خوفزدہ ملک ‘ خوفزدہ قوم

برنارڈ لیوس نے کہا تھا کہ جب لوگوں کو یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ کسی مصیبت کا شکار ہو گئے ہیں تو دو طرح کے لوگ ‘ دو مختلف قسم کے سوال کرتے ہیں اور ان سوالوں کے جوابوں میں ہی ان کی کامیابی یا ناکامی کا راز پنہاں ہوتا ہے ۔ ایک طرح کے لوگ سوال کرتے ہیں کہ ہم سے کیا غلط ہوا اس کے نتیجے میں وہ اپنی غلطی کی درستگی اور اپنے ارادوں کی اصلاح کے لئے گامزن ہو جاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہیں اور ترقی و کامیابی کے زینے چڑھتے چلے جاتے ہیں دوسری طرح اور سازشیوں کی کھوج میں لگ جاتے ہیں اور پھر اسی میں الجھ کر رہ جاتے ہیں۔ ترقی و کامیابی ان سے دور ہوتی چلی جاتی ہے ۔
برنارڈ لیوس کی یہ بات پاکستان اور پاکستانی معاشرے کے لئے ایک کسوٹی کی حیثیت رکھتی ہے ۔ ہم ایسے کیوں ہیں اس سوال کا جواب کسی اور وقت کے لئے اٹھا رکھتے ہیں کیونکہ یہ بھی ایک طویل بحث ہے جس کا سرا تلاش کرنے کے لئے پاکستان کے قیام سے پہلے کی بھی تاریخ کا جائزہ لینا ہو گا۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اس بات کا علم تو ہم میں سے ہر شخص کو ہے کہ ہم ایسے ہی ہیں ‘ اس سوال کے تانوں بانوں میں الجھے ہوئے ‘ ہر ایک پریشانی ‘ ہر ایک الجھن ‘ ہر ایک راستے کی رکاوٹ کو اسی ایک ترازو میں تولتے اور اس کا حساب لگاتے کہ ہمارے ساتھ یہ کس نے کیا؟ ہمیں یہ سوال انتہائی منطقی ‘ انتہائی مناسب محسوس ہوتا ہے کہ یہ تو معلوم ہونا چاہئے کہ ہمارے ساتھ جوبھی کچھ ہوا اس کا باعث کون ہے ‘ کون ہے ہمارا دشمن جو ہمیں تباہ کرنے پر تلا ہے ؟ کون ہمارا نقصان چاہتا ہے ؟ کون ہماری تباہی سے خوش ہوتا ہے ؟ انہی سوالوں میں سچ پوچھئے تو ہمارے سارے جواب بھی پنہاں ہیں ۔ ہم اپنے ساتھ درپیش ہر ایک مسئلے کے سوال میں اپنا دشمن ڈھونڈتے ہیں اس لئے تو بحیثیت قوم ہمیں کئی دشمن مل گئے ہیں ہمارے پڑوسی ممالک سب ہمارے دشمن ہیں بھارت ہمارا دشمن ہے ‘ ایران سے ہم خائف ہیں ‘ افغانستان مسلسل ہمارے خلاف سازش کرتا ہے اور بات قریبی پڑوسیوں تک کہاں موقوف ہے ‘ کبھی روس ہمارا دشمن تھا ‘ اب امریکہ ہمارا دشمن ہے ‘ اسرائیل ہم سے خائف ہے سوائے چین اور ترکی کے ‘ اس دنیا کے اکثر ہی ممالک ہمارے لئے کوئی مثبت سوچ نہیں رکھتے کیا ہم نے اپنے آپ سے کبھی یہ سوال بھی کیا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے ؟ اس ساری صورتحال کے مضمرات کہاں پوشیدہ ہیں ۔ آخر ایسا کیا ہے جس کے باعث پاکستان کے لئے اس دنیا کے ممالک کی کوئی مثبت رائے ہی نہیں ۔ اس بات کا جواب بھی بہت سادہ ہے اور یقینا اس کا جواب بھی وہ نہیں جو ہم میں سے اکثر لوگ سوچیں گے کہ ہم ہی ایسے لوگ ہیں ‘ باہر جاتے ہیں تو بے ایمانی کرتے ہیں ‘ لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں اور کچھ ہمارے خلاف پراپیگنڈہ بھی بہت کیا جاتا ہے ‘ پاکستان ایک ایسے جغرافیائی محل وقوع پر واقع ہے جو انتہائی اہم ہے اور کئی ممالک اس کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔
سچ پوچھئے تو ہمارا یہ جواب بھی غلط ہے ‘ ملک بھی لوگوں کی طرح ہوتے ہیں ‘ ان کے رویے بھی ایسے ہی ہوا کرتے ہیں ‘ بحیثیت پاکستانی میں سمجھتی ہوں کہ ہمارا پہلا سوال ہی غلط ہے ‘ جب ہم یہ سوال کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ یہ کس نے کیا؟ تو اس سوال کے ختم ہونے سے پہلے پہلے ہمارے ارد گرد دشمن ہی دشمن کھڑے ہو جاتے ہیں کتنے سازشوں کے جال اپنے پیروں میں بچھے دکھائی دینے محسوس ہوتے ہیں اور سچ پوچھئے تو اس غلط سوال کا ایک بہت اچھا اور درست جواب بھی ہے ۔ برٹرنڈ رسل نے کہا تھا کہ اگرانسان یہ سمجھ لے کہ اتنی بڑی کائنات میں اس کی اور اس کے غم کی کیا حیثیت ہے تو اکثر مسائل کے حقیقت بھی واضح ہو جاتی ہے اور انسان کے معاملات حل بھی ہو جاتے ہیں ‘ اور پھر اس حقیقت سے بھی مفر ممکن نہیں کہ اکثر جوابات کا انحصار ان سوالوں پر ہوتا ہے جو کیے جاتے ہیں گویا موتی کس رنگ کا ہو گا ‘ کس حجم اور قطر کا اس کا فیصلہ تو غوطہ خور ہی کرے گا۔
ہمارا سوال ہی ہمارے لئے مشکلات پیدا کر رہا ہے ۔ ہمارے ساتھ یہ کس نے کیا؟ کا جواب تو ہم نے تلاش کرتے کرتے ستر سال سے زائد عرصہ گزار دیا اور اس سوال نے ہمیں سارے دشمن تلاش کر دیئے لیکن اس کا فائدہ کیا ہوا ‘ ہم بحیثیت قوم اپنی زمین کے ٹکڑے میں قید ہوتے جارہے ہیں ‘ اور بھارت یہاں تک موقوف نہیں ‘ صرف یہ ہمارے غلط سوال اور نامناسب نفسیاتی کیفیت کی ہی بات نہیں اور یہ ہی نہیں کہ ہم صرف یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا میں ہمارے دشمن بڑھتے چلے جارہے ہیں ‘ ایسا ہو بھی رہا ہے کیونکہ اپنی اس سوچ سے کچھ ہم اپنے رویوں پر اثرانداز ہوتے ہیں اور کچھ اقوام عالم کو غلط پیغام بھی بھیجتے ہیں سادہ سی بات ہے جو خوفزدہ ہوگا وہ مسلسل کج ادائی کا شکار رہے گا اپنے دفاع کی کوشش کرے گا اور کام کرنے سے زیادہ وقت اس پریشانی میں گزارے گا کہ اسے نشانہ بنایا جارہا ہے ہمیں اپنے اسی رویے اسی نفسیاتی کیفیت پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ سمجھنے اور یقین کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر ہم مضبوط ہو ‘ اگر ہم خود اپنے وفادار ہوں ‘ اگر ہم اپنے استحکام کے وفادار ہوں تو ہمارا دشمن کوئی نہیں ‘ ہم بے وجہ ہی مسلسل سایوں سے لڑتے رہتے ہیں ۔ غلطی اکثر اپنی ہوتی ہے اس کا سدباب بھی خود ہی کرنا ہوتا ہے ‘ اور اگر یہ بروقت نہ کیا جائے تو یہی کیفیت ہوتی ہے جو آج ہماری ہے ۔