کہ نیند شرط نہیں خواب دیکھنے کے لئے

ہر چیز کا سیزن ہوتا ہے ‘ یہ بجٹ کا سیزن ہے ‘ اگرچہ وفاقی بجٹ کے لئے دس جون کی تاریخ مقرر کی گئی ہے اور پروگرام کے مطابق خیبر پختونخوا کا بجٹ17جون کو پیش کرنے کی تجویز تھی تاہم اب خبروں کے مطابق صوبائی بجٹ یکم جون کو پیش کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے ‘ اتنی جلدی کیا ہے؟ اور اس کے پیچھے کیا عوامل ہیں اس حوالے سے یقین سے تو نہیں کہا جا سکتا تاہم ”خدشات” کا اظہار کیا جا سکتا ہے مگر خواہ مخواہ شکوک و شبہات کا اظہار کرنے کا کیا فائدہ؟ اس لئے اس بات کو رہنے دیتے ہیں البتہ اتنا کہا جا سکتا ہے کہ یہ روایت شکنی ہی نظر آتی ہے کہ تمام صوبے ہمیشہ وفاقی بجٹ کے بعد ہی اپنے میزانئے پیش کرتے رہے ہیں ویسے یہ کوئی مسئلہ بھی نہیں ہے ‘ اور اس حوالے سے ان دنوں کو ”بجٹ سیزن” قرار دینے کی وجہ یہ ہے کہ ہر سال جب بجٹ پیش کرنے کے دن قریب آتے تھے تو ملازمین کو مہنگائی سے نجات کے لئے ان کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کے حوالے سے ”سرکاری طور پر” فلر (filler)چھوڑے جاتے تھے اور تنخواہوں میں 35 فیصد سے لیکر دس فیصد اضافے تک کی خبریں وقتاً فوقتاً نشر اور شائع کرنا ایک روایت بن گئی تھی یہ فلر اس لئے چھوڑے جاتے تھے کہ ملازمین کی ”مارکیٹ” کا بھائو معلوم کیا جا سکے ‘ کیونکہ جیسے ہی یہ خبریں پھیلنا شروع ہوتیں تو نہ صرف حاضر سروس ملازمین بلکہ بقول شخصے ”ڈیڈ ہارس” یا ”چلے ہوئے کارتوس” یعنی بے چار پنشنرز بھی اپنے اپنے مطالبات لیکر بیانات داغنا شروع کر دیتے’ اور ان بیانات سے سرکار والا مدار نتائج اخذ کرکے ملازمین کے لئے ان کی تنخواہوں ‘ الائونسز اور پنشن میں اضافے کا حتمی فیصلہ کرکے ا علان کر دیتی ‘ جو زیادہ سے زیادہ بیس فیصد اور پنشن دس فیصد ہی ہوتا ‘ اور وہ جو35فیصد یا کم و بیش کی ٹرک کی بتی کے پیچھے ملازمین کو لگایا گیا ہوتا اس کا (بیانات میں) پیچھا کرتے کرتے یہ لوگ تھک ہار کر بالآخر خاموش ہو کر ”پرانی” تنخواہ پر کام کرنے پر مجبور ہوتے ‘ سابقہ تحریک انصاف حکومت نے اپنے اقتدار کے پہلے سال ملکی تاریخ میں پہلی بار پنشنرز کے لئے ایک پائی کا ا ضافہ نہ کرنے کے ریکارڈ قائم کر لیا تھا ‘ اور اوپر سے مہنگائی میں روز بروز اضافہ کرکے پنشنرز کو زندہ درگور کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ یعنی بقول شاعر
میں ہوں پتلی کاٹھ کی ‘ ڈور پیا کے ہاتھ
ناچت ہوں میں پریم سے ‘ جیسو پیانچات
ظاہر ہے ‘ بے چارے ‘ ڈیڈ ہارس اور چلے ہوئے کارتوس کر بھی کیا سکتے ہیں کہ اب تو ان کی حالت مردہ بدست زندہ والی ہے ‘ نہ ان کا احتجاج کوئی اثر رکھتا ہے نہ ان کے مطالبات کی کوئی اہمیت ہوتی ہے ‘ اور اوپر سے افراط زر ‘ مہنگائی اور روپے کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں روزبہ روز کم ہونے سے ان کو ملنے والی پنشن بھی اپنی قدر کھو دینے کے عمل سے گزرتے ہوئے ہر مہینے ملنے والی پنشن ہندسوں کے حوالے سے تو وہی تھی مگر قوت خرید کم ہونے کی بناء پر ان کے لئے زندگی گزارنا مشکل سے مشکل تر ہوتی جاتی ہے ‘ ور اب جبکہ نیا بجٹ آنے والا ہے تو سرکار کی جانب سے ”فلر” بھی نہیں چھوڑے جارہے ہیں ‘ جس کا مطلب کہیں یہ نہ ہو کہ ملازمین اور پنشنرز کو اب کی پھر سے بے یارو مددگار چھوڑ دیا جائے حالانکہ پے اینڈ پنشن کمیشن کی جانب سے کچھ خبریں گزشتہ مہینوں میں سامنے آتی رہی ہیں اور آج جب یہ کالم تحریک کیا جارہا ہے تو سوشل میڈیا پر ایک چھوٹی سی خبر دیکھنے کو ملی کہ اب کی بار سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں پانچ فیصد اضافہ کئے جانے کی توقع ہے ‘ یعنی پیوستہ شجر سے امید بہار رکھ ‘ حالانکہ ساتھ ہی ایسی اطلاعات بھی سامنے آرہی ہیں کہ پٹرول کی قیمت میں مزید اضافہ بھی کیا جائے گا کہ تحریک انصاف حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ جو معاہدہ کیا ہے تیل کی قیمتوں کو اس سطح تک پہنچانا مجبوری ہے ‘ گویا بقول خواجہ حیدر آتش
مشتاق درد عشق جگر بھی ہے ‘ دل بھی ہے
کھائوں کدھر کی چوٹ ‘ بچائوں کی کدھر کی چوٹ
تیل قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کا جو طوفان درپیش ہے ‘ اس پر سوشل میڈیا پر ایک ٹرینڈ چل پڑا ہے کہ جن سرکاری ملازمین کوگاڑیاں اور ساتھ ہی مفت پٹرول دیا جارہا ہے اس سہولت کو ختم کیا جائے ‘ اس ضمن میں جہاں یہ اعتراضات سامنے آرہے ہیں کہ (ہر ایک تو نہیں) چند سرکاری افسران ایسے بھی ہیں جن کو ایک سے زیادہ گاڑیوں سے استفادہ کرتے ہیں (یعنی ان کے اہل خاندان بھی اس سہولت سے مستفیدہوتے ہیں) وہاں بعض ایسے ملازمین بھی ہیں جو مہنگائی پٹرول برداشت نہ کرنے کی وجہ سے مجبوراً موٹر سائیکلوں پر واپس آگئے ہیں گویا یہ بات درست نہیں کہ ہر سرکاری افسر کو مفت ٹرانسپورٹ اور تیل کی سہولت مل رہی ہے تاہم جس اہم نکتے کی جانب ہم اشارہ کرنا چاہتے ہیں وہ ہے ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے ہر سال ایسے مواقع پر جب سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو دس سے بیس فیصد اضافہ مل جاتا ہے تو یہ اراکین پارلیمنٹ از خود ہی اسمبلیوں میں اپنی تنخواہوں میں پچاس فیصد سے لیکر سو فیصد تک ا ضافہ ایک بل کی صورت میں منظور کر لیتے ہیں ‘ اب بھی یہی خدشہ ہے کہ ملازمین کو تو ”پانچ”فیصد کی گونج سنائی دے رہی ہے لیکن اس کے بعد اراکین پارلیمنٹ اپنے لئے کتنا ا ضافہ کریں گے اس بارے میں دعویٰ تو نہیں کیا جا سکتا مگر امکانات ہو سکتے ہیں ‘ اور اب یہ جو خیبر پختونخوا کا بجٹ وفاق کے دس جون کو پیش کئے جانے والے بجٹ سے دس روز پہلے پیش کرنے کی خبریں سامنے آئی ہیں ‘ ان سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ صوبائی حکومت ممکنہ طور پر ملازمین اور پنشنرز کے لئے تنخواہوں اور پنشن میں ”خاطر خواہ” اضافہ کرکے وفاقی کے لئے چیلنجنگ صورتحال پیدا کر سکتی ہے ‘ جو ظاہر ہے ملازمین کے لئے خوش کن بھی ہو سکتی ہے ۔ ویسے یہ صرف امکانات ہیں ضروری نہیں کہ ایسا ہی ہو ‘ اس لئے ملازمین اتنے خوش بھی نہ ہوں۔
اٹھو یہ منظر شب تاب دیکھنے کے لئے
کہ نیند شرط نہیں ‘ خواب دیکھنے کے لئے

مزید دیکھیں :   غیر جمہوری رویے سے گریز کی ضرورت