ایمانداری کی پہچان علیم ڈار نے زندگی کی 54 بہاریں دیکھ لیں

دنیائے کرکٹ کے مایہ ناز اور ریکارڈ یافتہ انٹرنیشنل امپائر علیم ڈار نے زندگی کی 54 بہاریں دیکھ لیں، 6 جو 1968 کو پنجاب کے شہر جھنگ میں پیدا ہونے والے علیم ڈار تو اپنے کیریئر کا آغاز دائیں ہاتھ کے بلے باز اور لیگ سپنر کے طور پر کیا اور دس سال تک ڈومیسٹک کرکٹ کھیلی تاہم اس میں کوئی خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے جس کے بعد انہوں نے امپائر کا آغاز کیا اور 32 سال کی عمر میں پہلی مرتبہ 2000 میں بین الاقوامی کرکٹ میچ میں بطور امپائر ذمہ داریاں ادا کیں اور پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا، صرف دو سال کے عرصہ کے دوران علیم ڈار آئی سی سی امپائرز پینل میں شامل ہو گئے اور پھر 2003 میں انہوں نے عالمی کپ کے میچز میں بھی امپائر کی، ان کی شاندار کارکردگی کو دیکھتے ہوئے انہیں ٹیسٹ میچوں میں بھی اسی سال امپائرنگ کی ذمہ داریاں دیدیں گئیں جہاں ان کی جانب سے شاندار فیصلے دیکھتے ہوئے انہیں آئی سی ایلیٹ امپائرز پینل میں شامل کرلیا گیا جس کے بعد سے اب تک علیم ڈار کی پہچان ایک ایماندار امپائر کے طور پر بن گئی ، علیم ڈاٹر 2011،2010 اور 2009 میں مسلسل تین سال امپائر آف دی ایئر کا ایوارڈ جیتے، علیم ڈار واحد امپائر ہیں جنہوں نے اب تک سب سے زیادہ ون ڈے، ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی میچوں میں بطور امپائر ذمہ داریاں نبھائی ہیں تینوں فارمیٹس میں علیم ڈار چار سو سے زائد میچوں میں امپائرنگ کرچکے ہیں۔

مزید دیکھیں :   پاکستان کے پہلے سپورٹس میڈیسن سنٹر کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا