پشاورکو منشیات سے پاک کرنے کا منصوبہ تیار

پشاورکو منشیات اور نشئیوں سے پاک کرنے کا منصوبہ تیار

صوبائی دارالحکومت پشاور کو منشیات اور نشئیوں سے پاک کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر پشاور کے دفتر میں ڈرگ کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے۔ دس مختلف محکمے منشیات کے عادی افراد کی نشاندہی، علاج اور انہیں کارآمد شہری بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں کریں گے۔

اس حوالے سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر محمد علی سیف اور کمشنر پشاور ریاض خان محسود کی سربراہی میں کمشنر آفس میں اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر پشاور شفیق اللہ خان، سی سی پی او اعجاز خان، محکمہ سوشل ویلفیئر، ایکسائز اینڈ نارکوٹکس کنٹرول، صحت، انٹی نارکوٹکس فورس سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے حکام اور نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں پشاورکو منشیات سے پاک کرنے کا منصوبہ تیار، ان کے علاج، بحالی اور انہیں کارآمد شہری بنانے کے لئے جامع پلان پر بریفنگ دی گئی۔

مزید دیکھیں :   اورکزئی میں کمسن بچہ بے دردی سے قتل

بریفنگ میں بتایا گیا کہ پشاور میں اس وقت 2 ہزار کے قریب نشئی موجود ہیں جو کہ چوری کی وارداتوں اور منشیات کی سمگلنگ سمیت مختلف معاشرتی برائیوں میں ملوث ہیں۔ ان نشئیوں میں زیادہ تعداد کا تعلق دیگر اضلاع سے ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ پشاور میں نشئیوں کے 9 ہاٹ سپاٹس کی نشاندہی ہو چکی ہے۔ پشاور کو نشے کے عادی افراد کا منصوبہ تین مراحل پر مشتمل ہو گا۔ پہلے نشے کے مستقل عادی افراد کی نشاندہی اور انہیں بحالی مراکز میں لایا جائے گا۔ دوسرے مرحلے میں ان کا علاج اور بحالی شامل ہے جبکہ تیسرے مرحلے میں ان افراد کو معاشرے کا کار آمد شہری بنانے کے لیے ٹیکنیکل تربیت فراہم کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر اسکل ڈویلپمنٹ فراہم کی جائے گی۔

مزید دیکھیں :   پولیس کا انوکھا کارنامہ، 6 سال قبل وفات پا جانے والے پر ایف آئی آر کاٹ دی

نشے کے عادی افراد کے علاج اور بحالی کے لیے سرکاری اداروں سمیت این جی اوز اور رفاہی اداروں کا تعاون حاصل ہوگا جو کہ بحالی مراکز میں ان افراد کو تمام سہولیات فراہم کریں گے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ منشیات فروشوں اور سپلائرز کے خلاف بھی بڑا کریک ڈا ئون کیا جائے گا۔ اس موقع پر بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ یہ معاشرے کی بہتری کے لیے شروع کیا گیا بہترین منصوبہ ہے۔

پشاور میں کامیابی کے بعد اسے پورے صوبے میں شروع کریں گے۔ اس مہم میں تمام متعلقہ اداروں کی باہمی ہم آہنگی ضروری ہے۔ بیرسٹر محمد علی سیف نے اس امر پر بھی زور دیا کہ نشے کا عادی بننے سے متعلق نفسیاتی مسائل کا حل بھی ضروری ہے جو کہ بحالی مراکز میں فراہم کی جانی چاہیے۔ کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود کا کہنا تھا کہ پشاور کو منشیات اور نشے کے عادی افراد سے پاک کرنے کے لیے جامع پلان تیار کیا ہے جس کی نگرانی خود کروں گا۔

مزید دیکھیں :   چارسدہ میں صحافی کاقتل، وزیراعلیٰ کی قاتلوں کی جلد گرفتاری کی ہدایت