بڑا کھیل جاری ہے

عالمی کشمکش کی رفتار سست ہونے کے امکانات بظاہر معدوم ہو چکے ہیں کیونکہ امریکہ اپنے عالمی اہداف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ یوں دنیا کے بڑوں کے درمیان بڑا کھیل بھی جا ری رہے گا اور اس میں چھوٹے کھلاڑیوں کو بنانے، اُبھارنے،گھسیٹنے اور گرانے کا عمل بھی کسی طور کم نہیں ہوگا۔ بڑے کھلاڑی امریکہ، نیٹو،کواڈ اور روس و چین ہیں تو چھوٹے کھلاڑی پاکستان جیسے ہیں جو فیصلہ سازی اور معاشی کمزوری کے باعث پنڈولم کی طرح جھولتے جا رہے ہیں۔ ایک دن دباؤ آئے گا تو چین کے ساتھ کھڑے نظر آئیں گے دوسرے دن اس سے زیادہ دباؤ آیا تو امریکہ کے پہلو میں نظر آنے لگتے ہیں۔ ابھی چند ہی ماہ ہوئے جب بظاہر یوں لگتا تھا کہ پاکستان اب ایک آزاد خارجہ پالیسی کی راہ پر چلتے ہوئے امریکہ کی جنگوں اور احکامات کے دائرے سے باہر نکل آیا ہے۔ اسی ماحول میں چین کے وزیر خارجہ نے ایران کے دورے کے دوران ایران کی تعریف کرتے ہوئے ایک معنی خیز جملہ کہا تھا۔ جملہ یوں تھا کہ ایران اس لحاظ سے قابل تعریف ہے کہ یہ ایک ٹیلی فون کال پر اپنی خارجہ پالیسی تبدیل نہیں کرتا۔ جملہ بہت کاٹ دار تھا اور جس سے ذہن فوراً امریکی حکام کی طرف سے جنرل مشرف کو کی جانے والی ٹیلی فون کال کی طرف جاتا تھا جس میں پاکستان کو دھمکی آمیز انداز میں پوچھا گیا تھا کہ آپ ہمارے ساتھ ہیں یا دہشت گردوں کے ساتھ؟۔ آپ کے ساتھ ہیں کا جواب سننے کے بعد امریکہ نے پاکستان کی پوری خارجہ پالیسی کا رخ مسلسل دباؤ اور دھمکیوں سے تبدیل کروا دیا۔ چینی وزیر خارجہ کے ایران میں اس طرز تکلم پر پاکستان میں حیرت بھی ہوئی کیونکہ بظاہر لگ رہا تھا کہ پاکستان اپنے سارے خوف جھٹک کر ایک صفحے کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے مگر شاید چین کے باخبر حکام پاکستانی سیاست اور ریاست کے اند ر جاری ایک کشمکش سے باخبر تھے، انہیں انداز ہ تھا ایک بار پھر پاکستان ٹیلی فون کال پر نہ سہی مگر ایک مراسلے پر اپنا رخ تبدیل کرنے جا رہا ہے۔ چینی وزیر خارجہ کا جو جملہ اس وقت غیر ضروری لگ رہا تھا چند ماہ بعد ہی حقیقت بن کر سامنے آیا۔ اب آثار وقرائن بتاتے ہیں کہ عالمی کشمکش کم ہونے کی بجائے تیز ہونے جا رہی ہے اور اس کے بارات کے دولہا کے ساتھ شہ بالوں تک بھی اس کشمکش کے اثرات منتقل ہونا یقینی ہے۔ آج پاکستان سمیت کئی علاقائی ممالک انہی اثرات کی قیمت بھگت رہے ہیں۔ اس کشمکش کا تازہ ثبوت امریکہ کے وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کا امریکہ کے جارج واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ میں ہونے والی گفتگو ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ روس کے مقابلے میں چین طویل المدتی خطرہ ہے۔ روس عالمی نظام کے لئے فوری خطرہ ہے لیکن چین سے عالمی نظام کو زیادہ سنگین خطرات لاحق ہیں۔ چین ایک ایسا ملک ہے جو بین الاقوامی نظام کو اپنے نظریات کے مطابق آگے لے جانے کے اپنے عزائم کی تکمیل کے لئے اقتصادی، تکنیکی، فوجی اور سفارتی ذرائع کو اپنی مرضی سے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ چین بین الاقوامی سکیورٹی کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بین الاقوامی نظام کی بنیادوں کو اس وقت سنگین خطرات لاحق ہیں۔ یوکرین پر حملہ کرنے سے پہلے روس نے چین کے ساتھ ایک کئی سکیورٹی معاہدات پر دستخط کئے تھے۔ امریکہ چین کا مقابلہ کرنے اور اسے روکنے کے لئے ہر طرح کے ذرائع استعمال کرنا چاہتا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے بتا دیا ہے کہ امریکہ کے مستقبل کی پالیسی میں اصل ”ولن” کے خانے میں بدستور چین موجود ہے۔ امریکہ کی چین سینٹر ک عالمی پالیسی کے کینوس پر ہیروکی شبیہ پر غور کریں تو نریندر مودی نظر آتے ہیں جو چین کو اس کی دہلیز پر ہی چیلنج کرنے اور روکنے میں اور کسی عملی معرکہ آرائی میں دوبدو مقابلہ آرائی میں مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔ انٹونی بلنکن نے چین کو اپنے مدار میں رکھنے کی بات بھی کی ہے اور چین کو اپنے مدار میں رکھنے کے لئے بھارت اور پاکستان کا کردار اہم ترین ہے۔ بھارت کا کردار چین کو اپنے مدار میں مقید اور محصور رکھنے اور پاکستان کا کردار چین کو اس مدار سے باہر نکل کر عالمی منظر کی طرف بڑھنے کے حوالے سے اہم ہے۔ یہ دومتضاد کردار ہیں ۔ امریکہ کی پوری کوشش ہے کہ پاکستان اور بھارت کے اس کرداروں کا یہ تضاد کم سے کم ہو اور پاکستان چین کے ساتھ تجارت اور توانائی کی سطح پر تعلقات برقرار تو ضرور رکھے مگر وہ چین کے جیو سٹریٹجک مفادات میں شراکت داری سے توبہ تائب ہوجائے۔ یہ کھینچا تانی پاکستان کے سیاسی سسٹم میں صاف جھلک رہی ہے اور مستقبل میں بھی یہ کھینچا تانی پاکستان کی سیاسی کشمکش میں جھلکتی نظر آئے گی۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ پاکستان میں سیاسی استحکام آنے کا امکان کم ہے ۔ پاکستانی ریاست ایک بارپھر کنفوژن کا شکار ہوگئی ہے۔ اس کا مظاہرہ حالیہ رجیم چینج میں ہوا۔ رجیم چینج کا منظر تیار تھا تو پاکستانی اسٹیبشلمنٹ نے یوکرین میں روسی کارروائی کی مذمت کا فریضہ انجام دے کر مغرب کا ایک اہم مطالبہ منظور کر لیا جس کے بعد کئی دوسری پرتیں ہٹتی چلی جا رہی ہیں ۔