قتل کے بعد خاتون کی خاموشی سے تدفین

قتل کے بعد خاتون کی خاموشی سے تدفین

نعمان جان :پشاور میں ایک اور حوا کی بیٹی معاشرے کے ظلم و بربریت کی شکار ہوگئی اور اسے پسند کی شادی مہنگی پڑگئی جس میں اسے اپنی جان سے بھی ہاتھ دھونا پڑا ہے.

مشاہدے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پسند کی شادی کا انجام اکثر ٹھیک نہیں ہوتا اور کئی ایسی مثالیں موجود ہیں جس میں ایسے جوڑے کو اکثر کئی آزمائشیوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور گھر بار چھوڑنے کے علاوہ کبھی کبھار انہیں قتل بھی کر دیا جاتا ہے۔

گھر وں میں ایسی خواتین کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھا جاتا ہے جس نے اپنی مرضی سے شادی کی ہو اور معاشرے میں بھی اسے قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔ پشاور کے علاقے پھندو میں کچھ ایسا ہی ایک خاتون کے ساتھ پیش آیا جس نے پسند کی شادی کی تھی تاہم اس کی یہ شادی زیادہ دیر تک نہ چل سکی۔

تقریباً ڈیڑھ سال قبل سحر نامی لڑکی نے پھندو کے رہائشی فیروز خان سے شادی کر لی تھی اور لواحقین کے مطابق شادی کے بعد سے اس کی زندگی اجیرن بنا دی گئی تھی، 28اپریل کواس کے والدین کو سحر کی اچانک موت کی خبر ملی تو ان کے پیروں تلے جیسے زمین نکل گئی، ظالم شوہر اور سسر نے ورثاء کو بتائے بغیر جواں سالہ خاتون کی نعش خاموشی سے دفنا دی تھی اور خاندان میں یہ ڈرامہ رچایا کہ اس کی موت طبی تھی تاہم ان کا یہ ڈرامہ زیادہ دیر تک نہ چل سکا، بعد میں ورثاء نے پھندو پولیس سے رجوع کیا اور بتایا کہ انہیں شک ہے کہ سحر کی موت طبی نہیں بلکہ اسے قتل کیا گیا ہے.

مزید دیکھیں :   متھرا،بدبخت بیٹے نے باپ کو قتل کردیا

جس کے بعد پولیس نے سحرکے شوہر فیروز خان اور سسر عین اللہ اورگھر کے دیگر افراد سے پوچھ گچھ شروع کی جبکہ نعش کا پوسٹ مارٹم کرنے کیلئے قبرکشائی کا بھی فیصلہ کیا گیا جس کیلئے مجسٹریٹ کی عدالت میں درخواست دی گئی جس نے قبرکشائی کی اجازت دی۔ مجسٹریٹ کی موجودگی میں جب قبرکشائی کی گئی تو اس وقت رقت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے۔ پولیس نے نعش نکال کر پوسٹ مارٹم رپورٹ کیلئے منتقل کی تو اس دوران انکشاف ہوا کہ سحر کی موت طبعی نہیں تھی بلکہ اسے فائرنگ کرکے قتل کیا گیا ہے۔

واقعہ سے متعلق ایس پی سٹی پشاور عتیق شاہ نے بتایا کہ خاتون کو قتل کرنے کے بعد اس کی تدفین خاموشی سے کی گئی اور اس کے ورثاء کو اطلاع تک نہیں دی گئی جس سے شکوک وشہبات نے جنم لیا، تفتیش کے دوران مقتولہ کے شوہر اور سسر پر شک گزرنے پر انہیں حراست میں لیا گیا جنہوں نے حقائق سے پردہ اٹھایا اور خاتون کو گھریلونا چاقی پر قتل کرنے کا اعتراف کیا،

مزید دیکھیں :   نوشہرہ میں سرکاری آٹے کی چوری پکڑی گئی

انہوں نے بتایا کہ خاتون نے دوسال قبل پسند کی شادی کی تھی جس کا ایک شیر خوار بچہ بھی ہے جسے ماں کے سائے سے محروم کر دیا گیا ہے، مقتولہ خاتون کو مارپیٹ کے علاوہ اسے ذہنی و جسمانی اذیت دی جاتی تھی جبکہ بعد میں اس کی جان لے کر ورثاء کو بتائے بغیر رحمان بابا قبرستان میں اسے سپرد خاک کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ واردات کے بعد ملزمان گھر بار چھوڑ کر دوسری جگہ منتقل ہوگئے تھے، مقتولہ کا شوہر فیروز کوئی کام کاج نہیں کرتا تھا اور اس کا کوئی خاص روزگار نہیں تھا۔ پولیس نے بتایا کہ مقتولہ کا جنازہ پڑھانے والے مولوی کے علاوہ دیگر افراد کو بھی شامل تفتیش کیا گیا ہے جبکہ پولیس کو مقتولہ کے پوسٹ مارٹم رپورٹ کا بھی انتظار ہے جس سے مزید حقائق سامنے آ سکیں گے۔ اسی طرح نشہ کے استعمال سے متعلق بھی ملزم کامیڈیکل چیک اپ کیا جائے گا کہ آیا وہ کسی نشے کا عادی تو نہیں ہے۔

ملزم باپ بیٹے کوگرفتاری کے بعد میڈیا کے سامنے بھی پیش کیا گیا جبکہ ان سے مزید پوچھ گچھ کیلئے عدالت میں پیش کرکے ان کی جسمانی ریمانڈ بھی حاصل کی گئی جس کے بعد انہیں جیل بھیج دیا گیاہے۔

دوسری جانب غم سے نڈھال مقتولہ کی ماں فرح بی بی نے گلبہار پولیس اسٹیشن آ کر بتایا کہ اس کی معصوم بیٹی پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے گئے ہیں، اس واقعہ سے قبل اس کے جواں سالہ بیٹے کو قتل کیا گیا اور اب اس کی جوان بیٹی کو بھی موت کی نیند سلا دیا گیا ہے جبکہ اسے بچی کی شکل تک نہیں دکھائی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً 6ماہ قبل اس کے جواں سال بیٹے بلال کو پشاور کے علاقے حاجی کیمپ میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا تھا۔

مزید دیکھیں :   پشاور ریلوے کوارٹر میں 11 سالہ بچی کی مبینہ زیادتی کے بعد پھندا لگی لاش برآمد

اس کے بیٹے نے رات کوشیو کرکے مجھے بتایا کہ اس کا کوئی کام ہے لہذا وہ صبح کہیں جائے گا جس کے بعد وہ صبح گھر سے نکلا تو اسے راستے میں نامعلوم افراد نے مار دیا اور اس کے قاتلوں کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ انہوں نے بتایا کہ ظالم باپ بیٹا اسے اپنی بیٹی سے ملنے کیلئے بھی نہیں چھوڑتے تھے اور اس پر ظلم کرتے تھے حالانکہ دونوں نے پسند کی شادی کر رکھی تھی۔ خاتون کی رپورٹ پر پولیس حکام نے اس کے بیٹے بلال کے قتل کیس سے متعلق بھی انکوائری بٹھا دی اور متعلقہ انویسٹی گیشن افسران کو ٹاسک حوالے کر دیا گیا ہے کہ وہ واقعہ کی تفتیش کرکے اس میں ملوث افراد کا کھوج لگائے ۔