معاشی استحکام کی منصوبہ بندی

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے مزید مہنگائی کی کا عندیہ دیا ہے، آنے والے دنوں میں بجلی کی قیمت میں اضافہ ہو سکتا ہے، اس موقع پر وزیر خزانہ نے مؤقف اختیار کیا کہ پیٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ ہونے کی وجہ سے ملکی معیشت کا نقصان ہو رہا تھا، اگر قیمتیں نہ بڑھائی جاتیں تو روپے کی قدر مزید گر جاتی، وزیر خزانہ کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے جس طبقے پر بوجھ پڑا ہے اسے وزیر اعظم سکیم کے تحت سستا پیٹرول و ڈیزل فراہم کیا جائے گا، اس سکیم کے تحت ایک کروڑ 40 لاکھ پاکستانی گھرانوں کو ماہانہ دو ہزار روپے وظیفہ دیا جائے گا، سکیم سے پاکستان کی مجموعی آبادی کا ایک تہائی حصہ مستفید ہو سکے گا۔وزیر خزانہ نے امید ظاہر کی ہے کہ جون تک آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف لیول کا معاہدہ طے ہو جائے گا جس سے پاکستان کو 3 ارب ڈالر کی نئی قسط ملے گی، اسی طرح رواں ہفتے چین سے مالی پیکیج کا حصول جبکہ عالمی بینک سے ایک ارب روپے، ایشیا انفراسٹرکچر بینک اور سعودی عرب سے بھی مالی تعاون کے قوی امکانات ہیں۔

لانگ مارچ ختم ہونے کے بعد ملک میں وقتی طور پر جو سیاسی استحکام دکھائی دے رہا ہے اس کے معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں، اس کے برعکس لانگ مارچ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سیاسی عدم استحکام کے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے تھے، محض تین روز میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی، تاہم جب لانگ مارچ ختم ہوا تو ڈالر 202 روپے سے 199 روپے تک آ گیا، اگرچہ یہ معمولی کمی ہے تاہم ڈالر کا اوپر نہ جانا بھی ہمارے لئے مفید ہے، وزیر خزانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو روپے کی قدر میں مزید اضافہ ہو گا۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ معاشی استحکام کیلئے سیاسی استحکام بہت ضروری ہے اب جبکہ حکومت کو تحریک انصاف کی طرف سے مزاحمت میں ریلیف مل گیا ہے تو ضروری ہے کہ حکومت اپنی تمام تر توجہ معیشت کی بحالی پر لگا دے کیونکہ اتحادی حکومت نے تحریک انصاف کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کے پاس ملک کو معاشی بحران سے باہر نکالنے کا پورا پروگرام موجود ہے، اب اگر اتحادی حکومت ہر معاملے میں سابقہ حکومت کو حالات کا ذمہ دار قرار دے گی تو اس سے کچھ حاصل وصول نہیں ہوگا۔

مزید دیکھیں :   فطرت کے خلاف نہ جائیں

حکومت کو بیک وقت دو محاذوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے، ایک یہ کہ وقتی طور پر عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کی جائے، اس حوالے سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ نہ کیا جائے ، گرمیوں کے اندر بجلی مہنگی کرنے سے گریز کیا جائے اس فیصلے کو چار ماہ تک مؤخر کیا جا سکتا ہے تاکہ سردی کا آغاز ہو جائے جب بجلی کا استعمال کم ہو جاتا ہے تاکہ عوام پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔ کھانے پینے کی اشیاہ چونکہ ہر گھر اور ہر فرد کی ضرورت ہیں تو ان کی قیمتوں میں اضافے کو موقوف کردیا جائے اگر خور و نوش اشیاء پر سبسڈی کی ضرورت پڑتی ہے تو سبسڈی دی جائے تاکہ کوئی شہری دو وقت کی روٹی سے محروم نہ رہے۔ جبکہ معیشت کو مستقبل بنیادوں پر مضبوط بنانے کیلئے دیرپا منصوبوں کا آغاز کیا جائے، آج سے پانچ دہائیاں قبل ملک جس رفتار سے ترقی کر رہا تھا اس حساب سے اگر ترقی کا سفر جاری رہتا تو آج پاکستان کا شمار ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا، حیرت ہے کہ دنیا نے ہم سے سیکھ کر صنعتوں کو فروغ دیا اور ہم نے صنعتوں کو قومی تحویل میں لیکر ان کا بیڑا غرق کردیا۔ آپ جاپان، ملائیشیا، بھارت حتیٰ کہ بنگلہ دیش کا جائزہ لیں تو ان کی ترقی کے پیچھے صنعتوں کو فروغ دینا ہوگا، گزشتہ دس سالوں میں بنگلہ دیشی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں ایک فیصد کم ہوئی جبکہ پاکستانی روپیہ ڈالر کے مقابلے میں45 فیصد گرا ہے، بنگلہ دیش کی برآمدات میں 39 فیصد اضافہ ہوا، عرب ممالک کی مارکیٹوں میں آپ کو بنگلہ دیش اور بھارت کی مصنوعات دکھائی دیں گی جبکہ اس دس سال کے عرصہ میں پاکستان کی برآمدات بڑھنے کی بجائے13 فیصد کم ہوئی ہیں، پاکستان میں گزشتہ بیس سال حکومتوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو کوئی ایسا منصوبہ دکھائی نہیں دیتا جسے طویل المدتی منصوبہ قرار دیا جا سکے، ڈنگ ٹپائو پالیسی کے تحت محض وقت گزاری سے کام لیا جاتا رہا ہے جس کے باعث ملکی معیشت تباہی سے دوچار ہوئی، اسی کا نتیجہ ہے کہ آج ہم پائی پائی کے محتاج ہیں سو ضروری ہے کہ قلیل المدتی اور طویل المدتی منصوبوں کا آغاز کیا جائے اس مقصد کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی تجویز پر غور کیا جانا چاہئے، شہباز شریف جب اپوزیشن لیڈر تھے انہوں نے تب بھی میثاق معیشت کی پیشکش کی تھی اب جبکہ وہ وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہیں تو انہوں نے کھلے دل کے ساتھ اس پیشکش کا اعادہ کیا ہے پاکستان کے موجودہ معاشی حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ملک و قوم کے مفاد کی خاطر باہمی تعاون سے ملک کو مسائل کے گرداب سے باہر نکالیں، میثاق معیشت کی پیشکش وقت کا تقاضا ہے اور مسائل سے نمٹنے کا کارگر حل بھی۔ سیاسی جماعتیں اگر واقعی ملک و قوم کی خیرخواہ ہیں تو انہیں اس پیشکش سے انکار نہیں کرنا چاہئے، میثاق معیشت کے نتیجے میں اگر ارباب اختیار بیس سالہ منصوبہ تشکیل دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو گارنٹی کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ اس سے سیاسی استحکام بھی آئے گا جو معاشی استحکام کی ضمانت بن جائے گا ورنہ ” وہی ڈھاک کے تین پات” کے مصداق ہر حکومت مہنگائی میں کمی کا وعدہ کرکے اقتدار میں آتی ہے اور مہنگائی میں اضافہ کرکے چلی جاتی ہے، اب اس روایت کو ختم ہونا چاہئے۔

مزید دیکھیں :   مشرقیات