پُرامید کی دعا کبھی رائیگاں نہیں جاتی

جس دن میں نے بغداد کو خیر باد کہا ، تب سے ترقی اور خوش حالی نے میری راہیں دیکھ لی اور میرے گھر میں ڈیرا ڈال لیا۔ بے بسی اور لاچارگی ایسی دور نکل گئی کہ آج تک الحمد للہ لوٹ کر نہیں آئی

ابو طیب بن جنید کہتے ہیں ۔ابوبکر محمد بغدا د میں مقام ’’قصر فرج‘‘ کے قریب ہمار ے گھروں کے نزدیک رہتے تھے۔ اس وقت ان کی معاشی حالت انتہائی خراب تھی۔ ان کی چھوٹے سے مکان کے دروازے پر ایک معمولی سی دکان تھی۔ جس پر وہ صبح سے رات گئے تک بیٹھے رہتے تھے۔ دکان کی ایک جانب ان کا ایک جانور بندھا رہتا تھا، جسے وہ چارہ پانی دیا کرتے تھے۔ بیت المال کی طرف سے اُنھیں ماہانہ معمولی وظیفہ دیا جاتا تھا اور وہ بھی اکثر وبیشتر تاخیر سے پہنچتا تھا۔ اس لیے بہت کم ہی وہ اس سے فائدہ اٹھا پاتے۔ بے چارے کافی تنگ دستی کی زندگی گزارتے تھے اور اُن کے اہل و عیال کی بھی کافی تعداد تھی۔ نرینہ اولاد نہ تھی۔ صرف بیٹیاں تھیں۔ غربت ،فقر و فاقہ اور افلاس سے صبر آزما جنگ میں ان کی زندگی بسر ہو رہی تھی۔

ابو القاسم یحییٰ بن زکریا اور ان کے بیٹوں ’’ابوالحسن اور ابو جعفر‘‘ میں سے کوئی بھی اس طرف سے گزرتا تو وہ پورے ادب و احترام سے ان کے استقبال کے لیے کھڑے ہو جاتے اور اس وقت تک کھڑے رہتے جب تک کہ وہ نظروں سے اوجھل نہ ہو جاتے اور ان کے سامنے مکمل عاجزی ظاہر کرتے۔ ابو طیب بن جنید کہتے ہیں :’’میں جب بھی ان کی دکان پر آتا اور ان کے ساتھ بیٹھتا تو وہ مجھ سے کافی انسیت سے پیش آتے اور کافی دیر تک مجھ سے باتیں کرتے رہتے جس میں وہ اپنی بے چارگی ، بے بسی، فقر و افلاس اور اہل و عیال کی کثرت کا رونا روتے اورکہتے :’’کاش کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جو اولاد دی ، اس میں ایک بیٹا بھی ہوتا! تاکہ اُس سے میری کم ازکم ڈھارس تو بندھتی اور اس کے ذریعے سرور و نشاط کا کچھ سامان تو حاصل ہوتا اور ان لڑکیوں کی کثرت کی وجہ سے مجھے اس وقت جس اذیت اور تکلیف کا سامنا ہے، تھوڑی بہت تکلیف تو کم ہوتی ۔‘‘

مزید دیکھیں :   بکھرے ہوئے دودھ پر مت روئیں

ابو طیب کہتے ہیں :’’ابو بکر محمد کا یہ ایک دور تھا۔ پھر زمانے نے کروٹ لی، حالات کے موسم بدل گئے اور وقت اس کے حق میں سازگار ہوگیا۔ ہوا یوں کہ ملک شام جانے والے ایک فوجی قافلے کے ساتھ وہ بھی بغداد کو خیر باد کہتا ہوا چل نکلا اور وہ ایک عرصے تک پلٹ کر نہیں آیا۔ اس عرصے میں ہم بھی اُسے بھول گئے کہ کوئی ابوبکر محمد بھی یہاں ہوا کرتا تھا؟ وہ اُدھر بدلتا ہی چلا گیا اور ترقی کرتے کرتے وہ اتنا آگے نکل گیا کہ کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ ایک بے بس انسان اس مقام تک پہنچ جائے گا۔ وہ ملک شام میں فقیری کی حالت میں داخل ہوا تھا مگر اپنی خداداد صلاحیتوں اور قدرت کی دست گیری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک مصر کا بادشاہ بنا۔ اس کی عظمت شان، اس کے ملک کی بلند کرداری ،اس کی حکومت کی بھلائی اور اس کی اولاد کی نیک نامی کے چرچے آج تک ہر ایک کی زبان پر ہیں۔‘‘

ہمارے پڑوس میں ایک بڑے تاجر رہتے تھے جن کا ملک مصر جانا ہوا۔ وہ ابوبکر محمد کو بہت اچھی طرح جانتے پہچانتے تھے بالخصوص اس کے وہ حالات جس میں وہ بے بسی کی زندگی بسر کرتا تھا۔ ان کی نظروں سے اوجھل نہیں تھے۔ وہ چند سال مصر میں ٹھہر کر واپس بغداد آئے تو اُنہوں نے ابوبکر محمد کی سلطنت کی وسعت اور اس کی حکومت کی عظمت کے حیرت انگیز واقعات بیان کیے۔

ان کا کہنا تھا:’’یہ وہ ابوبکر محمد ہرگز نہیں تھا، جو بغداد میں چھوٹی سی دکان پر مسکینوں کی صورت میں بیٹھا کرتا تھا۔ وہ تو کوئی اور ہی ابوبکر محمد ہے جو آج بادشاہت کا تاج سر پر سجائے ہوئے تھا۔

ابو طیب! مصر میں اُس نے مجھے دیکھتے ہی اپنے پاس بلا لیا اور میری خوب آئو بھگت کی ۔ کافی دیر تک تو وہ مجھے اپنے ملک میں آنے پر مبارک باد پیش کرتا رہا اور پھر مجھ سے باتیں کرتا رہا، ایک ایک کے بارے میں دریافت کرتا، یہاں تک کہ بنو شیر زاد اور ان کے پڑوسیوں تک کا بھی اُسے معلوم تھا اور اُن کے بارے میں بھی پوچھا کہ اُن کا کیا حال ہے؟

مزید دیکھیں :   دعا قبول نہ ہونے کے دس اسباب

باتیں کرتے کرتے وہ گویا ہوا:’’تمام تعریفیں اُس ذات کے لیے ہیں جس کے دست قدرت میں سارے معاملات ہیں۔ اے بھائی !تمہیں پتا ہے کہ بغداد میں میں کیسی زندگی بسر کرتا تھا،کس قدر تنگی ،افلاس اور فقر و فاقوں کا شکار تھا، بالخصوص بیٹیوں کی فکر نے زندگی کو تنگ کر کے رکھ دیا تھا۔‘‘

تاجر کہتے ہیں:’’میں نے کہا کہ بالکل! مجھے اچھی طرح آپ کے حالات کا پتا ہے ۔کہنے لگا :’’اللہ کی قسم! میری تمنا تھی اور اللہ تعالیٰ سے اس کی دعا بھی کرتا تھا کہ مجھے ایک بیٹا عطا فرما! مگر ہر مرتبہ بیٹی کی ہی ولادت ہوتی، یہاں تک کہ میری دس بیٹیاں ہوگئیں اور لڑکے کی ولادت نہ ہو سکی۔ لیکن اللہ کی رحمت سے امید تھی کہ وہ ضرور میری مدد کرے گا اور مجھے نرینہ اولاد اور مال و متاع سے نوازے گا۔ اسی طرح میری بچین کی خواہشات میں سے ایک خواہش یہ بھی تھی کہ مجھے ایک چت کبرا جانور میسر ہو جس پر میں سواری کیا کروں۔ اس جانور سے متعلق میر ا گمان یہ تھا کہ جس دن میں اس پر سواری کو لوں گا تب میرے دن پھر جائیں گے اور خوش حالی آئے گی۔ مگر ادھیڑ عمر ہونے تک ان دونوں میں سے کوئی بھی خواہش پوری نہ ہو سکی۔ جس دن میں نے بغداد کو خیر باد کہا ، تب سے ترقی اور خوش حالی نے میری راہیں دیکھ لی اور میرے گھر میں ڈیرا ڈال لیا۔ بے بسی اور لاچارگی نے گھر سے کوچ کرنے میں ہی خیر جانی اور وہ ایسی دور نکل گئی کہ آج تک الحمد للہ لوٹ کر نہیں آئی ۔

اللہ تعالیٰ نے میری پہلی خواہش پوری کی اور ہر سال ایک ایک بیٹا دیا ، یہ کہتے ہوئے اُس نے چند خوب رو لڑکوں کی طرف اشارہ کیا ، جو حسن و جمال میں مور کی مانند تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے میری دوسری خواہش بھی پوری کی اور مجھے اعلیٰ نفیس ترکی گھوڑوں، خچروں اور انواع و اقسام کے چت کبرے جانوروں کا مالک بنا یا۔ مجھے اس قدر جانوروں کا مالک بنایا کہ میری سوچ کے مطابق اس قدر سواریوں کا آج تک کوئی بھی مالک نہیں بنا ہوگا۔ آج عالم یہ ہے کہ میری اولاد کے اپنے ذاتی اصطبل اتنے ہیں کہ شمار سے باہر ہیں۔ آئو ، میرے ساتھ چلو! میں تمہیں اصطبل کی سیر کواتا ہوں ،تاکہ تمہیں دیکھ کر اندازہ ہو کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتنی مہربانیاں فرمائی ہیں۔

مزید دیکھیں :   بکھرے ہوئے دودھ پر مت روئیں

اس نے میرا ہاتھ تھاما اور اصطبل گھمانے لگا ، ایک اصطبل میں میں نے صرف چت کبرے جانوروں کی پانچ سو سے بھی زائد قسمیں دیکھی ، جسے میں ششدر کھڑا دیکھتا ہی رہ گیا ، وہ اصطبل کے نگرانوں سے پوچھتا :’’جی!اس میں کتنے جانور ہیں ؟‘‘وہ کہتے :’’اس میں پانچ سو ہیں، اُس میں چار سو ہیں ، فلاں میں اتنے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔‘‘

اصطبلوں کی سیر کر کے ہم واپس ہوئے۔ اس سیر نے میرے اندر تازگی پیدا کر دی اور ابوبکر محمد ان نعمتوں ، فضیلتوں اور احسانوں پر اللہ تعالیٰ کا رو رو کر شکریہ ادا کرنے لگا کہ یہ سب اُسی کا کرم ہے، اس نے میرا بھر پور خیال رکھا اور میر ے تمام مسئلوں کو حل کیا، بالآخر میں ملک شام پورے اعزاز و اکرام کے ساتھ واپس لوٹ گیا۔‘‘

دل کی رغبت اور خوف کے ساتھ دعا مانگنا ، انبیا علیہم السلام کی سنت ہے قرآن کریم میں ان کی یوں تعریف کی گئی ہے:ترجمہ:یقیناً یہ لوگ بھلائی کے کاموں میں تیزی دکھاتے تھے اور ہمیں شوق اور رغبت کے عالم میں پکارتے تھے اور ان کے دل ہمارے آگے جھکے ہوئے تھے۔‘‘

اللہ تعالیٰ کی ذات سے نیک گمان رکھنا بہت ضروری ہے ،کیوں کہ اللہ تعالیٰ بندوں کے ساتھ ان کے گمان کے مطابق فیصلہ فرماتے ہیں۔ حدیث میں ہے:’’میں بندے کے میرے متعلق گمان کے پاس ہوتا ہوں ، یعنی اس کے گمان کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں۔