آئی ایم ایف سے قرضے کے حصول میں مشکلات

عالمی مالیاتی ادارے(آئی ایم ایف)نے پاکستان کو پروگرام کی بحالی کے لئے بجلی اور پیڑولیم مصنوعات پر سبسڈی ختم کرنے پر زور دیاہے جبکہ وزارت خزانہ کی جانب سے بین الاقوامی مالیاتی ادارے(آئی ایم ایف)کے پروگرام کے تحت پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی پر سبسڈی ختم کرنے کا عندیہ دیا گیاہے۔وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ شوکت ترین آئی ایم ایف سے جو معاہدہ کر کے آئے تھے اس کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں150روپے تک اضافہ ہونا چاہئے۔تاہم وزیر اعظم نے کہا ہے کہ اس وقت یہ قوم قیمتوں میں اضافے کے متحمل نہیں ہوسکتی میں مانتا ہوں کہ سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ قیمتیں بڑھائیں گے لیکن ہمیں اس کے لئے کچھ وقفہ دیا جائے۔گو کہ وزیر اعظم کے انٹرویو میں انگریزی کے محاورے کے استعمال پر تنقید تو شدمد سے کی گئی تھی لیکن واقعی پاکستان کے پاس کوئی دوسرا ذریعہ اور طریقہ نہیں اس لئے جلد یا بدیر آئی ایم ایف کی شرائط کے سامنے سر تسلیم خم کرنا پڑے گا رخصت شدہ حکومت نے بھی اتفاق کرکے عملدرآمد شروع کر دیا تھا پھر سیاسی دائو پیچ کے تحت دم رخصت عوام کو ریلیف دینے کا دعویٰ کیا گیا جو موجودہ حکومت کے گلے کی ہڈی بن چکا ہے یہ ایک ایسی صورتحال ہے جس میں ایک جانب کنواں دوسری جانب کھائی والا معاملہ ہے جس میں سے بالاخر کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے قیاس ہے کہ بالاخر حکومت کنویں میں چھلانگ لگائے گی اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ واضح رہے کہ حکومت پاکستان کی یقین دہانی پر ہی رواں سال فروری میں عالمی مالیاتی ادارے نے حکومت کو ایک ارب ڈالر کا قرض دیا تھا۔ملکی معیشت کے حوالے سے کوئی فیصلہ اور بین الاقوامی امدادی یعنی قرض دینے والے ادارے سمیت دیگر ممالک سے معاشی امداد اور قرض کے حوالے سے کسی قسم کے معاہدے کے لئے ملک کے اندر ساز گار فضاء اور مستحکم حکومت کی ضرورت ہوتی ہے اس کے بغیر کوئی بھی بھاری رقم دینے اور کسی عارضی حکومت کے حوالے کرنے پر تیار نہیں ہوتی جس وقت وزیر خزانہ آئی ایم ایف سے مذاکرات کر رہے تھے صرف اس وقت ہی نہیں بلکہ قبل ازیں تحریک انصاف کی رخصت شدہ حکومت کے دور میں بھی ملک میں سیاسی استحکام کا بری طرح فقدان تھا موجودہ حکومت میں شامل جماعتوں اور اتحادیوں کی جانب سے ایک ایسے موقع پر جب آئی ایم ایف سے مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں تھے یہ دیکھے بغیر کہ اس وقت ملک کی معاشی صورتحال کا تقاضا کیا ہے اس حکومت کے خلاف پوری قوت سے عدم اعتماد کی تحریک لائی گئی جس کی کامیابی کے بعدحکومت تو تبدیل ہوئی لیکن جس طرح کا سیاسی عدم استحکام اور خاص طور پر صوبہ پنجاب میں جس قسم کی عجیب و غریب صورتحال بن چکی ہے وہ اہل وطن کے لئے نہایت دکھ اور تشویش کی بات ہے اس سے بھی بڑھ کر تشویشناک امر یہ ہے کہ فریقین اپنے سیاسی اختلافات کے لئے کوئی جمہوری راستہ تلاش کرنے پر ہنوز آمادہ نہیں اور یہ تماشا جاری ہے جبکہ حکومت سے محروم ہونے کے بعد تحریک انصاف جس طرح بپھری ہوئی ہے اور ہر قیمت پر حکومت کی مدت اقتدار کم کرکے انتخابات کے اعلان پر زور دے ر ہی ہے وہ بھی سیاسی طور پر ان کی حکمت عملی تو ہو سکتی ہے لیکن ملکی مفاد کا تقاضا اس کے برعکس ہے کسی ایک فریق کو الزام دیئے بغیر دیکھا جائے تو خواہ حکومت وقت ہو یا مخالف سیاسی جماعتیں کسی بھی جانب سے ملکی معیشت اور استحکام کے لئے مصلحت اختیار کرنے کے لئے کوئی بھی آمادہ نہیں اس قسم کی صورتحال کا ملکی معیشت اور غیر ملکی قرضوں کے حصول پر منفی اثرات یقینی ہیںجس کا تقاضا ہے کہ اب سیاسی ہار جیت لانگ مارچ کی کامیابی اور ناکامی اور جلسے جلوسوں کی تعداد اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سمیت ہر قسم کے حربوں کو ایک طرف رکھ کر ملکی معیشت کی خاطر کوئی درمیانی فارمولہ وضع کرنے کی ضرورت ہے جس میں ہر فریق کی منہ چھپائی کا اہتمام ہو۔سیاسی جماعتیں اورحکومت اگر ملک اور عوام کے مسائل اور مشکلات میں کمی نہیں لا سکتے تو کم از کم اس میں اضافے کا سبب تو نہ بنیں۔