جنگلات جلاناماحولیاتی دہشتگردی

آئے روزجنگلات جلاناماحولیاتی دہشتگردی تونہیں؟ ماہرین نے سرجوڑلئے

پشاور(مشرق رپورٹ )خیبر پختونخوا میں جنگلات کونذرآتش کرنے کے تیزی سے بڑھتے واقعات نے ماہرین کو یہ سوچنے پرمجبور کردیا ہے کہ کہیں ملک میں ماحولیاتی دہشتگردی توسر نہیں اٹھا رہی؟ خیبر پختونخوا کے جنگلات میں آتشزدگی کے واقعات نے تمام ریکارڈ توڑ دئیے ہیں۔

صرف جون کے پہلے ہفتے میں89واقعات رپورٹ کئے گئے تمام واقعات میں آگ لگائی گئی ۔درجہ حرارت بڑھنے کی وجہ سے قدرتی طور پر آگ بھڑکنے کا ایک بھی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا۔ صوبے میں بلین ٹری سونامی کا غلغلہ جس زور وشور سے اٹھایا گیا تھا اب صوبے کے جنگلات کو آگ کی نذر کرنے کے واقعات کا مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پر اتنا ہی شور شرابا ہے ،پہلے پہل اس قسم کی ٴٴوارداتیںٴٴ جب سوشل میڈیا کی زینت بنیں تو یہی سمجھا گیا کہ رائی کا پہاڑ بنا کر اپنے فالورز کی تعداد بڑھانے کا ایک نیا چکر ہے خاص کر ایک ٹک ٹاکر خاتون کے حوالے سے اسلام آباد میں ویڈیو شوٹ کواسی پس منظر میں دیکھاگیا اور جنگلات میں آتشزدگی کے واقعات کو زیادہ توجہ نہیں دی گئی مگر مرض بڑھتا گیا جوں جوں غفلت برتی گئی ۔

اس کے بعد مین سٹریم میڈیا اور سرکردہ شخصیات نے جنگلات کو آگ لگانے کے بے درپے واقعات پر سوال اٹھانا شروع کر دئیے ۔ چند شخصیات نے ان واقعات کوبلین ٹری سونامی منصوبے میں مبینہ بے قاعدگیوں پر پردہ پوشی کی کوشش قراردیا۔ دوسری طرف صوبے کے ان اضلاع میں ماضی کی شدت پسند کارروائیوں کو دیکھتے ہوئے یہ تک کہا جانے لگا کہ کہیں شرپسند عناصر پاکستان کے ماحول کوتباہ کرنے کےلئے نیامحاذنہ کھول بیٹھے ہوں۔ان تمام تر قیاس آرائیوں میں چاہے کوئی صداقت نہ ہو تاہم یہ بہرحال ثابت ہوگیا کہ صوبے کے کئی مقامات پر جنگلات کو آگ لگی نہیں بلکہ لگائی گئی۔

مزید دیکھیں :   سیکورٹی خدشات،امریکہ کاپاکستان کاساتھ دینے کااعلان

پولیس ذرائع کے مطابق اب تک 12 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جو جنگل کو آگ لگانے میں ملوث تھے۔ یہ بھی کہاجارہاہے کہ ذاتی ملکیتی جنگلات کو آگ لگاکرنقصان کے ازالہ کے طورپرامداد ہڑپنے کی کوشش ہوسکتی ہے۔گرفتار افراد میں سے چار کا تعلق ایبٹ آباد سے، تین کا تعلق سوات سے، دو دیر لوئر جبکہ دو کا تعلق ضلع خیبر سے ہے۔