نعروں کا پاکستان

پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ الا اللہ۔ یہی وہ پہلا نعرہ تھا جو قیام پاکستان کی بنیاد بنا۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے واشگاف الفاظ میں پاکستان کے قیام کا مقصد دنیا کے سامنے رکھتے ہوئے کہا تھا کہ ہمیں پاکستان اسلئے چاہئے کہ حریت ومساوات اور عدالت کا نقشہ دنیا کے سامنے رکھ سکیں۔ مفکر پاکستان علامہ اقبال نے پاکستان کے قیام کا مقصد بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسی ملک کے ذریعے مسلمانوں کو موقع مل جائیگا کہ وہ اصل اسلام جس کی اصل شکل خلافت راشدہ ہے ، دنیا کے سامنے رکھ سکیں۔لیکن بدقسمتی سے یہ نعرہ’ فقط نعرہ ہی رہا اور آنیوالی نسلوں نے اجتماعی سوچ اور قومی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مملکت خداداد کو اپنے ذاتی اورسیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھاکراسے ایڈہاک بنیادوں پر چلانے میں ہی عافیت جانی اور انہی مقاصد کے حصول کے لئے انہوں نے وقت اور حالات کے حساب سے جو مناسب سمجھا وہی نعرہ لگایا اور سیاسی منفعتیں حاصل کیں ۔ قیام پاکستان کے فوراً بعد مملکت خداداد کی تقدیر کو سوشلسٹ اور کمیونسٹ بلاکوں کے درمیان سونپے جانے کے حوالے سے سیاسی قیادت کے درمیان ایک نظریا تی جنگ چھڑ گئی۔ کسی نے مملکت کے مستقبل کو امریکہ کے ساتھ جوڑنے کی وکالت کی تو کسی نے کمیونسٹ بلاک میں جانے کے لئے زور لگایااور یوں ملک میں سرمایہ دارانہ اور اشتراکی نظام کے خلاف اور حق میں طویل بحثیں ہوتی رہیں۔اسی دوران ملک میں جمہوری اور فوجی قوتوں کے درمیان سیاسی رسہ کشی کا کھیل مسلسل جاری رہا۔ کبھی اقتدار جمہوری قوتوں کے ہاتھوں میں رہا تو کبھی فوجی قوتوں کے ہاتھوں میں۔70کی دہائی میں پاکستان پیپلز ہارٹی نے روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگایا۔ عوام کو طاقت کا سرچشمہ قرار دے کر پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے سوشلزم کے ذریعے معیشت کو اٹھانا چاہا لیکن وقت کے فوجی حکمرانوں نے انہیں اس کی مہلت نہیں دی ۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ان کی موت کے بعد ان کے سیاسی جانشینوں نے تقریباً چھ دہائیوں تک اسی نعرے پر سیاست کی لیکن عوام کے پلے ابھی تک کچھ نہیں پڑا ہے۔
وہاں یہ حکم کہ کپڑے بھی چھین لو اسکے
میں منتظر کوئی خلعت حضور سے آئے
فوجی آمروں نے کبھی بنیادی جمہوریتوں کے نام پرعوام کو دھوکہ دیتے ہوئے اپنے سیاسی حلقے بناکر اقتدار کو طول دیا تو کبھی نظام مصطفی کے نام پر اسلامی قوانین کے نفاذکا ڈھونگ رچایا۔ دوسری طرف عوام اسی گھن چکر میں پھنس کر ایک صبح تازہ کی آس لئے اپنی تاریک شاموں کو سحر کرتے رہے۔
فوجی حکومتوں اور سیاسی آمروں کے خلاف کبھی تحریک برائے بحالی جمہوریت(ایم آر ڈی)اور اتحاد برائے بحالی جمہوریت(اے آر ڈی)کے سیاسی پلیٹ فارموں سے حقیقی جمہوری حقو ق کی بحالی کے خوش کن نعرے لگائے گئے تو کبھی اسلامی جمہوری اتحاد(آئی جے آئی)کے سٹیج سے اسلامی قوانین کے حقیقی نفاذکے مسحور کن نعرے لگائے گئے لیکن عوام کو سوائے مایوسیوں اور بڑھتی محرومیوں کے کچھ ہاتھ نہیں آیا۔دوہزار دو میں چھ سیاسی مذہبی جماعتوں کے سربراہان نے متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں حکومتیں بنائیں جبکہ مذکورہ مذہبی سیاسی اتحاد مرکز میں ایک مضبوط اپوزیشن کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آئی۔ ان کے پانچ سالہ دور اقتدار میں جس طرح ان مذہبی سیاسی جماعتوں نے مذہب اور دین کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا بالکل اسی طر ح ان کے سیاسی پیشرو اور حلیف سیاسی جماعت عوامی نیشنل پارٹی نے اقتدار سنبھالتے ہی قوم پرستی کے نام پر پورے پانچ سال تک عوام کا خون چوسا۔ان کے بعد ملکی سیاست میں قدرے نووارد عمران خان نے تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے انصاف کا نعرہ بلند کرتے ہوئے انٹری دے ماری۔کئی سال تک احتساب’ اصلاحات اور انصاف جیسے دلکش نعروں سے عوام کا لہو گرمانے کے بعد جب کپتان اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ گئے تو ان کے اردگرد وہی پرانے چہرے نظر آنے لگے جن کے غضب کرپشن کی عجب کہانیاں بیان کرتے کرتے خان تھکتے نہیں تھے۔ ملکی سیاسی تاریخ کے پچھلے تقریباً75 سالوں سے مسلسل عوام کو مختلف نعروں سے بہکایا جاتارہا ہے اور عوام انہی دلفریب نعروں سے امید لگائے بیٹھے ہیں کہ کہیں نہ کہیں تو ان کے دن پھر جائینگے۔سوچ’ فکر’ نظام اور نظام کو چلانے والے چہرے کم و بیش وہی رہے ہیں ‘ اگر کہیں بدلے بھی ہیں تو حکمرانی باپ سے بیٹے یا بیٹی اور پھر پوتے یا پوتی کی شکل میں نسل در نسل منتقل ہوتی رہی لیکن نعرے وقت اورحالات و واقعات کی ترتیب کے ساتھ ساتھ بدلتے رہے ہیں۔ ان خوش کن و دلفریب نعروں میں سب سے پہلے پاکستان’ پاکستان کھپے’ ابھرتا پاکستان’اورخوشحال پاکستان کے نعرے بھی وقتاً فوقتاً لگتے رہے ہیں ۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان نہ کبھی ترقی کی دوڑ میں ابھرتا نظر آیا’ نہ خوشحال بنا بلکہ پاکستان کو جس طرح سب سے پہلے ذاتی مفادات کیلئے استعمال کیا گیا اس سے وہ اقوام عالم کے سب سے بعد والوں صفوں میں بھی کہیں نظر نہیں آرہا۔ حقیقت یہ ہے کہ مملکت خداداد آج اپنی بقاء کی جنگ لڑرہا ہے۔اسی جنگ کو جیتنے کے لئے صرف کھوکھلے نعروں سے کام نہیں چلے گا ‘ اس کے لئے مخلص اور دیانتدار قیادت کے ساتھ میدان عمل میں اترنا پڑے گا۔