مرجھائے چہروں پر ہنسی بکھیرنے والے فنکار معین اختر کی آج 9 ویں برسی

ویب ڈسک : مرجھائے چہروں پر ہنسی بکھیرنے اورافسردہ دلوں کو خوش رکھنے والے فنکار معین اختر کی آج 9 ویں برسی منائی جا رہی ہے۔

کروڑوں دلوں پر راج کرنے والے صدارتی ایوارڈ یافتہ اداکار معین اختر کی آج 9 ویں برسی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جارہی ہے۔

لیجنڈ اداکار معین اختر کو فن کی اکیڈمی کہا جاتا تھا کیونکہ فلم ہو یا ٹی وی، یا پھراسٹیج ڈرامہ، انہوں نے ہر شعبے میں اپنی خداداد صلاحیتوں کا لوہا منوایا جب کہ  معین اختر کے طنز ومزاح سے بھرپور جملوں نے تہذیب کا ایک نیا پہلو متعارف کروایا۔

معین اختر 24 دسمبر 1950 کو کراچی میں پیدا ہوئے اور انہوں نے فنی کیرئیر کا آغاز 6ستمبر 1966ء کو پاکستان کے پہلے یوم دفاع کی تقاریب کے لیے کیے گئے پروگرام سے کیا۔

لیجنڈ اداکارمعین اخترنے ریڈیو ٹی وی اور فلم میں ادا کاری کے کئی یاد گا جوہر دکھائے، چوالیس سال تک کامیڈی اداکاری گلوکاری اور پروڈکشن سمیت شوبز کے تقریباً ہرشعبے میں ہی کام کیا۔

معین اختر نے طنز و مزاح سے بھرپور جملوں میں تہذیب کا ایک نیا پہلو متعارف کروایا، فنکارانہ خدمات کے اعتراف میں معین اختر کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔

معین اختر کے معروف ٹی وی ڈراموں اور پروگرام میں روزی، انتظار فرمائیے، بندر روڈ سے کیماڑی، آنگن ٹیڑھا، اسٹوڈیو ڈھائی، اسٹوڈیو پونے تین، یس سر نوسر، عید ٹرین اور کئی مشہور اسٹیج ڈرامے آج بھی لوگوں کے ذہنوں پر نقش ہیں

معین اختر نے 1974 میں فلم، تم سا نہیں دیکھا، مسٹر کے ٹو اور مسٹر تابعدار میں بھی اپنے کام سے شائقین کو خوب لطف اندوز کیا جس پر انھیں پرائڈ آف پرفارمنس اور ستارہ امتیاز سے بھی نوازاگیا۔

فن کی دنیا میں مزاح سے لیکر پیروڈی تک اسٹیج سے ٹیلی ویژن تک معین اختروہ نام ہے جس کے بغیر پاکستان ٹیلیویژن کی تاریخ نامکمل  رہے گی۔

شو بزنس کے ہر شعبے میں نظر آنے والے فنکار معین اختر 22 اپریل سن 2011ء کوکراچی میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے تھے لیکن ان کی یادیں آج بھی مداحوں کے چہروں پر موجود مسکراہٹوں میں زندہ ہیں۔