سیاسی مخاصمت کا انجام کیا ہوگا؟

ملک میں اس وقت جوسیاسی مخاصمت جاری ہے اور سیاسی تنائو کادرجہ حرارت بلندی کی طرف مائل دکھائی دیتا ہے اس نے وفاق اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں کے مابین جہاں ایک دوسرے پرعدالتی جنگ مسلط کرنے کے خدشات بڑھا دیئے ہیں وہاں بعض قائدین کے بیانات سے مترشح ہوتا ہے کہ ملک میں(خدانخواستہ) خانہ جنگی کی صورتحال پیدا کی جارہی ہے’ خیبر پختونخوا کے قائدین اور تحریک ا نصاف کے سربراہ کے تازہ بیانات اور ان پر وفاقی وزراء اور دیگر زعماء کے اعتراضات اور سپریم کورٹ سے از خود نوٹس لینے کے مطالبات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملکی سیاست میں تحمل اور بردباری کارجحان ختم ہوتا جارہا ہے یعنی سب کچھ اچھا نہیں ہے جبکہ اس صورتحال پر صوبے کے دیگر سیاسی قائدین کی یہ تجویز یقینا قابل توجہ ہے کہ ہنگامہ آرائی کی بجائے صوبے سے غربت اور بے روزگاری کے خاتمے پر توجہ دی جائے ۔ درپیش سیاسی صورتحال میں یہ تجویز یقینا امید کی روشن شمع کی مانند ہے ۔ معاملات کوکشیدہ صورتحال میں تبدیل کرنے سے کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا بلکہ خانہ جنگی سے ملک مزید متاثر ہوگا اور قوم کی تقسیم سے بے پناہ نقصان ہونے کااندیشہ ہے ‘ امید ہے سیاسی قائدین جذبات سے نہیں بلکہ ٹھنڈے دل و دماغ سے کام لیں گے ۔
بدترین لوڈ شیڈنگ اور صوبائی اسمبلی
صوبائی اسمبلی کی جانب سے واپڈا کوصوبائی فنڈزسے جاری کی گئی رقم فوری طور پر متعلقہ اضلاع میں بجلی کی ا ملاک پرخرچ کرنے کی ہدایات کے ساتھ پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی(پیسکو) کے چیف ایگزیکٹو کوصوبائی اسمبلی میں طلب کرکے گفت و شنید ایک اچھا اقدام ہے ‘ یاد رہے کہ گزشتہ روز صوبائی اسمبلی میں بجلی کی بدترین لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے حکومت کے ایم پی ایز کی جانب سے بحث کی گئی تھی اور وفاقی حکومت پراس کی ذمہ داری عائد کرتے ہوئے کہا گیا کہ شدید گرمی کے موسم میںعوام عاجز آچکے ہیں صوبائی حکومت نے اڑھائی سال پہلے ٹرانسمیشن لائن کی بہتری کے لئے فنڈزواپڈا کومنتقل کئے تھے ‘ کئی منصوبوں کے پی سی ون بھی بنے ہیں لیکن اس کے باوجود وفاقی حکومت کے ایک مشیر نے یہ تمام منصوبے(مبینہ طور پر) روک دیئے ہیں ‘ صوبائی اسمبلی میں لوڈ شیڈنگ کے خلاف آواز یقینا عوام کوریلیف دینے کے لئے ضروری ہے اور عوامی نمائندے اگر اس حوالے سے اعتراضات اٹھا رہے ہیں تو یہ ان کی ذمہ داری بھی ہے کہ عوام نے انہیں اپنے مسائل حل کرنے کے لئے ہی اسمبلی میں بھیجا ہے ‘ اس لئے پیسکو کے سربراہ سے استفسار کرناجائز بھی ہے ‘ تاہم جہاں تک وزیر اعظم کے ایک مشیر پران منصوبوں کو روکنے کا الزام کا تعلق ہے تو اس پروزیراعظم سے درخواست کی جا سکتی ہے کہ وہ اس معاملے پرتوجہ دیں عوام ہرماہ باقاعدگی کے ساتھ بجلی بل ادا کرتے ہیں توان کاحق ہے کہ ان کوبجلی بھی فراہم کی جائے ‘ اس میں قطعاً شک نہیں کہ ملک میں بجلی کی کمی ہے جس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں ‘ مگر قومی گرڈ سے صوبوں کو ان کے کوٹے کے مطابق بہر صورت مقررہ مقدار میں بجلی کی فراہمی ضروری ہے اور اگر ماورائے شیڈول لوڈ شیڈنگ ہو گی تو اس پراعتراض بھی جائز ہوگا۔
ہائیرایجوکیشن کمیشن ‘ بجٹ بحالی
وزیراعظم شہبازشریف نے ہائیر ایجوکیشن کی بحالی اور بجٹ 2022-23ء میں کٹوتی نہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو مسلم لیگ نون کے سابقہ دور کی طرز پرفعال بنایا جائے ‘ امرواقعہ یہ ہے کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے بجٹ میں گزشتہ پونے چار سالہ دور میں کٹوتیوں نے اعلیٰ تعلیم پرمنفی اثر ڈالا ہے’ اس لئے وزیر اعظم نے اس عمل کو ریورس کرنے کی ہدایات دے کریقینا ملک میں تعلیم کے مسائل حل کرنے کی سمت درست قدم اٹھایا ہے ۔ وزیراعظم نے یہ ہدایت بھی کی کہ ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں تعلیمی پراجیکٹس کی بحالی پرتوجہ مرکوز کی جائے ‘ اعلیٰ تعلیم کو عالمی معیار پر استوار کرتے ہوئے پروگرامز کی تعداد میں اضافہ کیا جائے ‘ بد قسمتی سے پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں تعلیم کو شروع دن سے ہی کوئی اہمیت نہیں دی گئی اور دنیاکے مقابلے میں یہاں معیاری یونیورسٹیوں کی تعداد جہاں پہلے ہی تشویشناک حد تک کم ہے ‘ وہاں گزشتہ برسوں میں اس شعبے کو مزید نظر انداز کرکے عالمی برادری میں پاکستان میں تعلیم کی رینکنگ کو مزیدمنفی سطح پر لا کر کھڑا کیاگیا ‘ بہرحال اب وزیراعظم نے ہائیر ایجوکیشن کے بجٹ میں کٹوتی نہ کرنے کی ہدایات دے کر صورتحال کو منفی سے مثبت انداز کی جانب گامزن کرنے کو یقینی بنا لیا ہے ‘ امید ہے اس سے ملک میں تعلیم کے نظام پراچھے اثرات مرتب ہوں گے ۔
تاجروں کاجائز مطالبہ
خیبر پختونخوا کے کاروباری طبقے نے تاجروں کے مسائل کے حل کے لئے ایڈوائزری کونسل کے قیام کا مطالبہ کیا ہے اور بجٹ2022-23ء کے لئے تجاویز محکمہ خزانہ کے سپیشل سیکرٹری فنانس کودیتے ہوئے کہا ہے کہ بزنس کمیونٹی کو درپیش مسائل کے حل کے لئے ایک اعلیٰ سطحی ایڈوائزری کونسل کا قیام عمل میں لایا جائے جس میں حکومت اور متعلقہ اداروں سمیت فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اور صوبے کے چیمبرز کے نمائندے شامل ہوں ‘ کاروباری طبقے کو ٹیکسز کی بھرمار’مختلف اداروں کے نامناسب رویئے ‘ بارڈر سٹیشنز پر تجارت میں کمی اور بجلی کے انتہائی مہنگے یونٹس ‘ لوڈ شیڈنگ سمیت دیگر مسائل کا سامنا ہے جن کا فوری حل کاروبار کی ترقی اور معیشت کے استحکام کے لئے ضروری ہے ‘ امرواقعہ یہ ہے کہ حکومت ہر سال بجٹ سے پہلے بڑے شہروں کی تاجر تنظیموں ‘ کاروباری ٹائیکونز اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرزآف کامرس کے علاوہ دیگر شہروں کے مقامی چیمبرز آف کامرس کے نمائندوں کے ساتھ اجلاس منعقد کرکے ان کی تجاویز کو بجٹ میں جہاں تک ممکن ہوشامل کرنے کی کوشش کرتی ہے تاہم مقامی تاجروں کوجوچیمبرز میں نمائندگی نہیں رکھتے اور جن کے پیش نظر خالص مقامی سطح کے تجارتی و کاروباری مسائل ہوتے ہیں ‘ ان کی تجاویز صوبائی بجٹ میں شامل ہونے سے رہ جاتی ہیں جس کی وجہ ان کو مشکلات درپیش ہوتی ہیں ‘اور بعض اوقات حالات ایسارخ اختیار کر لیتے ہیں کہ چھوٹے تاجر اور دکاندار احتجاج پر اتر آتے ہیں ‘ ایسی صورت میں کاروباری طبقے اور تاجروں کے مسائل حل کرنے اور ان کی مشکلات کے حوالے سے جائز تجاویز کو صوبائی بجٹ میں شامل کرنے کے لئے ایڈوائزری کونسل کے قیام کی تجویز مناسب بھی ہے اور بروقت بھی ‘ امید ہے صوبائی حکومت اس تجویز کوسنجیدہ لیگی اور صوبے میں تاجر برادری اور کاروباری طبقے کو اپنی آواز حکومت تک بروقت پہنچانے کے لئے صوبائی سطح پر ایڈوائزری کونسل کے قیام کویقینی بنائے گی۔

مزید دیکھیں :   سابق حکومت کی نا اہلی کی گردان!