مشرقیات

اشیائے صرف کی یا تو قلت ہو یعنی سپلائی میں مشکلات ہوں ‘ یا پھر قیمتوں میں کسی بھی وجہ سے اضافے کا رجحان ہو تو ایسی صورت میں یا تو متبادل کا بندوبست کیا جانا چاہئے ‘ یا پھر ذرا صبر سے کام لیتے ہوئے محولہ اشیاء کے استعمال میں کمی کی جانی چاہئے ‘ جیسا کہ ایک کہانی کسی مغربی ملک کے حوالے سے بہت ہی مشہور ہے کہ وہاں انڈوں کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیاتو خواتین کی انجمن نے ایک اجلاس میں اس کا حل یہ نکالا کہ اپنے اہل خانہ کو انڈوں کے استعمال کا بائیکاٹ کرنے پر آمادہ کیا ‘ بس پھر کیا تھا ‘ انڈوں کی جگہ دیگر اشیاء یعنی ٹوسٹ پر مکھن اور جام لگا کر ناشتے میں شامل کیا گیا ‘ ادھر انڈوں کی سپلائی تواتر سے جاری تھی مگر خریدارکوئی نہ رہا ‘ یوں انڈے خراب ہونے لگے تو اٹھا کر پھنیک دوباہر گلی میں والی صورتحال ہو گئی ‘ اور پھر گروسری والوں کو گھٹنے ٹیکنے ہی پڑے ‘ قیمتیں اعتدال پر آہی گئیں ‘ تاہم ہمارے ہاں جیسا کہ اوپر کی سطور میں عرض کیا جا چکا ہے ‘ گنگا الٹی بہتی ہے ‘ادھر ضرورت کی کسی چیزکی قیمت میں اضافہ ہوا ادھر یارلوگوں نے ان کا اس خوف سے کہ قیمتوںمیںمزید اضافہ نہ ہو جائے ذخیرہ کرنا شروع کر دیتے ہیں جس سے قیمتوں میں نہ تو استحکام آتا ہے نہ کمی ہمارے ہاں بھی اگرچہ کوئی چیز بھی اب سستی نہیں رہی لیکن بہرحال بعض چیزیں اچانک مہنگی کر دی جاتی ہیںجس میں ٹماٹر بھی شامل ہے جہاں تک ٹماٹروں کے متبادل کا تعلق ہے تو ماسوائے مخصوص ہانڈیوں کے ‘ باقی ہانڈیوں میں ٹماٹر کے متبادل کے طور پر دہی ‘ آلو بخارا یا املی بھی استعمال کرکے ”ترشی” کا اہتمام کیا جا سکتا ہے ‘ لیکن ایسا کرنے کو کم ازکم خیبر پختونخوا کے معاشرے میں کوئی بھی تیار نہیں ہوتا اور وہ ٹماٹر ہی کے استعمال پر مصر رہتے ہیں ۔گندے اور سڑے ہوئے ٹماٹر تو ایک وقت تھا جب یار لوگ گندے ‘ ناکارہ اور سڑے ہوئے ٹماٹروں کو ٹوکریوں میں بھر کر اپنے ساتھ تھیٹروں میں لے جایا کرتے تھے اور اگر کوئی اداکار ڈرامے میں فنی کمزوری دکھاتا تو نیچے سے تماشائی انہی گندے ٹماٹر ان کو مار مار کر سٹیج سے بھگا دیتے ‘ بعد میں سیاسی جلسوں میں بھی انہی گندے ٹماٹروں سے ”لوٹوں” کی درگت بنانے کا کام لیا جانے لگا ‘ مگر اب ” عناصر میں اعتدال کہاں” کہ اس مہنگائی کے ہاتھوں لوگ اس قدرعاجز آچکے ہیں بلکہ ”گھبرانے لگے ہیں” کہ اب خود بازار جا کر داغدار یا کوالٹی کے لحاظ سے کمزور ٹماٹر خریدنے پرمجبور ہیں کیونکہ ان کی قیمتیں جس طرح بام عروج کی جا نب گامزن ہیں ‘ غریب آدمی کو تو رکھئے ایک طرف ‘ عام متوسط طبقے کے لوگ بھی ہانڈیوں میں ٹماٹر ڈالنا ”عیاشی” کے زمرے میں شمار کرتے ہیں ‘ اور نیم داغدار ٹماٹر سستے داموں حاصل کرکے ہانڈی کو ذائقہ دار بنانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔