سیاسی جلسوں کا مقابلہ

خیبرپختونخوا میں مرکزی حکومت اور صوبائی حکومت دونوں ہی کے عہدیدار اور جماعتی عہدیداروں نے جلسوں کا اہتمام کیا۔ دونوں جلسوں میں سے کس کا جلسہ بڑا تھا اس سے قظع نظر وزیراعظم شہباز شریف اور مریم نواز نے مانسہرہ میں جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور وزیر اعلیٰ محمود خان نے چارسدہ میں جلسوںسے خطاب کیا ۔وزیراعظم شہباز شریف نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کو پنجاب جیسا بنانا ہے توخیبر پختونخوا کے لوگ اپنے موجودہ حکمرانوں سے نجات حاصل کریںجبکہ چیئرمین تحریک انصاف نے پارٹی رہنمائوں کو صوبائی دارالحکومت چھوڑ کراپنے اپنے حلقوں میں کارکنوں کو متحرک کرنے کا ٹاسک دیتے ہوئے احتجاج اور لانگ مارچ کے لئے پوری طرح تیار رہنے کی ہدایت کی ہے ساتھ ہی اراکین اسمبلی کی جانب سے آزادی مارچ میں لائے گئے کارکنوں کی تعداد کے حوالے سے بھی پارٹی قیادت کی جانب سے کارکردگی کا جائزہ لیاگیا۔مانسہرہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز شریف نے طنزیہ انداز میں تحریک انصاف کے لانگ مارچ کی ناکامی کے جن عوامل کا تذکرہ کیا ہے اگرچہ یہ مخالف سیاستدان کی جانب سے پھبتی کسی گئی ہے لیکن اس کے باوجود تحریک انصاف کی قیادت کو اپنے بدترین ناقدکے ان اعتراضات کی روشنی میں اپنی کمزوری اور ناکامیوں کا جائزہ لینا آئندہ کی حکمت عملی کے لئے اہم ہو گا۔ویسے بھی اپنی غلطیاں ڈھونڈنی پڑتی ہیںجبکہ مخالفین پہلی نظر میں بھانپ لیتے ہیں تحریک انصاف کے قائدعمران خان کی جانب سے پارٹی رہنمائوں پر برہمی از خود اس بات کا ثبوت ہے کہ نہ صرف وہ لانگ مارچ کی تیاریوںسے مطمئن نہیں بلکہ پارٹی قیادت کی جانب سے اراکین اسمبلی اور سینیٹروں کو جو ٹاسک دیاگیا تھاان سے وابستہ توقعات بھی پوری نہیں ہوئیںتحریک انصاف کی قیادت کی جانب سے خود احتسابی پر توجہ وقت کا تقاضا تھا جس کی ضرورت کافی عرصے سے محسوس کی جارہی تھی بطور جماعت اگر جائزہ لیا جائے تو تحریک انصاف میںخود احتسابی اور اپنی کارکردگی کا جائزہ لینے کی بجائے غیر حقیقت پسندانہ دفاع اور مخالفین کو زچ کرنے پرتوجہ زیادہ دی جاتی رہی ہے جس کے باعث پارٹی میں خود احتسابی کا کلچراور حقیقت سے دو چارعمل کا فقدان چلا آرہا تھانیز تحریک انصاف کی قیادت کو اپنے بل بوتے پر اور سخت حالات کا مقابلہ کرنے کا بھی زیادہ تجربہ نہ تھا اب جبکہ تلخ حقیقت کا پہلی مرتبہ سامنا ہوا تو توقعات کے برعکس صورتحال پیش آنے پر خود احتسابی کی ضرورت محسوس کی گئی جو قبل ازیں کے بڑے بڑے دعوے کرنے والوں کی غیر حقیقت پسندی کے ظاہر نہ ہونے کے باعث اب تک سامنے نہیںآسکی تھی۔مریم نواز نے پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کی ناکامی کا جو تجزیہ مانسہرہ میںجلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ہے اسے بدترین ناقد کی رائے قرار دے کر رد کرنے کی بجائے ان عوامل کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے جو لانگ مارچ
کے دوران بڑی خامیوں کی صورت میں سامنے آئے کوشش یہ ہونی چاہئے کہ غلطیوں کا اعادہ نہ ہوبلکہ ان سے سیکھا جائے توقعات کیوں پوری نہ ہوئیں اور دھوکہ کس نے دیا ساری صورتحال اور خامیوں کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لینا قیادت کے لئے مشعل راہ ثابت ہوسکتا ہے اور اپنی ا صلاح ممکن ہے ایک طائرانہ جائزہ لیا جائے توتحریک انصاف کی پوری مرکزی قیادت کا ایک کنٹینر پر اکٹھا ہونا اور دیگر صوبوں کو نظر انداز کرکے صرف خیبر پختونخوا پر انحصار کرنا تھا’ پنجاب اور بلوچستان کے جن رہنمائوں کو اپنے اپنے علاقوں سے جلوس کی قیادت کرنے کی ضرورت تھی ان کا بھی کنٹینر پر نظر آناسب ے بڑی غلطی تھی قبل ازیں جب نواز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ نون نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کیا تھا تو بلوچستان سے آنے والا قافلہ راجن پور کے مقام پر سندھ کے قافلے کے ساتھ پنجاب میں داخل ہو کر مرکزی جلوس میںشامل ہوا تھا جبکہ راستے میں آنے والے پنجاب کے مختلف ڈویژنز اور اضلاع کی سطح پر جلوس لاہور سے آنے والے مرکزی جلوس میںشامل ہوتے رہے اور ان کو ایک طرح سے تازہ دم دستوں کی خدمات حاصل ہوتی رہیں جو مرکزی جلوس کے پہنچنے تک راستے کی رکاوٹیں ہٹانے اوردبائو بڑھانے میںکامیاب ہوئے ۔پاکستان تحریک انصاف اگرایک اور متوقع مارچ کی کامیابی کی منصوبہ بندی کر رہی ہے تو انہیں بھی اس طرح کی کوئی حکمت عملی اختیار کرنی ہوگی پی ٹی آئی کی قیادت کو یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ماضی میں لاہور اور کراچی سے اٹھنے والی تحریکوں کی کامیابی اور ان کے موثر ہونے کا ریکارڈ زیادہ ہے ۔خیبر پختونخوا سے اسلام آباد پر چڑھائی تو کی جا سکتی ہے لیکن جب تک بلوچستان ‘سندھ اور خاص طور پرپنجاب سے لانگ مارچ کو کارکنوں کی بہت بڑی تعداد میسر نہ آئے دبائو بڑھانے میں کامیابی کا امکان محدود ہو گا۔ خیبر پختونخوا سے لانگ مارچ کے شرکاء کو اکٹھا کرنے پر ایک بڑا اعتراض سرکاری مشینری اور سرکاری وسائل کے استعمال کا ہے جس کا تحریک انصاف کی قیادت کے پاس مناسب جواب نہیں ہوتا یہ بہرحال کپتان کی اپنی حکمت عملی ہو گی لیکن زیادہ موثر احتجاج اور لانگ مارچ وہی ہو گاجوملک کے تینوں صوبوں سے اسلام آباد کی طرف آئے اور اس کی قیادت عمران خان خود کریںجہاں دیگر معاملات کے جائزے لئے جارہے ہیں وہاں تحریک انصاف کی قیادت کو اس نکتے پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اگروزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور صوبائی وزراء کی توجہ لانگ مارچ کی طرف ہو گی تو حکومتی اور سرکاری کاموں کا حرج ہو گا اور عوام کے مسائل اور مشکلات پرتوجہ میں کمی از خود تحریک انصاف کے مفاد میں نہیں بنا بریں بہتر یہی ہو گا کہ حکومت کے اعلیٰ عہدیدار حکومتی امور پر توجہ مبذول کریںاور احتجاج و لانگ مارچ کی تیاری اراکین اسمبلی اور مقامی قیادت کو سونپی جائے ۔اگرچہ لانگ مارچ کی دی گئی ڈیڈ لائن میں اب صرف دو دن ہی رہ گئے ہیں لیکن ایسے آثار نظر نہیں آتے کہ جلد ہی اسلام آباد کے گھیرائو کا نقارہ بجا دیا جائے گاتیرہ جون کو صوبائی بجٹ پیش ہونے جارہا ہے جبکہ اس سے قبل شانگلہ میں مرکزی قیادت کے جلسے کا اعلان کیاگیا ہے جس سے اس امر کا یقینی طور پر اظہار ہوتا ہے کہ چھ دن کی ڈیڈ لائن میں توسیع ہو گی ۔تحریک انصاف کے قائد کی پوری توجہ اس وقت خیبر پختونخوا پر ہے جو اپنی جگہ درست حکمت عملی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ عمران خان کو مسلم لیگ نون کے خیبر پختونخوا آکر جلسہ کرنے کا جواب دینے کے لئے پنجاب کا بھی رخ کرنا چاہئے تاکہ ایک اہم محاذ نظر انداز نہ ہو۔