آبی قلت اورحکومتی طرز عمل

1947 ء میں اپنے قیام کے وقت پاکستان کے پاس خوش قسمتی سے دریائے سندھ اور پانچ دیگر معاون دریاؤں کے ساتھ وافر آبی وسائل موجود تھے جو بیراجوں، ہیڈ ورکس اور نہروں کے مؤثر آبپاشی کے نیٹ ورک کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے تھے۔1960ء میں پاکستان کو بھارت اور ورلڈ بینک کے درمیان طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کے تحت تین دریاؤں پر اپنا حق بھارت کو دینا پڑا، پانی کے اس بڑے حصے کے نقصان کے باوجود اس کے پاس 1962ء تک ہر سال 5,000 مکعب میٹر سے زیادہ پانی کی فی کس دستیابی موجود تھی جس پر وہ وافر آبی دستیابی کے حامل ممالک کی صف میں شامل تھا ۔چنانچہ برطانیہ سے ورثے میں ملنا والا اور سندھ طاس معاہدے کے تحت قائم کیا گیا آبی انتظام کا بنیادی ڈھانچہ اپنی بھرپور افادیت برقرار نہ رکھ سکا اور بتدریج پانی کی دستیابی کم ہوتی چلی گئی، یوںتقریباً2002ء تک پاکستان کا شمار پانی کی قلت کا شکار ممالک میں ہونے لگا جب اس کی پانی کی دستیابی 1,700 کیوبک میٹر فی کس سالانہ کی حد سے بھی نیچے گر گئی تھی اور اس گراوٹ کا رجحان ابھی تک جاری ہے،اب ایسا لگتا ہے کہ پاکستان پانی کی شدید قلت کا شکار ممالک کی فہرست میں شامل ہو چکا ہے کیونکہ آبی دستیابی تقریباً 1000 کیوبک میٹر فی کس یومیہ ہو گئی ہے۔ آبی وسائل کے ادارے کی”آبی قلت کی درجہ بندی ” کے مطابق پاکستان اب دنیا کے17 سب سے زیادہ آبی قلت کے شکار ممالک میں شامل ہے۔
ملک میں پانی کایہ سنگین بحران اچانک پیدا نہیں ہوابلکہ ہمارے پاس اس بحران کو روکنے کیلئے کافی وقت اور پیشگی اطلاع تھی،یہ بھی حقیقت ہے کہ بحران کی سنگینی میں ہر سال اتار چڑھاؤ آتا رہتاہے ،یعنی کبھی ضرورت سے زیادہ برف باری اور بارش سے تباہ کن سیلابوں اور کبھی کم برف باری اور بارشوں سے خشک سالی جیسی صورتحال درپیش ہوتی ہے،ملک میں موجودہ خشک سالی کی بھی ماہرین نے مہینوں پہلے پیشنگوئی کردی تھی کیونکہ گزشتہ سردیوںمیں اس سے پچھلے برسوں کے مقابلے میں26 فیصد کم برف باری ہوئی،اسی طرح پاکستان میں گزشتہ چند مہینوں میں بہت تھوڑی بارش ہوئیں، ملک کے شمال میں درجہ حرارت نے برف اور گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار کو سست کر دیا، ان عوامل کی وجہ سے دریا خشک اور آبی ذخائر خالی ہو گئے ،اس وقت صورتحال اس قدر مخدوش ہے کہ مویشیوں کو بھی پانی اور سبزہ نہیں مل رہا ہے جس سے ان کے مرنے کی اطلاعات ہیں، کم برف اور بارش کا مطلب یہ بھی ہے کہ زیر زمین پانی کی سطح بھی کم ہورہی ہے جس سے زمینی پانی نکالنا مزید مشکل ہونے کے ساتھ ساتھ مہنگا عمل بھی ہو جاتا ہے۔
اگرچہ آبی قلت کے حوالے سے صورتحال تشویشناک ہے لیکن اس سے بھی زیادہ تشویشناک یہ بات ہے کہ پاکستان میںآنے والی ہر حکومت کی جانب سے اس بحران پر مناسب ردعمل کابدستور فقدان رہا ہے،چنانچہ دیکھا جائے تو یہاں اصل بحران حکمرانی کا بحران ہے جس کی وجہ سے آبی بحران سے بچنے کی راہیں تلاش نہیں کی جاسکیں۔ پاکستان جیسے ملک کے لئے آبی ذخائر کی مناسب گنجائش کا ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ ہمارے ہاں مون سون کے تین مہینوں میں سالانہ 60 فیصد بارش ہوتی ہے اور دریا میں سیلاب کا پانی بحیرہ عرب میں جا کر ختم ہو تا ہے، پاکستان میں 3 بڑے آبی ذخائر میں ذخیرہ کرنے کی گنجائش اوسط سالانہ بہا ؤکا صرف 9 فیصد ہے جبکہ اس حوالے سے مقررہ عالمی اوسط تقریبا ً40 فیصد ہے، یہ بات ہر کوئی جانتا ہے کہ ہمارے آبی ذخائر کی گنجائش مٹی بھرنے کی وجہ سے ختم ہو رہی ہے تاہم اگر موجودہ آبی ذخائر کی گنجائش ختم نہ بھی ہو رہی ہوتب بھی ہمیں پانی کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر مزید ذخائرقائم کرنے کی ضرورت تھی، بد قسمتی سے یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتیں نئے آبی ذخائر کی تعمیرسے متعلق بین الصوبائی اتفاق رائے پیدا کرنے میں ناکام رہی ہیں جس کے نتیجے میں ہر سال تقریباً29 ملین ایکڑ فٹ سیلابی پانی ضائع ہو جاتا ہے ، اسی طرح بہت سے ممالک نے پانی کی بچت کے جدید طریقے اپنائے ہیں ،اسرائیل ، جوخود پانی کی کمی کا شکار ملک ہے ،وہ پانی کی بچت کے حوالے سے قابل تقلید سمجھا جاتا ہے ،اس نے ڈرپ آب پاشی کے ایسا جدید طریقہ متعارف کرایا ہے جس سے بڑے پیمانے پر پانی کی بچت ہو رہی ہے ،اسرائیل اور سنگا پور بالترتیب اپنی آب پاشی کی25اور40 فیصد ضرورت ضائع کئے جانے والے پانی کے دوبارہ استعمال کے ذریعے پوری کرنے کے حوالے سے بھی دنیا میں نمایاں ہیں ،اس کے برعکس پاکستان نے پانی کی بچت کے حوالے سے کوئی اقدام نہیں کیا۔
پاکستان کا زرعی شعبہ، جو کل دستیاب پانی کا تقریباً95 فیصد استعمال کرتا ہے، ابھی بھی آبپاشی کے پرانے اور پانی کے ضیائع کا باعث بننے والے طریقے استعمال کر رہا ہے جیسا کہ نہری نظام کے آبی پاشی کے نتیجے میں صرف39 فیصد پانی درحقیقت کھیتوں میں استعمال ہوتا ہے اور61 فیصد پانی کی ترسیل کے دوران ضائع ہو جاتا ہے۔ ان خامیوں اور بڑھتے ہوئے آبی بحران کے باوجود پارلیمنٹ، صوبائی اسمبلیوں اور ان کی متعلقہ قائمہ کمیٹیوں نے شاید ہی اس مسئلے پر بحث کی ہو یا حکومت کواس کی عدم فعالیت کا ذمہ دار ٹھہرایا ہو، دراصل آبی مسائل کا حل حکومتی پالیسی بیانیے میں ہی شامل نہیں ہے،آبی مسئلے سے متعلق حکومت اور مقننہ کی غیر سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے سوال اٹھتا ہے کہ آیا واقعی آبی بحران ہے یا یہ ناقص حکمرانی کی وجہ سے پیدا ہونے والا بحران ہے؟( بشکریہ، عرب نیوز، ترجمہ:راشد عباسی)

مزید دیکھیں :   G20 کانفرنس دعوے اور الزام کا لٹمس ٹیسٹ