مُلکی سیاسی صورتحال کے تناظر میں

ہماری قومی سیاست میں سیاسی جماعتوں کے قائدین نے ایک دوسرے کے خلاف جو جارحانہ انداز اختیار کیا ہوا ہے ،اس سے ایک تشویش ناک صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ آئینی اور حکومتی بحران آئے روز گھمبیر ہوتے چلے جارہے ہیں۔ نئے غیر سیاسی اور غیر منطقی بیانیے، بیرونی سازش یا مداخلت کی جاری بحث اور حسب ِ روایت سیاسی رہنماؤں اور ان کے حمایتیوں کی گالم گلوچ کے سوا کچھ بھی سننے میں نہیں آتا۔ مُلک عدم استحکام میں جکڑا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ مُلک کا باشعور اورسنجیدہ طبقہ اسی فکر میں ہے کہ اگر موجودہ صورتحال پر قابو نہ پایا گیا اور اس حوالہ سے حکومت، تمام سیاسی اکابرین ،ریاستی اداروں اور عوام الناس کی اکثریت نے فوری توجہ نہ دی تو حالات خراب ہونے یا فساد برپا ہونے میں دیر نہ ہوگی۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عوام کی ایک اکثریت پر مبنی آئینی حکومت ہم سب کا ہدف ہونا چاہیے ۔ سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ جمہوری قیادت بہت ہی مشکل اور نازک عمل ہے۔ جمہوری قائدین کو ہمیشہ معاشرہ کی تنظیم کے لیے جاری نظام اور اداروں کی ماہیت سے بحث ہونی چاہیے ۔ یہ نظام اور ادارے جمہوری ضوابط کے مطابق وضع ہوں اور معاشرتی تنظیم سازی میں سیاسی نظریات کا پس منظر لازمی ہو۔ موجودہ صورتحال اور مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک ایسی قیادت درکار ہے جس کی بنیاد فکر و دانش، روشن خیالی اور جمہوری تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔ کسی جمہوریت میںقائدین کے بارے ہمیشہ غیر جذباتی طور پر اس کی جمہور ی فکر، نظریہ سے وابستگی، قائدانہ اصول اور انہیں قابل عمل بنانے کی صلاحیت پر عوام کو رائے قائم کرنی چاہیے۔ جب ایسا ہوشمندانہ فیصلہ نہیں کیا جاتا تو پھر معجزاتی اور ڈرامائی قیادت کو ابھرنے کے مواقع مل جاتے ہیں ، جس کا ہمیں مسلسل سامنا ہے۔ دھوکہ بازی، مکاری، لفاظی اور نالائقی کی کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ عوام نے بھی جبر اور جذباتیت میں ان کی قیادت کو قبول کیا ہے۔ قائد کو اپنی مقبولیت کے لیے خود کو اور اپنے خیالات و تصورات کو تھوپنے کی خاطر عوام کو کبھی د ھوکہ نہیں دینا چاہیے اورکسی معاشرہ اور جمہوری مُلک میں اس سے زیادہ پریشان کن بات نہیں ہو سکتی کہ ایک سیاسی رہنما ہر قیمت پر محض اقتدار کا حصول چاہتا ہے۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو اپنے قائدانہ کردار کی نفی کرتا ہے بلکہ جلد یا بدیر اس فریب کا پردہ بھی چاک ہو جاتا ہے۔ یہ سب کچھ ہم دیکھ بھی رہے ہیں۔
مُلک میں موجودہ صورتحال کے بارے ایک فکر یہ بھی لاحق ہے کہ جب اس سیاسی نظام اور جمہوریت سے اچھی خاصی بے اطمینانی عام رویہ بن جائے اور جیسے کچھ طاقتیں غیر محسوس طریقہ سے ہمیں یہ رویہ اختیار کرنے کی کوشش میں ہیں تو ایسے میں فسطائیت کو قدم جمانے کا موقع مل جاتاہے۔ عوام بھٹک جاتی ہے اور یہاں تو کئی ایسی سازشیں کامیاب بھی ہوئیں ،جس کا ہم ناقابل تلافی خسارہ اُٹھا چکے ہیں۔ سیاسی تاریخ سے بھی یہ بات ثابت ہے کہ ابتدا میں فسطائیت کی اصل ماہیت ظاہر نہیں ہوتی۔اس کی خصوصیات کا سراغ لگانا انتہائی ضروری ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ نازیت بھی شروع میں دائیں بازو کا ایک چھوٹا سا رجعت پسند دھڑا تھا۔ یہ گروہ کسی طرح انتخابات میں سب سے نمایاں ہوا،پھر فروغ پاتے ہی ایک مستحکم آمریت کی شکل اختیار کر گیا۔ ایک افلاس زدہ اقلیت سیاسی لحاظ سے بے بس ہوتی ہے جبکہ متوسط طبقہ کود کو منظم کرنے کا اہل ہوتا ہے۔ یہ درمیانہ طبقہ وہ دھماکہ خیز سماجی قوت تھی جو ہٹلر کو جرمنی میں برسراقتدار لائی۔ وہ محض اپنی شعلہ بیانی پر مبنی ذہانت سے جرمنی کا آمر نہیں بن سکتا تھااگر جرمنی میں ایک غیر مطمئن طبقہ موجود نہ ہوتا جسے ہٹلر اپنی قیادت قبول کرنے کے عوض داد رسی کی پیشکش کر سکے اور ان میں جذباتیت پیدا کر سکے۔ یوں جرمن نژاد لوگوں نے نعروں کی آڑ میں بہت عجلت کے ساتھ خود کو نازی پارٹی کے حوالے کر دیا کہ انہیں مشکل کے حل کی توقع تھی۔ بہر کیف وہ یہ محسوس نہ کر سکے کہ اس پارٹی کا طریقہ کار مستقبل میں دوسرے لوگوں او رریاستی اداروں کے لیے مصائب کا مؤجب ہوگا۔
ہر فرد میں یہ ذہنی صلاحیت ہونی چاہیے کہ وہ اپنے نظام کی سیاسی حکمت عملی سے دوسروں کی زندگی پر ہونے والے اثرات کا اندازہ کر سکے۔ ہر فرد میں یہ ذہانت ہونی چاہیے کہ وہ جمہوریت کے تحفظ کے لیے اپنے گرد وپیش میں ہونے والی ہر بات کی اصلیت کا بغور جائزہ لے سکے۔ فکر و دانش ہی فسطائیت کے ظہور کو روک سکتی ہے۔ جو حکومت سماجی انصاف سے جتنی قریب ہوگی ،اتنی ہی مستحکم ہو اور فسطائیت کے خلاف ممکنہ تحفظ فراہم کر سکتی ہے۔ ہماری قومی سیاست کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ سیاسی رہنماؤں کے دعوے اور ان کی کارکردگی کے درمیان سچائی کا خلا زیادہ ہو گیا ہے۔عوام سیاست دانوں کی ناموزونیت سے واقف ہوتے ہیں مگر ان سے بہتر کا انتخاب کیسے کیا جائے،انہیں معلوم نہیں۔کسی نظریہ اور منشور سے وابستگی کے بغیر لوگ اس آدمی کا انتخاب کرتے ہیں جسے وہ اچھے اور برے اسباب کی وجہ سے زیادہ پر کشش پاتے ہیںیا جو اپنے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اس کے برخلاف بعض اوقات مخلص قیادت نظر انداز ہو جاتی ہے کہ وہ اپنی تشہیر میں مہارت نہیں رکھتی۔ اسی میںجمہوریت کا نقصان ہے ۔بلاشبہ سیاست میں بہتری کی ضرورت اب شدت سے محسوس کی جارہی ہے ،عوام کی اخلاقی اور ذہنی صلاحیت کو بلند کرنا سب سے زیادہ اہم ہے۔

مزید دیکھیں :   ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا