ہر بات کا جواب دینا

یقین دلانے کیلئے قرآن اُٹھا کر بات کرنا

سوال: دو افراد کا کسی بات پر اختلاف پیدا ہو، ان میں سے ایک قرآن پاک اُٹھا کر بات کرے تاکہ دوسرے کو اس کی بات پر یقین ہو جائے اور اس میں وہ غلط بیانی کرے یعنی جھوٹ بولے تو یہ قسم میں آتا ہے یا نہیں اور اس جھوٹ کا کفارہ کیا ہو گا؟
جواب: قرآن مجید ہاتھ میں لے کر بات کہی جائے اور قسم کے الفاظ نہ کہے جائیں تو محض قرآن ہاتھ میں لے کر بات کرنے سے قسم نہیں ہو گی ، لیکن اس طرح کا عمل دوسروںکو دھوکہ دینا ہے اور کذب بیانی کرنی ہے ، اس لیے یہ حرام عمل ہے۔ اگر قرآن پاک لے کر زبان سے اس کی قسم بھی کھائے تو یہ قسم ہو گی، پھر اگر اس نے جھوٹ بولا تو یہ یمین غموس ہے جس کا کفارہ تو کوئی نہیں البتہ توبہ کرتا رہے کہ اللہ تعالیٰ معاف فرما دے کیونکہ یہ ایک عظیم گناہ ہے۔

مزید دیکھیں :   دعا قبول نہ ہونے کے دس اسباب