوابی اور نوشہرہ کے کسانوں کے مطابق صوبے میں گندم کی فصل رواں برس انتہائی خطرات سے دوچار رہی ہے سب سے پہلے گندم کی فصل کو بروقت کھاد فراہم نہیں کی جا سکی اور انتہائی مہنگے داموں دستیاب ہونے سمیت مارکیٹ میں کھاد کی قلت کے باعث بیشتر کسانوں نے انتہائی قلیل مقدار میں کھاد استعمال کی ہے جس کی وجہ سے گندم کی فصل کی پیدوار 25سے 30فیصد تک متاثر ہو چکی ہے اسی طرح رواں سیزن میں جب گندم کی فصل کو دانا لگ گیا تو اس پر کیڑوں نے حملہ کردیا ان کیڑوں کو ختم کرنے کیلئے ادویات کا استعمال کیا گیا تاہم جعلی ادویات کی مارکیٹ میں بہتات کے باعث ان کا کیڑوں پر کوئی اثر نہیں ہوا جس کی وجہ سے فصل کو مزید نقصان اٹھانا پڑرہا ہے کاشتکاروں کے مطابق اب تک جو ان کے انفرادی اعدادوشمار ہیں تو انہیں پیدوار میں 50فیصد سے زائد کی کمی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور یہی صورتحال صوبے کے مختلف علاقوں میں بھی ہے محکمہ زراعت ذرائع کے مطابق کاشتکاروں کے خدشات کے حوالے سے محکمہ کو شکایات موصول ہوئی ہیں تاہم اب تک صوبہ بھر کی پیداوار کا ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے جس کے بعد اصل صورتحال سامنے آسکے گی واضح رہے کہ گزشتہ برس خیبر پختونخوا میں گندم کی پیدوار 12لاکھ میٹرک ٹن رہی تھی اور رواں برس اسے بڑھاتے ہوئے 16لاکھ میٹر ٹن کی پیدوار ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا تاہم کھاد کی قلت اور کیڑوں کے حملے کے پیش نظر گزشتہ برس کی پیداوار کا ہدف حاصل کرنا بھی مشکل ہورہا ہے ۔

مزید دیکھیں :   جنرل ندیم رضا کی ایرانی صدر سے ملاقات، سیکیورٹی اور اسٹریٹجک امور پر گفتگو