تعلیم کا نوحہ

ترقی و تمدن کے لئے سب سے موثر اور ضروری چیز تعلیم ہے اور ہمارے ملک میں تعلیم کے ساتھ جو کھلواڑ جاری ہے اسے دیکھ کر رونا آتا ہے تعلیم کا معیار تعلیم کی قدر و منزلت دونوں ہی نہ ہونے کے برابر ہے ہمارا نظام تعلیم فرسودہ اور طرز تعلیم و طریقہ تعلیم عصر حاضر کی ضروریات سے ہم آہنگ نہیں ہماری اعلیٰ تعلیم کا معیار سوالیہ نشان تو ہے ہی پڑھ لکھ کر فارغ التحصیل نوجوان اس امید پر تعلیمی اداروں سے نکلتے ہیںکہ ان کو معاشرے میں باعزت مقام اور روزگارملے لیکن ان کو جس قسم کی مایوسی کا شکار ہونا پڑتا ہے بلکہ بنا دیا جاتا ہے اسے دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے نظام تعلیم کے آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے کس کس پہلو کو روئیں ایک معلمہ جو سرکاری سکول میں پڑھاتی ہیں اس کی ایک تحریر موصول ہوئی ہے ملاحظہ ہو۔
السلام علیکم!کے بعد عرض کرنا چاہتی ہوں کہ میں ایک استانی ہوں ‘ ہر سال امتحانات کے دنوں میں نقل کی بھرمار پرمیرا دل بہت دکھتا ہے چاہتے ہوئے بھی میں اس روش کو ختم نہیں کر سکتی کیونکہ اس میں پورے کے پورے ادارے ملوث ہیں اب تو سکولوں کو اچھی کارکردگی دکھانے پر پانچ لاکھ کا جو انعام دیا جاتا ہے اس سے نقل کو سرکاری سرپرستی حاصل ہو گئی ہے اب تمام پرنسپل صاحبان اچھے زرلٹ کے چکر میں کمزور طالبات کے پرچے اساتذہ کرام سے حل کروانی لگی ہیں ۔
اس خط کو پڑھ کر تھوڑی دیر کے لئے تو میں مبہوت ہو گئی اور سوچنے لگی کہ ہم کس قدر منفی ذہن میں یکتا ہوتے جارہے ہیں مثبت سوچ تو ہمیں چھو کر نہیں گزری افسر ذرا مثبت سوچ اپنانے کی سعی کرے اور مروج نظام میں اصلاح و شفافیت کی کوشش اپنی حد تک ہی کرے تو اسے کیا کچھ بھگتنا پڑتا ہے بڑی لمبی کہانی ہے پھر کبھی سہی میں تو بعض اوقات سوچتی ہوں کہ پڑھ لکھ کر محنت کرکے مقابلے کا امتحان پاس کرکے اگر جی حضوری ہی کرنی تھی تو کوئی اور کام سیکھا جاتا تو کتنا بہتر ہوتا۔ میںجب آج کل کے نوجوانوں کو فری لانس کرتے دیکھتی ہوں تو دل خوش ہو جاتا ہے کہ کم از کم انہوں نے ایک باعزت روزگار تو اپنا لیا ہے جس میں وہ محنت کے بل بوتے پر رزق حلال اور جتنی محنت اتنا معاوضہ اور اس قدر نفع تو حاصل کر پاتے ہیں ساتھ ہی اپنے حصے کی ملازمت کی جگہ بھی دوسروں کے لئے بطور موقع چھوڑتے ہیں شاباش ہے ان نوجوانوں پر جو بیرون ملک سے کام حاصل کرکے اپنے ملک کے لئے قیمتی زرمبادلہ کما کر دیتے ہیں مگر افسوس ہمارے ہاں ان کی بھی قدر نہیں ان کو بھی اس فیلڈ میں بھی مشکلات سے دو چار کرنے والے قدم قدم پر موجود ہیں آج ہی میری ایک نوجوان سے بات ہوئی جو 80 ہزار روپے مالیت کی چھوٹی موٹی چیزیں بیرون ملک سے منگوا کر آن لائن فروخت کرنے کی تگ و دو میں ہے بذریعہ پوسٹ موصول ہونے والی ان اشیاء کو چھڑانے کے لئے کسٹم والے ان سے پانچ ہزار روپے فی پیکٹ رشوت مانگتے ہیں پانچ پیکٹ کے 25 ہزار دے کر وہ سامان چھڑائے تو ان کو کیا بچے گا اور وہ کاروبار کیسے کرے گا مختصراً ہمارے نظام میں شفافیت کی گنجائش ہی نہیں رہی بات چلی تھی تعلیم سے جو تعلیم یافتہ نوجوانوں کی مشکلات کی طرف نکل گئی بہرحال یہ موضوع ہی کا حصہ ہے جس استانی کا خط آپ نے اوپر ملاحظہ کیا ذرا اندازہ لگایئے کہ یہ ہمارے ہاں کے اساتذہ کرام کا کردار و عمل ہے سرکاری سکولوں کا ویسے بھی آوے کا آوا بگڑا ہوا ہوتا ہے خود اساتذہ اور محکمہ تعلیم کے حکام کے بچے نجی سکولوں میں پڑھنے جاتے ہیں وہاں کی صورتحال بھی کچھ حوصلہ افزا نہیں نجی سکولوں کو بھی سکول کم ٹکسال زیادہ بنا دیا گیا ہے اپنے بچوں کو والدین گھر پر نہ پڑھائیں تو یقین جانیں بچے سکول جا کر بھی ان پڑھ رہ جائیں۔ کس کس بات کا رونا روئیں کس کس چیز کا ماتم کریں جن سرکاری سکولوں میں پانچ لاکھ کے انعام کے لئے اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال ہوتے ہوں وہاں کے طالب علم کیا سیکھ کر جائیں گے اور وہ کیوں کر کچھ سیکھنے کی کوشش کریں گے ماحول ہی نہ ملے تو کچے ذہنوں سے گلہ ہی کیا۔
محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا کے کرتا دھرتا اس خط کو اپنے لئے کلنک کا ایک ٹیکہ سمجھ کر اس طرح کی سعی میں ملوث سکولوں کا کھوج لگائیں اور ان کے عاقبت نا اندیش بلکہ تعلیم دشمن سربراہوں کے خلاف کارروائی کریں جب ایسا ہوتا ہے تو پھر انعامی رقم دینے والوں کو بھی رشوت اور نصف نصف یا کم وزیادہ حصہ دینے کا طریقہ بھی خارج ا زمکان نہیں خوف خدا سے عاری اور اچھائی و برائی کی تمیز اور جائزو ناجائز کی پرواہ سے کوئی عاری ہو جائے تو اس سے کچھ بھی اور مقصد حاصل کرنے کے لئے گراوٹ کی حد سے بھی گرنے کی توقع غلط نہ ہو گانجی سکولوں میں تو طالب علموں سے رقم اکٹھی کرکے اور کچھ سکول مالکان رقم ملا کر ہال خریدنے اور پرچوں کی چیکنگ اور مارکنگ میں رعایت حاصل کرنے کا طریقہ بھی کوئی ڈھکا چھپا نہیں یہ سب مل کر ہی تعلیم کو دفنانے میں نہیں لگے ہیں بلکہ حکومتوں کا بھی اس میں بڑا حصہ ے محولہ حالات کی روک تھام میں ناکامی ہی نہیں گزشتہ حکومت ملک بھر میں یکساں نصاب تعلیم مروج کرنے کا احسن کام کر گئی تو نئے آنے والوں نے اس کو لپیٹ دیا درسی کتب میں سنگین غلطیاں تو معمول ہیں ہر حکومت کی اپنی تعلیمی پالیسی ہوتی ہے جسے وہ بنا تو لیتی ہے مگر رائج کرکے نہیں جاتی نئے آنے والے اسے لپیٹ کر ایک طرف رکھ کر اپنی سوچ کے مطابق کام کرنے لگتے ہیں یوں تعلیم اور نصاب کا معاملہ بازیچہ اطفال بنا ہوا ہے نظام میں خامیاں ہوں اور منتظمین و اساتذہ کرام بدعنوان و نا اہل اور دیانت سے عاری تو بگاڑ کا شکار اس معاشرے میں پلنے والے طالب علموں سے کوئی کیسے توقع وابستہ کرے کہ وہ صحت مند مقابلے کے لئے محنت سے کام کریں گے سوچ سوچ کر ذہن مائوف ہونے لگتا ہے کہ آخر اس کا حل کیا ہو گا اور ہم اس صورتحال سے کیسے نکل آئیں گے سوائے اس کے کہ خدا خوفی کا مظاہرہ کیاجائے ۔
قارئین اپنے مسائل و مشکلات 03379750639 پر واٹس ایپ میسج ‘ وائس میسج اور ٹیکسٹ میسج کر سکتے ہیں