مشرقیات

نظام حکمرانی کے لئے سیاست کے میدان میں لادین جمہوریت کے برابر اور کوئی دوسرا نظام گزشتہ دو صدیوں سے ناپید ہے ۔ بادشاہوں اور آمروں نے بھی اپنے ہاں نام نہاد سہی ایک پارلیمنٹ سی قائم کی ہوتی ہے بھلے اس میں اس کے پسندیدہ ہی لوگ ہوں۔ نظام معیشت کے لئے سرمایہ دارانہ نظام اپنے پنجے اس حد تک گاڑھ چکا ہے کہ اسلامی دنیا میں کئی ایک مفکر سود کونفع اور انٹرسٹ کہہ کراس کی مضرت اور مسلمانوں کے ہاں اس کی حرام قطعی پر بحث مباحثے کو رواج دے دیا ہے ۔ سرمایہ دارانہ نظام کے ہمارے معاشروں اور ملکوں میں جڑیں گہری ہونے کا اندازہ اس سے لگایاجا سکتا ہے کہ اشتراکی روس کے سوشلسٹ نظام کا دھڑن تختہ ہوا اور چین جیسے کٹر کمیونسٹ ملک میں کیمونل نظام کے ساتھ سرمایہ داری کے معاملات بھی متوازی حیثیت اختیار کر چکے ہیں چین ہی کے زیر سایہ ہانگ کانگ میں تو جمہوریت اور کیپٹل ازم زور و شورے سے رواں دواں ہیں۔ نظام معاشرت میں ہر معاشرے میں نکاح کے بندھن کو بنیادی حیثیت حاصل تھی لیکن انسانی فکر و عقل ترقی کے نام اس مقدس اور ضروری ادارے کے بندھن ایسے ڈھیلے کر دیئے کہ اب اسلامی ملکوں میں بھی بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ کی اصطلاحات کا استعمال بغیر کسی عیب و شرم کے ہونے لگا ہے ۔ فلموں ‘ ڈراموں اور میڈیا میں تو اب یہ ضروری عنصر کے طور پر شامل ہوگیا ہے ۔جمہوری نظام میں پارلیمنٹ نے وہ مقام حاصل کیا ہے کہ اس کے مقابل کسی بھی دانا ودانشور کی بات کو کوئی اہمیت ہی نہیں ۔ بھلے پارلیمنٹ بعض اوقات ایسے فیصلے اور قانون سازی بھی کرے جوعقل سلیم اور فطرت کے ہزار خلاف ہو۔ اسی عقل( جو کوئی فطری و مذہبی روک ٹوک ماننے کو تیار ہی نہیں) کے سہارے اور بل بوتے پر بہت دھڑلے کے ساتھ کئی ایک ممالک میں ہم جنس پرستی اور ان کے درمیان باقاعدہ شادی بیاہ کے ذریعے بندھن کو بائیو لاجیکل ضرورت قرار دے کر جائز قرار دیاگیا ہے اور اسے قانونی تحفظ عطا کیا گیا ہے ۔20ویں صدی کے اواخر سے لیکر آج تک انسانی حق نے دنیا کو جس انقلاب سے آشنا کیا ہے ‘ اس میں شک نہیں کہ بعض حوالوں سے انسانیت کے لئے بہت دلچسپ ‘ سہولت آمیز اور اطمینان بخش ہے ‘ لیکن انسان سے انسانیت کا وہ جوہر جس کی بدولت وہ انسان کہلاتاتھا ایسا چھین لیا ہے کہ بعض اوقات بعض جانور بہتردکھائی دیتے ہیں۔ ترقی کے ان صدیوں میں انسان نے ہر چیز کو عقل کے پیمانوں پر جو مانپا شروع کیا تو وہ اس میں اپنا آپ بھی کھو گیا۔

مزید دیکھیں :   مشرقیات