ایران سے جوہری معاہدہ ختم ہو گیا ہے

امریکی ریپبلکن سینیٹر لِنڈسے گراہم نے زور دے کر کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ختم ہو گیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک اچھی بات ہے۔دبئی سے نشریات پیش کرنے والے العربیہ چینل اور اس کے برادر ٹی وی الحدث کو دیے گئے بیان میں انہوں کہا کہ ہمیں ایران کو یہ بتانا چاہیے کہ جوہری مواد جمع کرنے کی کوشش کے کیا نتائج برآمد ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میرے خیال میں جوہری پروگرام سے باہر ایران کے رویے کو روکنے کے لیے ہمارے پاس مزید جامع حکمت عملی ہونی چاہیے۔امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے چیئرمین ڈیموکریٹک سینیٹر باب مینینڈیز نے کہا ہے کہ انتظامیہ کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے کیسے روکے گی جب کہ دونوں فریقوں کے درمیان سفارتی معاہدے کے امکانات بہت کم دکھائی دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 2015 کے جوہری معاہدے کی طرف واپس جانا قریب نہیں ہے اور یہ امریکا کے اسٹریٹجک مفاد میں بھیی نہیں ہے۔ ہمیں آگے کیا ہوگا اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہمیں آپ کا منصوبہ سننے کی ضرورت ہے۔
جنہوں نے 2015 کے معاہدے کی مخالفت کی تھی اپنے سوالات کو امریکی ایلچی راب میلے کو بھیجے اور ان سے پوچھا کہ آپ کا پلان بی کیا ہے؟ کیونکہ میں نہیں جانتا کہ وہ منصوبہ کیا ہے؟کچھ قانون سازوں نے ایران کی سماعت کے دوران یہ بھی کہا کہ بائیڈن انتظامیہ کو موجودہ پابندیوں کو مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے۔ ایران چین کو تیل کی بڑی مقدار فروخت کرکے امریکی پابندیوں سے بچنے کی کوشش کررہا ہے۔ ہمیں ایران کو چین کو تیل فروخت کرنا رکوانا ہو گا۔دوسری طرف راب مالی نے تسلیم کیا کہ چین ایرانی غیر قانونی تیل کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے۔
ایک ممتاز ریپبلکن سینیٹر جم رِش نے کہا کہ پابندیوں کا نفاذ "دانتوں کے بغیر” تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی چین کو تیل برآمد کرنے کی صلاحیت ایک "بڑا مسئلہ” ہے۔ایران سے جوہری معاہدے کے سب سے بڑے ناقد مارک ڈوبووٹز نے بھی جوبائیڈن انتظامیہ کو ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی کوششوں پر آڑے ہاتھوں لیا۔ ڈوبووٹزایک تھنک ٹینک فاونڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔ڈوبووٹز نے کہا کہ اگر یہ معاہدہ بحال ہوا تو ایران کو اس معاہدے کے قواعد کے تحت جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت ہو گی جو اگلے سات سال میں ایٹمی طاقت بن جائے گا۔