روسی سفیر

تیل فراہمی کا پاکستان سے کوئی معاہدہ نہیں ہواتھاٴ روسی سفیر

پشاور:پاکستان میں روس کے سفیر ڈینیلا گانیچ نے کہا ہے کہ ان کی رائے میں روس کا دورہ سابق وزیر اعظم عمران خان کو اقتدار سے ہٹانے کے عوامل میں سے ایک ہو سکتا ہے لیکن انہوں نے مزید کہا کہ یہ سراسر اتفاق ہے کہ عمران خان یوکرین کی جنگ کے دن روس میں تھے۔

میرے خیال میں یہ ایک وجہ تھی لیکن میں یہ بھی جانتا ہوں کہ یہ سراسر اتفاق تھا کہ وہ اسی دن ماسکو میں تھے،اگر انہیں معلوم ہوتا کہ اسی دن آپریشن شروع ہو جائے گا تو یقیناً وہ اسی دن وہاں آنے سے گریز کرنے کی کوشش کرتے۔

مزید دیکھیں :   وزیراعظم شہبازشریف کی آصف زرداری سے اتحادیوں کو منانے کی درخواست

سفیر کی حیثیت سے میں آپ کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنا پسند نہیں کرتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ پاکستانی حکام نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ کوئی سازش نہیں تھی۔گانچ نے کہا کہ روس اور پاکستان کے درمیان خان کے اس دعوے کہ روس نے ان کی حکومت کی کوششوں سے پاکستان کو 20 فیصد اور 30 فیصد ڈسکائونٹ پر گندم اور تیل فروخت کرنے پر اتفاق کیا ہے پر بات کسی معاہدے یا ایم او یو تک نہیں پہنچی۔

سفیر نے انکشاف کیا کہ میں تصدیق کر سکتا ہوں کہ ہم نے کوئی مفاہمت نامے پر دستخط نہیں کیے جہاں تک تیل اور گندم پرکسی قسم کی چھوٹ کی پیشکش کی جا سکتی تھی، میں اس پر تبصرہ نہیں کر سکتا، کیونکہ یہ خفیہ مذاکرات ہیں۔ واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم خان نے حال ہی میں کہا تھا کہ ان کے دور اقتدار میں پی ٹی آئی حکومت نے روس سے سستا تیل اور گندم خریدنے کا معاہدہ کیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی حکومت اقتدار میں رہی تو پاکستان کو پیٹرول بم کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

مزید دیکھیں :   افغانستان سے لائے دنبوں پر110روپے فی کلوکے حساب سے ٹیکس