وہ کون تھی؟

برصغیر کی ایک کا میا ب فلم کا ٹائٹل تھا وہ کون تھی اب یہ ٹائٹل اس سے چھن گیا کیو ں کہ گزشتہ روز پی ٹی آئی کے لا نگ ما رچ ودھرنا کے موقع پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک حجا ب میں محجوب خاتون ایک سیکورٹی اہلکار کو نہ صرف نا قابل بیا ن گالی دے رہی تھیں جو کسی مشرقی عورت سے توقع نہیںکی جا سکتی وہ سیکو رٹی اہلکا ر ناک پر کپڑا رکھے آگے کو بڑھتا رہا خاتون بھی لغویا ت بکتی ہوئی تیزی سے ساتھ ساتھ بڑھتی رہیں ، پولیس کے اس اہلکا ر کا صبر حوصلہ دیکھ کر جتنا بھی اسے خراج تحسین پیش کیا جا ئے کم ہے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ خاتون چاہ رہی تھی کہ سیکو رٹی اہلکا ر کو طیش دلایا جائے تاکہ وہ جوا باًایسی حرکت کر ے کہ خاتون اپنی مظلو میت اور حکومت کی بدنامی کا اسکینڈل بنالے ۔ منفرد لب و لہجہ کے صحافی طلعت حسین نے بالآخر اس سیکو رٹی اہلکار کو تلا ش کرہی لیا اور اس سے واقعہ کے بارے میں سوالا ت کیے سیکو رٹی اہلکا ر شہباز نے بتایا کہ ان کو محکمہ کی طر ف سے صبر وتحمل کی تربیت دی جا تی ہے جو جیسی تربیت پا تا ہے اسی کا مظاہرہ بھی کرتا ہے یہ بہت بڑی بات شہبا ز نے کر دی ، انھو ں نے یہ بھی بتایا کہ یہ عورت چاہتی تھی کہ میں اشتعال میں آکر کوئی غلطی کر بیٹھوں پھر وہ اسے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر ے لیکن یہ اس کی تربیت کا نتیجہ ہے کہ عورت اپنے مقاصد میںکا میا ب نہ ہوپائی اور وہ اپنی ڈیو ٹی میں مگن رہا ۔یہا ں یہ سوال اٹھتا ہے کہ یہ عورت آخر ایسا کیوں چاہتی تھی دوسرا یہ سوال بھی عوام میں پایا جا تا تھا کہ وہ کون تھی ۔صحافی آخر صحافی ہو تا ہے وہ سو فائیلوں میں بھی چھپا ہو ا راز ڈھونڈ لا تا ہے ، پنجاب کے سینئرصحافی طارق عبداللہ سہیل جو منفرد اندازکی تحریر اورکلا م کا ملکہ رکھتے ہیںاور ان کے پا س رازوںکا پٹارہ بھی رہتا ہے وہ اس عورت کو ڈھونڈ لائے ۔عمر ان خان جو اسلا می ٹچ کی مہارت رکھتے ہیں اور اس ٹچ کو خوب اچھالتے بھی رہتے ہیں ان کے اقتدار سے کٹ جا نے پر کچھ مختلف مذہبی گروہوں کو بھی نا گوار لگا ہے ان میںبھی بے چینی پیدا ہوئی ہے اس مذہبی طبقہ کے بارے میں آئین پا کستان میں ذکر بھی موجو د ہے ، خاتون کا تعلق بھی اسی مذہبی طبقہ سے ہے ۔ جب اس طبقہ کے بارے میں آئین میں ترمیم ہوئی تو اس مذہب کے پیروکاروںکی ایک بہت بڑی تعداد پاکستان سے نقل مکا نی کر کے امریکا ، کینڈا ، اور دیگر یورپی ممالک کو چلے گئے سب سے زیا دہ برطانیہ منتقل ہوگئے ۔ موصوفہ کاڈاک خانہ اسی اہم شخصیت سے ملتا ہے ،یہ اہم شخصیت باہر سے درآمد کی گئی تھی جس کو آئی ایم ایف کی آشیر باد حاصل تھی ، یہ شخصیت اس سے قبل ایسے ہی عہد ے پر مصر میںتعینات رہی اور اس نے نادیدہ طاقتوں کے اشارے پر مصر کی اقتصادیا ت کا اس طرح بیڑاغرق کیا کہ مصر اقتصادی و معاشی طورپر غلا م بن کر رہ گیا ۔ ایسا ہی عمل انھوں نے پاکستا ن میں بھی شروع کر رکھا تھا ، وزیرا عظم شہبازشریف نے برسر اقتدار آکر جو اچھا اورنمایا ں کا م کیا وہ یہ کہ اس شخص کو ملا زمت میںتوسیع نہیں دی ادارے کے ڈپٹی گورنر کو ذمہ داریا ں سونپ دیں ۔ کہنے کا مقصد ہے کہ قانون کے محافظ شہبازکو لغویات بکنے والی س شخصیت سے چچا بھتیجی کا رشتہ ہے ، خاتون کا نا م ڈاکٹر حمید ہ معلوم ہو ا ہے یہ کوئی عام سی پڑھی لکھی خاتون نہیں ہے ، اعلیٰ تعلیم یا فتہ ہے سمند ر پا ر پاکستانی ہے اور کینڈا میں رہائش پذیر ہے ۔جب اس خاتون کے ما موں کو پاکستان کے سب سے بڑے مالیاتی ادارے کی سربراہی سپر د کی گئی تھی اسی وقت اقتصادیا ت کے ماہرین کی رائے آنا شروع ہو گئی تھی کہ اس کو مصر کے ایجنڈے کے طور پر تعینا ت کیا گیا ہے ، چنانچہ اپنی تقرری کے دوران چچانے جو کا رکردگی دکھائی تب بھی ماہرین کہتے رہے کہ مو صوف مصر کی اقتصادی تباہی کے ایجنڈے پر ہی کا م کررہے ہیں یہ بھی کہا گیا تھا کہ پی ٹی آئی کے دور میں ملک کی اقتصادیات کا جو حشرنشر ہو ا ہے وہ مبینہ طور پر پارٹی کا ایجنڈا ہی تھا ۔ڈاکٹر حمیدہ کے چچا اس نا تے کے علاوہ اور کیا ہیں ۔ اس بارے میں معلو م ہو ا ہے کہ اس خاص جماعت کا ایک رسالہ بشارت احمد یہ کے نا م سے کینیڈا سے شا ئع ہو تا ہے اس کے ایڈیڑ کے بھانجے ہیں ۔لوگ یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ یہ خاتون پاکستان کیا کر نے آئی تھی ۔بہرحال اس معاملے میں اور بھی راز پنہاں ہیں جن کا ذکر پھر کسی اور موقع کے لیے رکھدیا جا تا ہے ۔ عمر ان خان نے گزشتہ روز بڑے پن کا مظاہر ہ کیا کہ انھو ں نے کھلے دل سے لا نگ ما رچ کی نا کامی تسلیم کرلی ۔عمر ان خان نے صحافیو ں کے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ تیاری مکمل طورپر نہیںہو پائی تھی ، آئند ہ پو ری تیا ری سے نکلیں گے ، پی ٹی آئی والے یہ دعویٰ یہ بھی کر تے ہیں کہ تیا ری کے لیے وقت نہیں مل سکا ۔حالانکہ پی ٹی آئی اس دھرنے اور لانگ ما رچ کی تیا ری اسی روز سے کر رہی تھی جب سے وہ اقتدار سے ہٹ گئی تھی عمران خان نے قریہ قریہ جو جلسے اوراحتجا ج کئے وہ اسی لا نگ ما رچ کا” وارم اپ” تھا ، عمر ان خان کی سیاسی ہلچل گزشتہ دو عشروں سے یہ ہی دیکھنے کو ملی ہے کہ وہ کچھ کر یں نہ کریں میڈیا کے لیے بلا نا غہ مو اد اپنی پریس کانفرنسوں اورتقاریر سے فراہم کرتے ہیںاس کے بناء ان کو چین نہیںآتا ملتان جلسے سے اڑ کر وہ وزیر اعلیٰ ہا ؤس کے پی کے نزول کر گئے چنا نچہ وزیر اعلیٰ ہا ؤس میںبھی انھو ں نے اپنا ناتا میڈیا سے منقطع نہیں کیا روزانہ پریس کا نفرنس کر تے رہے یہ اور بات ہے کہ بسا اوقات وہ اپنے من پسند ایک ہی صحافی سے مخاطب رہے جس پر پشاور کے صحافیوں کو تشویش ہوئی ہے۔

مزید دیکھیں :   سود کی لعنت ' علماء اور کھاتہ داروں کا کردار