لانگ مارچ کا حاصل؟

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے لانگ مارچ کاڈرامائی اختتام کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو چھ دن کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے کہا ہے کہ امپورٹڈ حکومت کو چھ دن دے رہا ہوں،اگر الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہ کیا تو پوری قوم کو لے کر پھر سے اسلام آباد آئوں گا۔اسلام آباد کے جناح ایونیو میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے لانگ مارچ ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ فیصلہ تو یہی کیا تھا کہ یہاں آ کر بیٹھ جائوں گا مگر24گھنٹے میں جو حالات دیکھے، اس سے ظاہر ہے کہ یہ ہمیں پولیس اور فوج سے لڑانا چاہتے ہیں۔ سابق وزیراعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چھ دن میں الیکشن کی تاریخ کا اعلان کریں اور اسمبلیاں توڑ دیں۔ اگر ایسا نہ ہوا تو30لاکھ افراد کو لے کر پھر اسلام آباد آئوں گا ۔ دوسری جانب وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے چیلنج قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان تیس نہیں چھ لاکھ افراد اسلام آباد لائیں تو ان کا مطالبہ بخوشی تسلیم کیا جائے گاہر دو دعوئوں سے قطع نظر لانگ مارچ کا اس طرح پراسرار انداز میں اختتام بالکل غیر متوقع فیصلہ تھا جس کی مصلحت تحریک انصاف کے قائدین ہی کو معلوم ہو گی مارچ کے اعلان کے لئے پریس کانفرنس سے خطاب کے موقع پر شاہ محمود قریشی کو جو پراسرار کال آئی تھی اس میں ٹریپ کرنے کی جو دھمکی دی گئی تھی کیا اس طرح کی کوئی پراسرار کال موصول ہوئی تھی یا پھر تحریک انصاف کی قیادت حالات سے مجبور اور کارکنوں کی تعداد سے مطمئن نہیں تھی یا پھر عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے بعد آزادی کا جس طرح غیر ذمہ دارانہ انداز میں فائدہ اٹھایا گیا اس سے قیادت کو ایک قدم پیچھے ہٹنے پر مجبور ہونا پڑا بہرحال یہ سارے امکانات کی بات ہے جس سے قطع نظرتحریک انصاف کے قائد کی جانب سے حکومت کو صرف چھ دن دیئے گئے ہیں اگرچہ ظاہری طور پر حکومت کی جانب سے تحریک انصاف کی قیادت سے کسی قسم کے مذاکرات کا عندیہ نہیں دیاگیا اورحکومتی نمائندوں نے مقررہ وقت پر نہ آکر حکومت نے اس کا عملی اظہار بھی کیا نیز تحریک انصاف کے مبینہ رابطوں کو بھی پذیرائی نہیں دی گئی لانگ مارچ کی صورتحال سے نمٹنے میں حکومت عدالتی فیصلے سے قبل مشکلات کا شکار بھی دکھائی نہیں دے رہی تھی لیکن ان تمام عوامل سے قطع نظر جس طرح اچانک لانگ مارچ کے اختتام کا اعلان کیا گیا ہے اس سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ درپردہ کسی نہ کسی قسم کی پیشرفت ضرور ہوئی ہو گی جو آنے والے ہفتے میں سامنے آسکتا ہے اور اگر دی گئی ڈیڈ لائن گزرنے کے باوجود کوئی پیشرفت نہ ہوئی تو یہ تحریک ا نصاف کی قیادت کے لئے بہت بڑا چیلنج ہو گا اس کے ساتھ اس سے بھی بڑا چیلنج ایک لاحاصل لانگ مارچ کے چھ دن بعدتیس لاکھ افراد کے ساتھ اسلام آباد کی طرف مراجعت کیسے ہو گی اس سوال کا جواب مشکل نظر آتا ہے بہرحال لانگ مارچ کا پرامن اختتام ایک احسن قدم ہے جاری صورتحال سے نکلنے کے لئے حکومت اور فریق مخالف کے درمیان مذاکرات اور مفاہت ہی موزوں راستہ ہے جسے اختیار کرکے کسی نتیجے پر پہنچنے کو عار نہ سمجھا جائے جتنا جلد ممکن ہو سیاسی بحران کا خاتمہ ہونا چاہئے ۔
پولیس رے پولیس تیری کونسی کل سیدھی
عدالت عالیہ کی جانب سے تھانہ گلبرگ کی حدود میں ایک ہی وقت میں دس منٹ کے وقفے سے چار مختلف مقدمات کے اندراج کی انکوائری کا حکم دیتے ہوئے کہاگیا ہے کہ کس طرح ایک ہی جائے وقوع پر دس منٹ کے وقفے سے چار مقدمات درج ہوئے عدالت کی جانب سے حکم کے بعد اس بارے میں انکوائری رپورٹ سے قطع نظراس طرح کے مضحکہ خیز مقدمات کے اندراج سے ہماری پولیس کا وہ چہرہ سامنے آتا ہے جس کی شکایت عام ہے پولیس چاہے تو دس منٹ کے وقفے میںایک ہی وقوعہ پر جتنے مرضی مقدمات کا اندراج کرے اور اگرنہ چاہے تو مظلوموں کو مقدمے کے اندراج کے لئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے پر مجبور ہونا پڑتا ہے نیز پولیس اکثر مقدمہ درج کرکے سردردی مول لینے کی بجائے روزنامچہ میں اندراج کرکے جان چھڑا لیتی ہے جب تک اس طرح کے معاملات سامنے آتے رہیں گے نہ تو پولیس قانون کی پابند ہو سکے گی اور نہ پولیس کی کارکردگی بہتر ہو گی اور نہ ہی عوامی شکایات کا ازالہ ممکن ہو گا۔شہر میں اسلحہ دکھا کر موبائل چھیننے کی وارداتوں کی روک تھام میں بری طرح ناکامی پولیس کی ہی ناکامی نہیں حکومتی انتظامات اور حکومت کی عملداری کے لئے کھلا چیلنج ہے بڑھتی وارداتوں سے تو خود پولیس کے ان واقعات میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کا شبہ ہونے لگا ہے وزیر اعلیٰ اور آئی جی کو اس صورتحال پر بھی توجہ کے لئے وقت نکالنے کی ضرورت ہے تاکہ آئے روز شہریوں کو لوٹنے کے سلسلے کا خاتمہ نہ ہو تو اس میں کمی ضرور آسکے۔
خود کردہ را علاج نیست
اسلام آباد میں کافی کا عدم دستیابی کا مسئلہ حکمران جماعت کے رکن قومی اسمبلی کی جانب سے ایوان میں اٹھائے جانے سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ ہمارے غمخواروں کی ترجیحات کیا ہیں کافی عام آدمی کا مسئلہ نہیں عام آدمی کا مسئلہ مہنگائی ‘ بیروزگاری ‘ گیس و بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور ان کے نرخوں میں اضافہ صحت و تعلیم کی ضروریات جیسی بنیادی چیزیں ہیںہمارے اراکین اسمبلی خواہ وہ حکومتی بینچوں کی نمائندگی کر رہے ہوں یا پھر حزب اختلاف میں بیٹھے ہوں کم و بیش ان کی ترجیحات اور رویہ مختلف نہیں ہوتے محولہ مطالبے کو مشتے نمونہ ازخروارے قراردے کر دیکھا جائے تو عوامی مسائل کے حل میں ناکامی کسی قسم کی مشکلات کی وجہ سے کم اور عدم ترجیح کا باعث زیادہ نظر آئے گااس طرح کے عوامی نمائندوں سے عوام کی کیا توقعات وابستہ ہو سکتی ہیں جن کو کافی ملنے میں مشکل ہوتو ایوان میں سوال ا ٹھا دیتے ہیںاور مشکلات کا شکار عوام کے مسائل ان کو نظر ہی نہیں آتے مشکل امر یہ ہے کہ عوام کے پاس جب فیصلے کا موقع آتا ہے تو عوام انہی عناصر کو دوبارہ نمائند ہ چننے کی غلطی کرتے ہیں ۔عوام کو اس طرح کے عناصر کا چہرہ یاد رکھنا چاہئے اور فیصلے کے وقت کسی مفاد اور تعصب کی بجائے ایسے نمائندے چننے چاہئیںجن کو اسمبلی میں جا کر عوام کی مشکلات یاد رہیں۔