سی پیک کیلئے موجودہ حکومت کاعزم

سی پیک چین کے ایک پٹی، ایک شاہراہ پروگرام (بی آر آئی) کا اہم منصوبہ ہے جو 2013ء میں اپنے آغاز کے بعد سے ہی علاقائی و عالمی طاقتوں کی نظروں میں کھٹک رہا ہے اور گاہے بگاہے یہ دہشت گردوں کا ہدف بھی بنا ہے۔ پاکستان نے اپنی اقتصادی ترقی کو سی پیک پر تیزی سے عملدرآمد سے منسلک کر رکھا ہے لیکن بدقسمتی سے2018ء کے بعد پی ٹی آئی حکومت کے تحت اس منصوبے پر کام سابقہ رفتار کے ساتھ آگے نہیں بڑھ سکا۔ پاکستان میں چینی کارکنوں پر ہونے والے حملے اس منصوبے کی پیشرفت میں رکاوٹ نہ ڈال سکے لیکن ایسا لگتا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کے تحت راہداری پر کام میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے، تاہم اب وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ سی پیک کو نئے جذبے کے ساتھ آگے بڑھائے گی۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے بھی سی پیک پر عملد رآمد سمیت چین کے ساتھ پاکستان کے تذویراتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ بلاول بھٹو نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ پاکستان سی پیک کے ذریعے چین کے ساتھ تعاون بڑھائے گا۔
حکومت کی تبدیلی کے بعد سی پیک کے حوالے سے ہونے والی تیزی سے پیشرفت نمایاں ہے، نئے وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے قلمدان سنبھالنے کے فوراً بعد سی پیک پر ہر ماہ سکیورٹی جائزہ اجلاس منعقد کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ (سی پیک) پاکستان کو صنعتی معیشت بنا سکتا ہے۔ ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ پی ٹی آئی حکومت اس منصوبے پر 2013ء تا 2018ء جیسی رفتار برقرار نہیں رکھ سکی، پاکستان کی طرف سے سی پیک کے جوائنٹ ورکنگ گروپ برائے سکیورٹی کے باقاعدہ اجلاس بھی منعقد نہیں کئے گئے، نئی حکومت نے اقتدار میں آنے کے فوراً بعد اعلان کیا کہ وہ سی پیک اتھارٹی کو ختم کرنے جا رہی ہے، اس اتھارٹی کو وسائل کا ضیاع اور سی پیک پر تیزی سے عملدرآمد کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا گیا ہے۔ وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کو سی پیک سے متعلق دی گئی پہلی بریفنگ نے گزشتہ حکومت کے ان دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے کہ منصوبے کے حوالے سے سب کچھ ٹھیک ہے۔ انہیں بتایا گیا کہ چینی سرمایہ کاروں کو واجبات کی عدم ادائیگی کے باعث سی پیک تحت بجلی کے منصوبوں کی 37 فیصد سے زائد یا 1,980 میگاواٹ کی پیداواری صلاحیت ختم ہو چکی ہے۔ انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ 10 چینی آئی پی پیز کے کل واجبات 300 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں، چونکہ موجودہ حکومت کے پاس محدود وقت ہے، اس لئے جہاں تک سی پیک کا تعلق ہے، وہ کم از کم اگلی حکومت کیلئے معاملات کو درست سمت میں لے جانے کیلئے کام کر سکتی ہے۔
دیکھا جائے تو اس منصوبے کے تحت پاکستان میں دیگر شعبوں کے علاوہ زراعت، توانائی، صنعت اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں بھی ترقی کے نمایا ں امکانات موجود ہیں، پاکستان اپنے زرعی شعبے کو جدید بنانے، کارپوریٹ فارمنگ، فصلوں کی پیداوار بڑھانے کیلئے نئے بیجوں کی تیاری، زرعی مصنوعات کی نئی اقسام متعارف کرانے اور زرعی صنعت کے قیام پر توجہ دینے کے چینی تجربات سے سیکھ سکتا ہے، ماہرین نے اس شعبے میں تعاون بڑھانے کیلئے ایگری ٹیکنالوجی زونز کی تجویز پیش کی ہے، فیصل آباد زرعی یونیورسٹی اور چینی یونیورسٹیوں کے درمیان تعاون ایک بہت اچھا نقطہ آغاز ہے۔ ایک اور اچھی خبر یہ بھی ہے کہ گلوبل انوویشن سنٹر (جی آئی سی )جو کہ چین میں واقع ایک ادارہ ہے، پاکستان میں اپنا ایک دفتر اور چینی شہر شینزین کے اپنے دفتر میں چائنا پاکستان ٹریڈ، انرجی اور انویسٹمنٹ سینٹر قائم کرنے کی منصوبہ بندی کررہا ہے، جی آئی سی ٹیکنالوجی میں بین الاقوامی تعاون، نئے کاروبار میں معاونت، سائنسی اور تکنیکی صنعتی زونز کے قیام اور کاروباری افراد کی تربیت کے شعبوں میں کام کرتا ہے، اس کے دفاتر امریکہ، برطانیہ، انڈونیشیا اور تھائی لینڈ سمیت دس ممالک میں ہیں۔
ملتان موٹروے کو سی پیک کے سب سے بڑے ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر منصوبے کا حصہ سمجھا جاتا ہے، پاکستان کے دیہی اور زیادہ تر غیر ترقی یافتہ علاقوں سے منسلک اس منصوبے نے تقریباً تیس ہزار لوگوں کو ملازمتیں اور دیہاتیوں کے لیے فوری نقل و حمل کی سہولت فراہم کی ہے۔ ایک اور پیشرفت کے تحت اس سال اپریل میں 120 ہائبرڈ بسیں کراچی اور سندھ کے دیگر شہروں کیلئے چین سے روانہ ہوئیں، یہ بسیں اب کراچی پہنچ چکی ہیں، اس سے کراچی کے لوگوں کو درپیش سنگین مسائل میں سے ایک پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی کا مسئلہ حل ہونے کی امید ہے، اسی طرح لاہور میں اورنج لائن میٹرو ٹرین بھی ایک سستی اور مہذب سفر کی سہولت کی عمدہ مثال ہے، سب سے قابل ذکر پیشرفت ایم ایل ون(ML-1 )منصوبے کی تکمیل ہوگی جس کیلئے چینی حکومت کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں،سی پیک کے تحت اس منصوبے کی تکمیل سے ملک میں 20 فیصد سے زائد مال برداری پاکستان ریلویز سے متوقع ہے جس سے ریلوے کو ایک منافع بخش ادارہ بنانے میں مدد ملے گی، ایم ایل ون پشاور سے کراچی تک 1872ء کلومیٹر طویل ٹریک ہے، اس منصوبے سے تقریباً 24,000 ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع ہے، اہم بات یہ ہے کہ یہ تمام تر پیشرفت اسی وقت مؤثر ثابت ہوگی جب ان منصوبوں کے فوائد صحیح معنوں میں عام آدمی تک پہنچے، درحقیقت جامع ترقی ہی حقیقی ترقی ہے۔
بشکریہ، دی نیوز، ترجمہ:راشد عباسی