پشاور پی ڈی اے ترقیاتی ادارہ یا سفید ہاتھی

پشاور پی ڈی اے ترقیاتی ادارہ یا سفید ہاتھی؟14ارب کی سنگین بے قاعدگیاں کا انکشاف

پشاور،شہر کی ترقی کیلئے قائم ادارے پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے)میں 14ارب83 کروڑ روپے کی سنگین بے قاعدگیوں اور بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے منظور نظر افراد میں ٹھیکہ کی بندر بانٹ سے خزانہ کو ایک ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچایا گیا ،دستاوازت کے مطابق پشاور میں اندرون شہر میں شاہراہوں کی تعمیر اور بحالی پر 2ارب21کروڑ20لاکھ روپے خرچ کئے گئے اور مختص بجٹ سے ایک ارب26کروڑ60لاکھ روپے اضافی خرچ کئے گئے .

پشاور اپ لفٹ پروگرام پر مجموعی طور پر 4ارب71کروڑ71لاکھ روپے خرچ کئے گئے اس عرصہ کے دوران مختص بجٹ سے ایک ارب15 کروڑ روپے اضافی خرچ کئے گئے۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق مالی سال2020-21 کے دوران پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی ریکارڈ میں 9ارب 54 کروڑ 63لاکھ روپے کا بجٹ رکھا گیا مختص بجٹ سے 3ارب32کروڑ91لاکھ روپے اضافی خرچ کئے گئے رنگ روڈ کی ناردرن سیکشن میں مختص بجٹ سے 50کروڑ60لاکھ روپے اضافی خرچ کئے گئے آڈٹ رپورٹ پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے قواعد و ضوابط کی خاف ورزی کرتے ہوئے ندھ بنک اور جے ایس بنک میں ایک ارب65کروڑ50لاکھ روپے کی انوسٹ کئے جبکہ رولز کے مطابق ادارہ ایک بنک میں 50کروڑ روپے سے زائد سرمایہ کاری نہیں کر سکتی تاہم یہاں ایک بنک میں 82کروڑ80لاکھ روپے اوردوسرے بنک میں 82کروڑ70لاکھ روپے رکھے گئے ۔

مزید دیکھیں :   غیر قانونی طور پر پاکستان داخل ہونے والے 4 افغان نوجوانوں کی موت

پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے2 ارب73کروڑ10لاکھ روپے کے بلاجواز اخراجات کئے ریکارڈ کے مطابق پشاور بس ٹرمینل پرایک ارب32کروڑ86لاکھ روپے، پشاور اپ لفٹ پروگرام پر59کروڑ51لاکھ روپے، تہکال سے حیات آباد تک جمرود رشاہراہ کی توسیع پر 10کروڑ63لاکھ روپے، شہر میں اندرون شاہراہوں کی تعمیر اور بحالی پر14کروڑ43لاکھ روپے سمیت دیگر مدات میں کروڑوں روپے کے اخراجات کئے گئے جو بلاجواز ہے ڈپٹی کمشنر بنوں کو غیر قانونی طور پر رہائش گاہ دینے سے خزانہ کو96لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا گیا اڈٹ رپورٹ پشاور ریٹائرڈ ملازمین کی کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کرنے پر خزانہ کو ایک کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا گیا لاپتہ بنک چالان اور مشکوک اخراجات کی مد میں خزانہ کو19کروڑ14لاکھ روپے خرچ کئے گئے کمرشل یونٹس کی انسپکشن نہ کرنے سے خزانہ کو ایک ارب19 کروڑ 24لاکھ روپے کا ٹیکہ لگایا گیا ۔پشاور کمرشل یونٹس مالکان سے ایک ارب19کروڑ24لاکھ روپے کی آمدن حاصل نہ کرکے خزانہ کو نقصان برداشت کرنا پڑا نیورو سائنس اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ کیلئے فراہم کردہ اراضی سے35کنال اراضی کی منسوخی نہ کرنے پر خزانہ کو2کروڑ80لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا گیا ۔

مزید دیکھیں :   خیبرپختونخوا میں لمپی سکن بیماری سے146 جانور ہلاک،رپورٹ

حیات آباد میں شاپنگ مال، دفاتر اور رہائشی منصوبوں کی تعمیر کیلئے ماسٹر پلان کی تبدیلی اورعدم وصولی سے خزانہ سے89کروڑ58 لاکھ روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا دستاوازت ڈمپنگ ایریا میں پارک کے قیام اور غیر ضروری اخراجات کی مد میں 14کروڑ58لاکھ روپے خرچ کئے گئے دستاوازت ایک کروڑ 43 لاکھ روپے کے پودے مارکیٹ سے زائد قیمت پر خریدے گئے پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے حکام نے آڈٹ ٹیم سے ترقیاتی منصوبوں کے 5کروڑ11 لاکھ روپے کا ریکارڈ چھپایا تشہیری اخراجات کی رسیدیں گمشدہ ہونے کی صورت میں 10کروڑ روپے کے مشکوک اخراجات کئے گئے اڈٹ رپورٹ جمرود روڈ اور رنگ روڈ پر بل بورڈز اور ہورڈنگ کا ٹھیکہ ایم آئی کے اے بیہ کو دینے سے خزانہ کو14کروڑ50لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا جا چکا ہے ۔

مزید دیکھیں :   ناروے میں مسلح حملے میں 2 افراد ہلاک، درجنوں زخمی

حیات آباد اور ریگی ماڈل ٹان میں دکانوں کو کرایہ پر دینے کے دوران قواعد و ضوابط کی پامالی سے خزانہ کو 50کروڑ روپے سے زائد کا نقصان برداشت کرنا پڑا سال2020-21 میں جھگڑا کے یونین کونسل92میں شفاف طریقہ سے ٹھیکہ نہ دینے سے خزانہ کو3کروڑ67لاکھ روپے کا ٹیکہ لگایا گیا تکنیکی الانس کی مد میں خزانہ سے13 کروڑ 85 لاکھ روپے وصول کئے گئے۔