شہنشاہ غزل مہدی حسن

شہنشاہ غزل مہدی حسن کو بچھڑے 10 برس بیت گئے

شہنشاہ غزل کہلانے والے معروف گلوکار مہدی حسن خان کی 10ویں برسی آج عقیدت و احترام سے منائی جا رہی ہے۔وہ 18 جولائی 1927 کو ہندوستان میں پیدا ہوئے۔1957 میں انہیں ریڈیو پاکستان پر بنیادی طور پر ٹھمری گلوکار کے طور پر گانے کا موقع ملا جس کے بعد انہوں نے شاہکار غزلیں گا کر خود کو شہنشاہ غزل کے طور پر منوایا۔حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں نشان امتیاز، تمغہ امتیاز، پرائیڈ آف پرفارمنس اور ہلال امتیاز سمیت متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔انہوں نے اپنے میوزک کیرئیر کے دوران 300 سے زائد فلموں کے لیے گانے گائے

ان کے کہیں فلمی گیتوں کو شہرت حاصل ہوئی جبکہ کچھ گیت بھارت میں بھی نقل کئے گئے۔انہوں نے 1962 میں فلموں میں قدم رکھا اور فلم سسرال کے گانے ”جس نے میرے دل کو درد دیا ”پر اپنی آواز کا جادو جگایا۔ انہیں اصل شہرت 1964 میں اس وقت ملی جب انہوں نے فلم فرنگی کے لیے ”گلوں میں رنگ بھرے” گایا۔فلموں کیلئے ان کی غزل ‘رنجش ہی سہی’ نے بھی خوب شہرت حاصل کی۔

1999 میں پھپھڑوں کی بیماری کے باعث مہدی حسن نے گلوکاری کو مکمل طور پر ترک کردیا،مہدی حسن کو نیپال کی حکومت نے آرڈر آف گورکھا دکشینہ باہو سے نوازا، جو روایتی طور پر بادشاہ کی طرف سے 1983 میں دیا جانے والا سب سے بڑا اعزاز ہے اور بھارتی حکومت نے انہیں کے ایل سیگل سنگیت شہنشاہ ایوارڈ سے نوازا۔انہوں نے 2012 میں آج کے دن کراچی میں طویل علالت کے بعد آخری سانس لی۔