ہنر اور مہارت کے بغیر کامیابی

ہنر اور مہارت کے بغیر کامیابی کے خواب دیکھنا

میں ایک پسماندہ علاقہ میں وعظ کرنے کے لیے گیا، جب میں نے وعظ ختم کیا تو ایک آدمی آگے بڑھا ، اس نے کہا:
میں چاہتا ہوں کہ آپ کچھ طالب علموں کے پڑھنے کے لیے مدد کریں۔

میں نے کہا کیا سکول میں تعلیم مفت نہیںہے؟
اس نے کہا جی بالکل ہے مگر یونیورسٹی میں داخلہ کے لیے ہم مدد چاہتے ہیں؟
میں نے کہا ہمارے ہاں تو یونیورسٹی میں داخلہ و تعلیم بھی مفت ہے … بلکہ یونیورسٹی میں وظیفہ بھی ملتا ہے۔
اس آدمی نے کہا کہ میں آپ کو تفصیلاً بتاتا ہوں۔

میں نے کہا بتائو: آدمی نے کہا ہمارے دیہات میں جب لڑکا بارہ جماعتیں پوری کر لیتا ہے اور یونیورسٹی کے لیے کوشش کرتا ہے تو والدین اسے منع کرتے ہیں … کیونکہ یونیورسٹی ہمارے دیہات میں تو نہیں بلکہ باہر شہر میں جانا پڑتا ہے … تو جب لڑکا جانا چاہتا ہے تاکہ اپنی پڑھائی پوری کرے … ڈاکٹر بنے … یا کمپیوٹر سیکھے … تو والد اسے منع کر دیتا ہے کہ نہیں جانا بلکہ میرے پاس رہ کر بکریاں چرائو ۔

میں نے افسوس و حیرانگی میں اونچی آواز سے کہا : بکریاں چرائے؟
آدمی نے کہا جی ہاں بکریاں چرائے … پھر لڑکا اپنے باپ کے پاس بکریاں چراتا ہے اور اس کی تعلیم ناقص رہ جاتی ہے اور اس کے اندر جو صلاحیت تھی اور ہنر تھا ، ختم ہو جاتا ہے اور سالوں کے سال گزر جاتے ہیں اور وہ بکریاں چراتا رہتا ہے، پھر شادی ہو جاتی ہے ، بچے ہو جاتے ہیں تو لڑکا اپنے بیٹوں کے ساتھ بھی والد جیسا سلوک کرتا ہے۔

مزید دیکھیں :   بکھرے ہوئے دودھ پر مت روئیں

تو میں نے کہا … اس کا حل یہ ہے کہ آپ والدین کو سمجھائیں اور ان کے لیے بکریاں چرانے والا باہر سے لے آئیں اور اس کی تنخواہ مقرر کر دیں تاکہ اس کا لڑکا اپنا ہنر بڑھائے اور تعلیم پوری کر لے… پھر آدمی نے اپنا سر نیچے کیا کہنے لگا…کتنی ناگوار بات ہے کہ ان لڑکوں کے ہنر اور مہارت ان کے سینوں میں دبے رہیں اور اس پر حسرت آتی رہے کہ ہم نے تعلیم پوری نہیں کی۔

میں نے اس بات کے بارے سوچا تو پتا چلا کہ آدمی بلندی پر نہیں چڑھ سکتا ، نہ کامیاب ہو سکتا ہے ، سوائے جب کوئی مہارت نہ سیکھ لے ، میں آپ سے شرط لگاتا ہوں کہ کوئی آپ کو مہارت کے بغیر کامیاب نظر نہیں آئے گا چاہے علم میں … دعوت دین میں … وعظ میں … تجارت میں … ڈاکٹری میں … لوگوں کے دلوں میں اپنی محبت ڈالنے میں جو کامیاب ہوتا ہے تو وہ محسوس کرے یا نہ کرے ، اس نے مہارت استعمال کی ہے … بعض دفعہ لوگ مہارت دکھاتے ہیں اور استعمال کرتے ہیں ، یہ مہارت ان کی طبیعت میں راسخ ہوتی ہے مگر کچھ لوگوں کو مہارت سیکھنے سے آتی ہے تو پھر مہارت استعمال کرتے ہیں۔
ہم ان لوگوں کے حالات پر روشنی ڈالیں گے جو مہارت سے کامیاب ہو گئے ہیں اور ان کے راستے دیکھیں گے تاکہ ہمیں پتہ چلے کہ وہ کیسے کامیاب ہوئے ہیں؟ اور کیا ہم وہ راستے اپنے لیے اپنا سکتے ہیں۔

مزید دیکھیں :   دعا قبول نہ ہونے کے دس اسباب

سعودیہ کے ایک بڑے امیر ترین شیخ کا انٹرویو ہوا ، میں نے دیکھا کہ اخلاق میں اور فکر میں پہاڑ جیسے ہیں … بہت بڑی مال و دولت کے مالک ہیں… کئی مسجدیں بنائیں… کئی ہزار یتیموں کی کفالت کی ہے… محسوس ہوا کہ کامیابی کی بلندی پر چڑھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے پچاس سال پہلے اپنی زندگی کے بارے میں بتایا کہ میں عام لوگوں میں سے تھا ، کبھی کھانا ملتا کبھی نہ ملتا، کبھی ایسی حالت آ جاتی کہ کھانے کے لیے لوگوں کے گھر صاف کرنے پڑتے … اور بتایا کہ کیسے کامیابی کے پہاڑ کے نیچے کھڑے تھے اور کیسے کامیابی کے پہاڑ پر چڑھے۔

مزید دیکھیں :   دعا قبول نہ ہونے کے دس اسباب

میں نے سوچا کہ بہت لوگ کامیابی اور مہارت میں اللہ تعالیٰ کی مدد کے ساتھ ان جیسے بن سکتے ہیں اور اگر کوئی مہارت سیکھ کر اس مہارت پر جدوجہد کی۔
ایک بات ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے اندر کوئی مہارت ڈھونڈیں … اس لیے کہ بعض لوگوں کے اندر کئی ہنر اور مہارات دبی ہوئی ہیں …مگر وہ لوگ ان سے غافل ہیں ، شاید اس لیے کہ کسی نے مہارت نکالنے میں ان کی مدد نہیں کی … کبھی کوئی اپنے آپ اپنے اندر سے ہنر یا مہارت نکالتا بھی ہے اور ایسے بہت کم لوگ ہیں اور کبھی یہ ہنر و مہارت دبی رہتی ہے حتیٰ کہ دوسرے لوگوں کی عادت اپنا لیتے ہیں … اس وقت ہم نئی مہارت و ہنر سے محروم ہو جاتے ہیں۔ ہم آپ کو ہنر یاد دلائیں گے۔