ٹرانسجینڈر انڈومنٹ فنڈ بل

ٹرانسجینڈر انڈومنٹ فنڈ بل پیش کرنے پر حکومت کا خیرمقدم

پشاور خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیر برائے زکوٰة ، عشر،سماجی بہبود و ترقی نسواں نے صوبے میں خواجہ سرائوں کی فلاح و بہبود کے لیےٹرانسجینڈر انڈومنٹ فنڈ قیام کا بل پیش کردیا۔خیبر پختونخواہ حکومت، پہلی صوبائی حکومت بن گئی جس نے ٹرانس جینڈر کمیونٹی کی ضروریات کو پورا کرنے میں نئے قانون کی صورت میں پیش قدمی کی۔ اس مجوزہ قانون کے سیکشن 3کے مطابق100 ملین روپے کے ابتدائی سرمائے کے ساتھ ایک ٹرانس جینڈر افراد کی فلاح و بہبود کا ٹرانسجینڈر انڈومنٹ فنڈ بل قائم کیا جائے گا۔

سیکشن 4 کے مطابق، اس فنڈ کو خواجہ سرائوں کی فلاحی سرگرمیوں کے لئے استعمال کیا جائے گا تاکہ انہیں معاشرے کے مرکزی دھارے میں لایا جا سکے۔ اس کے علاوہ چھوٹے کاروبار اور کاروباری ترقی کے لیے ٹرانس جینڈر افراد کو مالی مدد اور چھوٹے پیمانے پر بلا سود قرضے بھی فراہم کرے گا۔
اس فنڈ کے دیگر استعمال میں خواجہ سرائوں کے مسائل کے بارے میں حساسیت کے لیے سرکاری اہلکاروں کی تربیت، پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا، ورکشاپس اور سیمینارز کے ذریعے معاشرے میں خواجہ سرائوں کی فلاح و بہبودکے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہے۔ اس قانون کے تمام مقاصد حاصل کرنے کے لیے ایک انتظامی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ اس کی سربراہی محکمہ سماجی بہبود کے ڈائریکٹر کریں گے اور وہ ضلعی افسر (سوشل ویلفیئر) کے ذریعے ٹرانس جینڈر افراد سے مالی امداد کے لیے درخواستیں وصول کرے گا۔ اس کے علاوہ، یہ ٹرانسجینڈر افراد کو مالی امداد دینے کے لیے ان درخواستوں کی جانچ پڑتال بھی کرے گا۔

مزید دیکھیں :   پاکستان نے 11 ماہ میں ساڑھے 13 ارب ڈالرز سے زائد کا قرضہ لیا

خواجہ سرائوں کے حقوق کے تنظیم جو کہ خواجہ سرائوں کے حقوق کی پالیسی مہم کی رہنمائی کرتی ہے کے کوآرڈینیٹر قمر نسیم نے کہا کے پی حکومت اور سماجی بہبود کا محکمہ خواجہ سرائوں کو قومی دھارے میں لانے کے لیے کوششوں کے لیے زبردست تعریف کے مستحق ہیں۔ اس فنڈ سے خواجہ سراء افراد کومرکزی دھارے میں شامل ہونے کے لئے مدد ملے گی۔یہ فنڈ انہیں باعزت روزگار کے حصول کے ساتھ ساتھ معاشرتی برائیوں سے دور رکھنے کے لئے مدد دے گا۔ یہ حوصلہ افزابات ہے کہ حکومت خواجہ سرا افراد کے مسائل سن رہی ہے۔وقت آ گیا ہے کہ ‘مرد’ اور ‘عورت’ کے ساتھ ساتھ خواجہ سراء افراد کو بھی ایک برابر صنف سمجھیں ۔ خیبر پختوانخوا جلد ہی صوبائی ٹرانس جینڈر پروٹیکشن بل بھی متعارف کرائے گا ۔ نایاب علی، بین الاقوامی شہرت یافتہ ٹرانس جینڈر حقوق کی ماہرنے کے پی اسمبلی کی کارروائی دیکھنے کے بعد اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج پاکستان اور عالمی سطح پر تاریخ کا بڑا دن ہے کہ ہم پہلا ملک ہیں جس نے خواجہ سرائوں کے حقوق کے تحفظ اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے دو قوانین بنائے ہیں۔ مجھے فخر ہے کہ میں نے وفاقی قانون کے بعد اس قانونی فریم ورک کو تیار کرنے میں بھی اپنا حصہ ڈالا ہے اب اگلی باری سندھ اور پنجاب جیسے بڑے صوبوں میں قانون سازی کی ہے۔ درحقیقت یہ قانون ایک عالمی ماڈل ہے اور اسے پورے ملک میں نافذ کیا جانا چاہیے۔
میں قمر نسیم کے ساتھ مل کر دوسری بار تاریخ رقم کرنے پر فخر محسوس کرتی ہوں۔ یہ تو ابھی شروعات ہے۔ جلد ہی مزید بہتری آنے والیہے۔ فرزانہ جان، ٹرانزیکشن کی صدر (صوبائی الائنس آف ٹرانسجینڈر کمیونٹی،) نے کہا کہ ” خواجہ سرا کمیونٹی کے لیے انڈومنٹ فنڈ بنانا کے پی حکومت کی بہت بڑی پیش رفت اور کامیابی ہے۔ کے پی میں خواجہ سرائوں کو زیادہ تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ فنڈ ٹرانس جینڈر کمیونٹی کو معاشی طور پر بااختیار بنانے اور ٹرانس جینڈر کمیونٹی کو قومی دھارے میں لانے کے لیے وقت کی اہم ضرورت ہے۔

مزید دیکھیں :   مردان میں ڈوبنے والے 12 سالہ بچے کی لاش مل گئی