پختونخوا پولیس

پختونخوا پولیس جلسے جلوسوں تک محدود، بدامنی کے خدشات بڑھ گئے

خیبرپختونخوا پولیس کو سیاسی جلسے جلوسوں اور لانگ مارچ کی حفاظت میں الجھا دیا گیا ہے جس کی وجہ سے صوبے خصوصا پشاورمیں بدامنی اوردہشتگردی کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں، غیرضروری طور پر الجھانے کے باعث بعض پولیس اسٹیشنوں میں پختونخوا پولیس اہلکاروں کے پاس ٹیلی فون کال پک کرنے کیلئے بھی وقت نہیں ہے اور ان کی توجہ جلسے جلوسوں میں لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے پر مرکوز ہوتی ہے۔

ایک طرف ملک سیاسی و معاشی عدم استحکام کا شکار ہے تو دوسری طرف حکمران جماعتوں کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کی جانب سے بھی جلسے جلسوں اور لانگ مارچ کا ماحول گرم ہے اور آئے روز جلسے منعقد ہونے کی وجہ سے پختونخوا پولیس بھی پھنس کررہ گئی ہے۔ ان جلسوں کیلئے بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا جاتا ہے جبکہ آج سے شروع ہونے والے لانگ مارچ کیلئے بھی بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں کی ڈیوٹیاں لگا دی گئی ہیںجسکے باعث بدامنی کے سائے منڈلانے لگے ہیں۔حالیہ دنوں میں پشاور میں دوسکھوں،حساس ادارے کے اہلکار اور ایس ایچ او کوبھی سرعام فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا۔

مزید دیکھیں :   مہنگائی نئی نہیں،گزشتہ4 سالوں سے ہے،مریم نواز

پولیس کو غیرضروری طور پرسیاسی سرگرمیوں کیلئے وقف کرنے کی وجہ سے پشاور کے متعدد تھانوں میں پولیس اہلکاروں کے پاس ٹیلی فون کال پک کرنے کیلئے بھی ٹائم نہیں ہے جس سے نہ صرف شہریوں کیلئے پولیس سے رابطوںمیں مشکلات کا سامنا ہے بلکہ غیرضروری طور پر الجھانے کی وجہ سے پولیس کی جرائم اور بدامنی کے خاتمے کیلئے کارکردگی بھی متاثر ہورہی ہے۔