پولیس اہلکار جاں بحق

پی ٹی آئی کیخلاف کریک ڈاؤن میں فائرنگ،پولیس اہلکار جاں بحق

صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن میں پاکستان تحریک انصاف کے خلاف پولیس کے کریک ڈاؤن کے دوران فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار جاں بحق ہوگیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کانسٹیبل کمال احمد کو ماڈل ٹاؤن میں تعینات کیا گیا تھا اس دوران ماڈل ٹاون سی بلاک 112 میں پی ٹی آئی کے مقامی رہنماء ساجد بخاری کے گھر کریک ڈاؤن کیا گیا، کریک ڈاؤن کے دروان چھت سے فائر کیا گیا، کانسٹیبل کمال احمد کو سینے پر گولی لگی، زخمی کانسٹیبل کو طبی امداد کے لیے لاہور جنرل ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ دوران علاج دم توڑ گیا۔خیال رہے کہ تحریک انصاف کا اسلام آباد مارچ روکنے کیلئے پنجاب میں پولیس کی جانب سے پی ٹی آئی رہنماوں اور کارکنوں کیخلاف کریک ڈاون شروع کر دیا گیا ہے، پنجاب پولیس کی جانب سے بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کیلئے فہرستیں تیار کی گئی ہیں جس کے بعد پنجاب میں تحریک انصاف کے کئی مقامی رہنما اور کارکنان گرفتار کر لیے گئے، پنجاب پولیس کی جانب سے تحریک انصاف کے سینئر رہنماوں کی گرفتاریوں کیلئے بھی چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

مزید دیکھیں :   اپوزیشن کی تجاویز مسترد، قومی اسمبلی سے مالیاتی بل23-2022 منظور

سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے گرفتاری کے لیے 4 سرکاری گاڑیوں کی آمد کا دعویٰ کیا ہے، ایک بیان میں شیخ رشید نے کہا کہ میری گرفتاری کے لیے 4 سرکاری گاڑیاں میرے گھر آئیں، ان گاڑیوں میں سفید کپڑوں میں پولیس اہلکار موجود تھے، میں انشاء اللہ گھبرانے والا نہیں، گرفتار نہیں ہوں گا اور اپنے وقت کے مطابق اسلام آباد پہنچوں گا، لال حویلی سے طے شدہ وقت کے مطابق 2 بجے نکلوں گا، اللّٰہ ہمیں کامیابی دے گا، اللّٰہ ہی کے پاس ساری طاقت ہے۔اس حوالے سے تحریک انصاف کے ترجمان فواد چودھری کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اگر ہم لانگ مارچ نہیں کرتے تو ہمیں خدشہ ہے کہ ہماری آزادی ہمیشہ کے رک جائے گی، لانگ مارچ کو روکنے کی کوشش کی جارہی ہے، وزیرداخلہ کا کریمنل ریکارڈ ہے، انہو ں نے کہا ہم گرفتاریاں کریں گے، جہلم اور اٹک کے پُل پر کنٹینرز پہنچا دیے گئے ہیں، 700پی ٹی آئی رہنماؤں کو گرفتار کرنے کا پلان ہے، سوشل میڈیا پر حکومت خلاف بولنے والوں پر پرچے کیے گئے جب کہ اسلام آباد ہائیکورٹ فیصلے میں قرار دے چکی ہے کہ ارکان اسمبلی کو گرفتار کرنے کیلئے پراسس کو فالو کیا جائے۔سابق وزیر نے کہا کہ لوگوں کو گھروں سے اٹھایا جارہا ہے، نوجوانوں کو ایف آئی اے نے اٹھایا اور گرفتار کیا،چینلز کو بلا کر کہا گیا کہ پالیسی تبدیل کریں.

مزید دیکھیں :   سارخیل قبیلے کا پولیو مہم سے بائیکاٹ، گھروں پر سیاہ جھنڈے لہرا دیئے

لیکن عمران خان 25مئی کو بڑی ریلی کے ساتھ اسلام آباد پہنچیں گے،حکومت کو عقل کے ناخن لینے چاہئیں، وزیراطلاعات نے کونسلر کا بھی الیکشن نہیں لڑا، ان کی کیا حیثیت ہے کہ وہ بتائیں الیکشن ہونے چاہئیں یا نہیں؟یہ کام سینئر لیڈرشپ کا ہے، الیکشن کا معاملہ گیدڑ بھبھکیوں سے معاملہ حل نہیں ہوگا، پی ٹی آئی چھوٹی جماعت نہیں، اسلام آباد آنے کی کال پنجاب اور خیبرپختونخواہ کیلئے ہے، بلوچستان والے کوئٹہ،سندھ میں حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ اورکراچی میں سب سے زیادہ لوگ نکلیں گے، جلسہ یا دھرنا دینے کا فیصلہ اسلام آباد میں کیا جائے گا،لانگ مارچ میں تما م طبقات کے لوگ شامل ہوں گے، لاکھوں لوگوں کو نہیں روکا جاسکتا،روکنے سے تلخیاں بڑھیں گی، لانگ مارچ کو روکنے کا نقصان ہوگا، ن لیگ کی حکومت کو کہنا چاہتا ہوں کہ پارٹی میں مشاورت کریں کیونکہ آپ مینڈیٹ کے بغیر حکومت نہیں چلا سکتے۔

مزید دیکھیں :   آئی ایم ایف معاہدے کیلئے پاکستان کو مزید اقدامات کی ضرورت