چھ دن بعد۔۔۔۔؟

25 مئی کو طے شدہ پروگرام کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف کا قافلہ خیبر پختونخوا سے برآمد ہوا تو راستے میں جگہ جگہ پرلوگوں نے انکا استقبال کیا اور راستوں میں کھڑی رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے شرکا جلسہ تقریباً آدھی رات کو اسلام باد پہنچے ۔ لیکن اتنی طویل مسافت طے کرنے کے بعد عمران خان نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کے سامنے دو بڑے مطالبات رکھ کر جلسہ کوختم کرنے کا اعلان کردیا۔ عمران خان نے حکومت کو الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا کہ وہ چھ دن کے اندر اندر اسمبلیاں تحلیل کرکے ملک میں نئے انتخابات کا اعلان کریں بصورت دیگر وہ عوام کو لے کر ایک بار پھر اسلام آباد کی طرف مارچ کرینگے۔ جلسے میں موجود شرکاء کی اکثریت کو انکے لیڈر کی طرف سے ایسے غیر متوقع اعلان پر مایوسی ضرور ہوئی لیکن عمران خان نے کہا کہ انہوں نے حالات کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے ایسا قدم اٹھا یا ہے۔ عمران خان نے دھرنے کو ختم کرنے کے لئے دلیل پیش کی کہ حکومت ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پولیس اورفوج کو عوام سے لڑاکر ملک میں بدامنی اور انتشار پھیلا کر اپنی حکومت کو طول دینا چاہتی ہے لیکن وہ ایسا ہرگز نہیں ہونے دینگے۔دھرنے کو یوں غیر متوقع طور پر ختم کرنے کے پیچھے عوامل جو بھی ہوں اسکا ذکر کرنا یہاں مقصود نہیں ہیں لیکن اتنا ضرور بتاتا چلوں کہ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔عمران خان اس امید پر دھرنا ختم کرنے کا اعلان کرگئے کہ یکم جون سے پہلے پہلے حکومت کی طرف سے انتخابات کا اعلان ہوجائے گا، انکا یہ یقین محکم کسی مقتدر ادارے کی طرف سے کسی ٹھوس ضمانت کے سبب ہے یا اپنی سیا سی اور عوامی طاقت کے بل پر، لیکن یہاں پراہم سوال یہ ہے کہ اگر عمران خان کی خواہش پر حکومت چھ دن کے اندر اندر اسمبلیاں تحلیل کرکے نئے انتخابا ت کا اعلان نہیں کرتی تو کیا عمران خان کے لئے ایک بار پھر مختصر نوٹس پر عوام کو اسلام آباد بلانا ممکن ہوسکے گا؟ وزیر اعظم شہباز شریف نے مدت پوری کرنے کا ببانگ دہل اعلان اسمبلی کے فلور پر کر دیا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ کی نائب صدر مریم نواز پہلے ہی واضح کرچکی ہیں کہ حکومت انتخابات کے موڈ میں نہیں ہے۔دوسری طرف حکومت کے اتحادی بھی قبل از وقت انتخابات کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ حکومتی اتحاد میں شامل اکثر لوگوں کی رائے ہے کہ اگر قبل از وقت انتخابات کا اعلان کردیا جاتاہے تو عوامی حلقوں میں اسے تحریک انصاف کی کامیابی سے منسوب کیا جائے گا۔ اسی لئے مریم نواز نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بڑے واشگاف الفاظ میں اعلان کیا کہ اگر حکومتی حلقوں میں پہلے قبل از وقت انتخابات کرانے کے حوالے سے کوئی سوچ تھا بھی تو اب انکے امکانات بالکل معدوم ہوگئے ہیں۔دوسری طرف حکومت کے لئے بھی دن مشکل سے مشکل ہوتے جارہے ہیں۔ ہوشربا مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے۔ عام اشیا کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔ایسے میں پچیس مئی کو ہی قطر کے دارلحکومت دوحا سے خبر آئی کہ آئی ایم ایف اور حکومتی وفد کے مابین مذاکرات کا ساتواں دور تقریبا بے نتیجہ رہا کیونکہ آئی ایم ایف نے اگلی قسط کو پٹرول، ڈیزل اور بجلی کی مد میں حکومت کی طرف سے دی جانے والی سبسڈی کو ختم کرنے سے مشروط کردیا ہے۔ اگر آئندہ بجٹ سے پہلے پہلے آئی ایم ایف سے مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکے تو حکومت کے لئے نئی مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں اور اگرحکومت آئی ایم ایف کی شرائط کو مان لیتی ہے تو انہیں عوام کے غم و غصے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ وہ بھی ایک ایسے وقت میں کہ انتخابات کا مرحلہ کسی بھی وقت سر پر پہنچا ہی چاہتا ہے۔ حکومت کیلئے ان مشکل حالات میں ایک نیا چیلنج انکے اتحادیوں کا رویہ ہے۔اگر دیکھا جائے تو عمران خان کے آزادی مارچ کو روکنے کے لئے حکومت نہیں بلکہ صرف اور صرف پاکستان مسلم لیگ ہی صف اول میں نظر آئی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی پوری سیاسی قیادت اس وقت ملک سے باہر ہے۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری امریکہ، چین سے ہوتے ہوئے سوئٹزرلینڈ پہنچے ہیں اسکے علاوہ وفاقی وزراء شیری رحمن اور شازیہ مری سوئٹزر لینڈ کی پرفضا مقامات میں موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے ہونے والی نرم و گرم بحثوں میں سوئٹزرلینڈ کی بھینی بھینی خوشبووں سے لطف اندوز ہورہی ہیں ۔ دوسری طرف مولانا فضل الرحمن کو انہی دنوں میں ہی حجاز مقدس کی یاد ستانے لگی کہ اپنے اتحادیوں کو یوں اکیلا چھوڑکر سوئے حرم چل دیئے۔اسی دوران حکومتی اتحادی بلوچستان عوامی پارٹی کی طرف سے بھی حکومتی رویے کے خلاف شکوے شکایتیں سامنے آئی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد بلوچستان عوامی پارٹی کے خالد مگسی نے پارلیمنٹ میں تقریر کے دوران کہا تھا کہ تحریک ہمارے چار ووٹوں سے ہی کامیاب ہوئی ہے۔ اگر آج ان چار اہم ووٹران کا اعتماد کسی بھی لمحے حکومت پر متزلزل ہوجاتا ہے تو نتیجہ ہم سب کے سامنے ہے۔ اسی سیاسی کشمکش اور بد ترین معاشی بد حالی کے تناظر میں حکومت کے پاس اگر کوئی راستہ ہے تو بس یہی کہ جلد سے جلد اسمبلیاں تحلیل کرکے نئے انتخابات کا اعلان کیا جائے۔

مزید دیکھیں :   سابق حکومت کی نا اہلی کی گردان!