اپر اورکزئی گرینڈ جرگہ

اپر اورکزئی گرینڈ جرگہ نے فاٹا انضمام کافیصلہ واپس لینے کامطالبہ کردیا

اپر اورکزئی ڈبوری میں 18اقوام پر مشتمل اورکزئی قبائل کا فاٹا انضمام اور غلط مردم شماری کے خلاف احتجاجی گرینڈ جرگہ منعقد ہوا جس میں حاجی شکیل تحصیل چیئرمین لوئر اورکزئی مولانا محمد طارق معاویہ مولانا امین بادشاہ ،مولانا مسلم سینئر صحافی شہید خان اورکزئی حاجی مسید خان حاجی عزت گل سمیت کثیر تعداد میں اورکزئی قبائل نے شرکت کی ،گرینڈ جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ فاٹا کا جبری انضمام اور قبائل کی خود مختاری پر سودے بازی ہمیں کسی بھی صورت قبول نہیں،قبائلی عوام کے حقوق غصب کرتے ہوئے حکومت نے ہماری رسم و رواج ختم کیں اور ہمارے وسائل پر قبضہ کیا ہماری غیر موجودگی میں غلط مردم شماری کرتے ہوئے سینیٹرز میڈیکل سیٹیں اور طلباء کے سکالر شپ ختم کرکے حکومت اب ایم این اے اور ایم پی اے کی سیٹیں ختم کرنے کے درپے ہے۔

مزید دیکھیں :   بھارتی سپریم کورٹ کا توہین آمیز بیان پر نوپورشرما کومعافی مانگنے کاحکم

مقررین کا مذید کہنا تھا کہ حکومت ہمارے زخموں پر نمک چھڑکنا بند کرکے ہمیں پرانی حالت میں رہنے دیا جائے قبائل محب وطن لوگ ہیں قبائل نے ملک کے لئے بیش بہا قربانیاں دی ہیں لیکن افسوس اپنا حق مانگنے کے پاداش میں قبائل پر بدترین لاٹھی چارج کیا گیا آج ہمارے جنگلات ہم پر بند کر دیئے گئے ہیں ہم اپنے گھر بنانے کیلئے لکڑی کا ایک ٹکڑا بھی نہیں لاسکتے اورکزئی قبائل نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ آئس کے کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف قبائلی رسم و رواج کے تحت سخت کاروائی کی جائے گی اورکزئی قبائلی ملکان اور علمائے کرام نے سنٹرل اورکزئی مشتی میلہ میں 31مئی کویوم سیاہ کے طور پر منانے کا اعلان کرتے ہوئے اورکزئی عوام سے شرکت کی اپیل کی اورکزئی قبائل نے حکومت کو خبردار کیا کہ اگر حکومت نے فاٹا جبری انضمام کا فیصلہ واپس نہیں لیا اور دوبارہ مردم شماری نہیں کی گئی تو ہم تمام حکومتی مراعات سمیت اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے اور کورونا ویکسین لگانے سے بھی مکمل بائیکاٹ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ ہائوس اور اسلام آباد میں احتجاجی دھرنا دینے پر مجبور ہوں گے۔

مزید دیکھیں :   مولانافضل الرحمان کے چھوٹے بھائی کوگورنرنامزدکرنے کی اطلاعات