ساکھ کا بحران

سابق وزیر اعظم عمران خان نے امریکی ٹی وی سی این این کی اینکر بیکی انڈرسن کو انٹرویو دیتے ہوئے ملک میں حکومت کی تبدیلی کو کئی خلیجی ملکوں میں امریکہ کے رجیم چینج آپریشن جیسا قرار دے کر امریکی اہلکار ڈونلڈ لوکی برطرفی کا مطالبہ کیا ہے۔عمران خان نے کہا ہے کہ اس عمل کے بعد ملک میں امریکہ مخالف جذبات بڑھ گئے ہیں حالانکہ وہ امریکہ مخالف نہیں ۔ٹرمپ کے دور میں ان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر رہے مگر جوبائیڈن کے آتے ہی رویے بدل گئے ۔بیکی انڈرسن وہی اینکر پرسن ہیں جن سے انٹرویو کے دوران عمران خان نے امریکہ کے فوجی اڈوں کی خواہش کے سوال کے جواب میں ”ابسولیوٹلی ناٹ ” کہا تھاجسے سارے فساد کی جڑ کہا جارہا ہے ۔چند دن قبل سابق سفیر عبدالباسط نے بھی ایک ٹویٹ میں اسی موقف کا اظہار کیا تھا کہ پاکستان میں امریکہ کی ساکھ بری طرح متاثر ہو رہی ہے اس امریکہ کو اس کی فکر کرنی چاہئے۔حقیقت یہ ہے کہ امریکہ پاکستان میں ساکھ کے شدید بحران کا شکار ہو گیا ہے۔ایک بڑی اور طاقت کے کھیل کی اہم حصہ دار جماعت اور شخصیت اس وقت تلوار سونت کر عوام کے اندر گھوم کر دنیا سے یہ نہیں پوچھ رہے کہ مجھے کیوں نکالا ؟بلکہ وہ دنیا کو بتا رہے ہیں امریکہ سے آنے والے ایک سائفر نے ان کی حکومت کو نکالنے کے لئے نادرشاہی فرمان کا کام دیا ۔مقامی لوگوں نے عجلت اور خوف کے عالم میں اس خط پر عمل درآمد کرایا ۔دلچسپ بات یہ کہ لوگ اس کہانی پر اعتبار کرچکے ہیں ۔ایک ایسا ہی کتبے کی عبارت کو خصوصی شہرت ملی تھی کہ امریکہ کی بجائے بیگم کی غلامی کیوں نہ کریں امریکہ ہمیں سحری کو پراٹھے بنا کر کھلاتا ہے کیا ؟ ۔ پاکستان میں حکومت کی تبدیلی اب گلی کوچوں کا موضوع بن گیا ہے ۔نتیجتاً امریکہ کا کردار اور ساکھ بھی زیر بحث آتی ہے ۔امریکہ اپنی ساکھ کے حوالے سے حساس رہتا ہے وہ عملی طور پر کسی بھی ملک کچھ بھی کرے مگر اسے یہ فکر دامن گیر رہتی ہے کہ خلق خدا اس کے بارے میں کیا رائے رکھتی ہے۔امریکہ نے پاکستان کو روس اور چین کی طرف لڑھکنے کے خوف سے خود جھپٹنے کا حیران کن فیصلہ کیا۔چند برس سے بالخصوص پرویز مشرف حکومت میں ڈورن حملوں اور عافیہ صدیقی سزا جیسے اقدامات کے بعد امریکہ نے پاکستان کے سیاسی معاملات میں کھلے بندوں مداخلت کی پالیسی میں کچھ تبدیلی پیدا کی تھی ۔امریکہ زیادہ تر کارروائیاں پس پردہ رہ کر عرب ملکوں کے ذریعے کرتا تھا ۔اس کے لئے سعودی عرب کو سب سے مناسب ملک سمجھا جاتا تھا کیونکہ سعودی عرب کو پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی جماعتوں پر گہرے اثر رسوخ کا حامل سمجھا جاتا ہے ۔جنرل مشرف کے اقتدار پرقبضے کے بعد امریکہ نے میاں نوازشریف کو ریسکیو کرنے کا کام سعودیوں کے ذریعے کیا تھا ۔اسی طرح بے نظیر بھٹو کو بھی معاملات بیلنس کرنے اور مشرف حکومت کو کسی عدم استحکام سے بچانے کے لئے متحدہ عرب امارت کے ذریعے پاکستان چھوڑنے پر آمادہ کیا تھا ۔یہ ساری صورت گری امریکہ نے پردے کے پیچھے رہ کر کی تھی ۔اس کے بعد بھی متعدد مواقع پر امریکہ نے عرب ملکوں کے ذریعے پاکستان میں اپنا کردار ادا کیا ۔پانچ اگست کے بعد کشمیر کے معاملے پر پاکستان کو زباں بندی کے لئے عرب ملکوں کو ہی استعمال کیا گیا ۔دستانے پہن کر ہونے والی ان کارروائیوں پر امریکہ کے نام پر بظاہر حرف نہیں آیا۔یوں لگتا ہے کہ اس بار عربوں نے امریکہ کی مدد کرنے سے انکار کیا کیونکہ محمد بن سلمان بھی جمال خاشقجی کیس کے بعد بائیڈن انتظامیہ کے پسندیدہ نہیں رہے اور کئی مواقع پر دونوں کے درمیان تلخی واضح جھلکتی رہی ہے۔ پاکستان میں حالیہ سیاسی تبدیلی میں امریکہ تدبیر کی سنگین غلطی کا مرتکب ہوا۔امریکہ اس خوش فہمی میں رہا کہ عمران خان جن کا دردِسر ہیں وہ انہیں سنبھال لیں گے ۔یہ اندازہ غلط ثابت ہوا اور اب عمران خان امریکہ اور مقامی سہولت کاروں کو کوسنے دے رہے ہیں ۔مقامی سیاسی جماعتیں جس قدر مرضی کہہ لیں کہ امریکہ کی بجائے یہ سار اآپریشن خود انہوں نے انجام دیا ہے مگر پاکستانی عوام کا اجتماعی ضمیر اس مفروضے کو قبول نہیں کر رہا ۔آج امریکہ کو پاکستان عجیب اور نامانوس سا لگ رہا ہے ۔پاکستان میں یوں عوام کے سیلابی ریلوں اور بڑی جماعتوں کی طرف سے اس کھلی تنقید کا سامنا کم ہی کرنا پڑا ہے جو آج ہورہا ہے ۔امریکہ ان آوازوں کو وینزویلا ،ایران ،شمالی کوریا جیسے ملکوں میں سننے کا عادی ہے ۔ہوگیو شاویز ،فیڈل کاسترو ،احمدی نژاد، معمر قذافی کے لہجے میں پاکستان سے کوئی بولنے لگے گا امریکیوں نے اس کا تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔پاکستان سے کوئی امریکی افسر کے متکبرانہ انداز پر احتجاج کرکے برطرفی کا مطالبہ کرے گا یہ بھی نیا اور اجنبی منظر ہے ۔پاکستان جیسے ملکوں سے امریکہ صرف ”یس باس” سننے کا عادی ہے اور اسی عادت نے امریکہ کو ڈومور کی گردان کرنے کی راہ پر ڈال رکھا ہے۔امریکیوں نے جس پاکستان کو مٹھی میں بند رکھنے کی خاطر بے تدبیری کی وہ پاکستان بند مٹھی سے ریت کی مانند ذرہ ذرہ ہو کرمٹھی سے نکل رہا ہے ۔عمران خان نے بائیڈن انتظامیہ کو سارے حالات کا ذمہ دار قرار دے کر امریکی اپوزیشن کو بائیڈن کے خلاف ایک ہتھیار فراہم کیا ہے ۔اس طرح پاکستان کا بحران امریکی سیاست کو بھی کسی نہ کسی انداز سے متاثر کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔

مزید دیکھیں :   ٹی ٹی پی کے ساتھ امن مذاکرات