وزیراعظم پہل کریں

وزیراعظم شہباز شریف کی سیاسی مخالفین کو مل بیٹھنے کی پیشکش اور تحریک انصاف کے قائد عمران خان کی جانب سے مذاکرات پر آمادگی کا عندیہ ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کی صورتحال سے نکلنے کا موزوں راستہ ضرور ہے البتہ مذاکرات کے لئے شرائط رکھنا قبل از وقت ہو گا حکومت اور حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت بلکہ حزب اختلاف کی واحد جماعت کے قائدین کے درمیان مذاکرات کی مشترکہ سوچ حوصلہ افزاء امر ہے جس پر اگر فریقین عمل پیرا ہو کر آگے بڑھنے پرآمادہ ہوتے ہیں تو یہ ملک و قوم کے لئے احسن ہو گا ہمارے تئیںسیاسی مذاکرات سے قبل اگردونوں فریق اقتصادی اور معاشی مسائل کے حل کی حد تک مشاورت اور اتفاق رائے پیدا کریں تو یہ ایک اچھی ابتداء ہو گی اور حالات کا بھی یہی تقاضا ہے جبکہ قوم بھی حکومت اور حزب اختلاف دونوں سے یہی توقع رکھتی ہے کہ وہ ملک کے معاشی مسائل اور عوام کو مشکلات سے نکالنے کے ضمن میں اپنا کردارادا کریں گے ۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے جذباتی لب و لہجے میں اس امر کا اعادہ کیا ہے کہ ہم سب مل کر پاکستان کو ایک ایسا ملک بنائیں جس میں اختلاف رائے کو دشمنی نہ سمجھا جائے، جہاں تنقید کو حوصلے سے برداشت کیا جائے، جہاں قومی خدمت ہی سیاست کا اصل معیار ہو، درسگاہوں کے دروازے کھل جائیں، نفرت گاہوں کے در بند ہوجائیں، جہاں عورتوں کے حقوق مقدم، اقلیتوں کے حقوق محفوظ ہوں، جہاں مزدور اور کسان خوش حال ہوں، جہاں مہنگائی اور بے روزگاری کا خاتمہ ہوں، رزق کی فراوانی اور آسانی ہو، جہاں کا عدل باعث فخر ہو جہاں ظلم کا خاتمہ ہوجائے۔جبکہ دوسری جانب تحریک انصاف کے قائد عمران خان کا بھی بجا طور پر کہنا تھاکہ ہم لڑائی نہیں کرنا چاہتے بلکہ چاہتے ہیں کہ مذاکرات کرکے مقصد حاصل کرلیں، اگر مذاکرات سے ممکن نہ ہو تومجبوراً احتجاج کا راستہ اختیار کرنا پڑے گا۔ان خیالات کا ا ظہارکا حقیقی تقاضا یہ ہوگا کہ ان زریں خیالات کو عملی شکل دینے کے لئے ماحول پیدا کرنے کی سنجیدہ سعی کی جائے جس کا اولین تقاضا یہ ہے کہ وزیر اعظم شہبازشریف تحریک انصاف کی قیادت سمیت دیگر تمام سیاسی قوتوں کو معیشت کے ایک نکاتی ایجنڈے پر مذاکرات کی باقاعدہ دعوت دیں جس میں دیگر جماعتوں کی طرح تحریک ا نصاف کی قیادت شریک ہویا کم از کم اس کے نمائندے مذاکرات کی میز پر بیٹھیںیہ عمل جہاں ملک و قوم کے مفاد میں ہو گا وہاں خود تحریک انصاف کا یہ اقدام عوامی سطح پر بھی اس کے حق میں جائے گا حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان برف پگھلنے کا آغاز ہو گا جس سے انتخابات سمیت دیگر اختلافات سے نکلنے کی بھی راہ ہموار ہو گی ۔
بجلی سبسڈی کا خاتمہ’ نئی مشکل
وزیر مملکت برائے پیٹرولیم مصدق ملک نے کہا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف)کے ساتھ متفقہ اصولوں کے تحت سبسڈی کی واپسی کے ذریعے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے بعد بجلی کے نرخوں میں بھی اضافہ ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ ادھار کی رقم سے امیروں کو فائدہ فراہم نہیں کیا جا سکتا لیکن سبسڈی واپس لینے کے عمل میں غریبوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ایک طریقہ کار وضع کیا جانا چاہئے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے عالمی سبسڈیز کو ختم کرنے کا عزم کیا ہے جو امیر اور غریب کے لیے یکساں طور پر دستیاب ہیںامر واقع یہ ہے ابھی عوام پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک ساتھ بے تحاشا اضافہ کا جھٹکا سہار نہیں سکے تھے کہ سرمنڈھاتے ہی اولے پڑے کے مصداق فیول ایڈجسٹمنٹ کے بعد بجلی کے نرخوں میں اضافے کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ قبل ازیں عوام کو تواتر کے ساتھ بجلی کے جھٹکے دینے کا سلسلہ جاری و ساری چلا آرہا ہے سابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے بجلی صارفین کو جو رعایت دی گئی تھی اس کی واپسی کے بعد بجلی بلوں میں فی صارف کافی اضافہ ہو گا اس سہولت کی واپسی کے حوالے سے کوئی طریقہ کار وضع کئے جانے کا جو عندیہ دیا گیا ہے اس کا تقاضا ہے کہ تین سو یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے لئے رعایت برقرار رکھی جائے تاکہ کفایت کے ساتھ بجلی استعمال کرنے والے صارفین کم سے کم متاثر ہوں۔
احسن روایت
وزیر اعظم اور بڑی سیاسی جماعتوںکی جانب سے حالیہ لانگ مارچ کے دوران جاں بحق ہونے والے افراد کے ورثاء سے گھر جا کر تعزیت اور ان کے خاندانوں کی مالی معاونت کا اعلان دکھ کا شکار خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا عملی مظاہرہ ہے وزیراعظم کی جانب سے شہید ہونے والے پولیس کانسٹیبل کے بچوں کو گھر دینے کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ مسلم لیگ نون کی خاتون رہنما نے ان کے گھر جا کر متاثرہ خاندان کو تسلی دی اور مالی مدد کا یقین دلایا جبکہ دوسری جانب تحریک انصاف کے قائد عمران خان بھی خلاف روایت لانگ مارچ کے دوران جاں بحق ہونے والے کارکن کے گھر گئے جبکہ پی ٹی آئی مردان کے ضلعی رہنما کی جانب سے جاں بحق کارکن کے بچوں کو پلاٹ کے کاغذات دیئے گئے ہر دو جانب سے غمزدہ خاندانوں کی مدد اور ڈھارس بندھانے کی روایت قابل قدر ہے اگرچہ مالی مددسے کسی غمزدہ خاندان کے دکھوں کا مداوا ممکن نہیں لیکن بہرحال یہی ایک ذریعہ ہے جسے اختیار کرنا ممکن تھا۔کوشش کی جانی چاہئے کہ ایسے حالات پیدا نہ کئے جائیں جس میں کسی کی جان چلی جائے ۔

مزید دیکھیں :   ان شرائط پر معاہدہ کیسے ہو سکتا ہے؟