قریب رہ کر اپنوں کی قدر کریں

انگریزی کا ایک فقرہ ہے، اس کو میرے دوستو یاد کر لیجئے بلکہ گھر میں کہیں لکھ کر لٹکا لیجئے۔
House is built by hands but home is built by hearts.
کہنے والے نے کہا کہ مکان تو ہاتھوں سے بن جاتے ہیں مگر گھر ہمیشہ دلوں سے بنا کرتے ہیں۔ اینٹیں جڑتی ہیں تو مکان بن جاتے ہیں ، مگر جب دل جڑتے ہیں تو مکان آباد ہو جایا کرتے ہیں۔ ہم ان باتوں کو توجہ سے سنیں اور اچھی ازدواجی زندگی گزارنے کی کوشش کریں۔

دیارِ غیر میں بیٹھے ہم وطنوں کے چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہونے والے جھگڑے جب مقامی انتظامیہ کو پہنچتے ہیں تو وہ اسلام پر ہنستے ہیں، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر انگلیاں اٹھاتے ہیں ، کتنی بدبختی ہے۔ اگر ہم نے اپنی کم ظرفی کی وجہ سے کسی کو اسلام پر انگلی اٹھانے کا موقع دیا، چھوٹی چھوٹی باتیں اپنے گھر میں سمیٹ لیا کریں۔

مزید دیکھیں :   دعا قبول نہ ہونے کے دس اسباب

ایسا جھگڑا نہ بنائیں جو کمیونٹی میں ٹاک آف دی ٹائون (Talk of the Town)بنا کرے۔ ہم اپنی ذات کے خول سے باہر نکلیں۔ ہم مسلمانوں کی بدنامی کی بجائے مسلمانوں کی نیک نامی کا ذریعہ بنیں۔ آج ایسی سوچ رکھنے والے اتنے تھوڑے ہیں کہ چراغ رُخ زیبا لے کر ان کو ڈھونڈنے کی ضرورت ہے۔

عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جب میاں بیوی قریب ہوتے ہیں تو ایک دوسرے سے لڑائیاں ہوتی ہیں ، اگر اسی حالت میں خاوند فوت ہو جائے تو یہی بیوی ساری زندگی خاوند کو یاد کر کے روتی رہے گی کہ جی اتنا اچھا تھا ، میرے لیے تو بہت ہی اچھا تھا۔ اگر بیوی فوت ہو جائے تو یہی خاوند ساری زندگی یاد کر کے روتا ہے کہ بیوی اچھی تھی ، میرا کتنا خیال رکھتی تھی۔ ایک کہاوت ہے کہ ’’بندے کی قدر اس کے مرنے کے بعد آتی ہے‘‘۔

مزید دیکھیں :   بکھرے ہوئے دودھ پر مت روئیں

ہم بندے کی قدر اس کے قریب رہتے ہوئے کر لیا کریں۔ کئی مرتبہ یہ دیکھا گیا ہے کہ میاں بیوی جھگڑے میں طلاق یا خلع کی نوبت آ جاتی ہے۔ جب ہوش آتی ہے تو خاوند اپنی جگہ پاگل بنا پھرتا ہے اور بیوی اپنی جگہ پاگل بنی پھرتی ہے۔ پھر مذہبی رہنمائوں کے پاس جاتے ہیں کہ مولانا صاحب کوئی ایسی صورت ہو سکتی ہے کہ ہم پھر سے میاں بیوی بن سکیں، ایسی صورت ہرگز نہیں آنے دینی چاہیے۔ عفو و درگزر اور افہام و تفہیم سے کام لینا چاہیے۔ بلکہ ایک روٹھے تو دوسرے کو منا لینا چاہیے۔

مزید دیکھیں :   دعا قبول نہ ہونے کے دس اسباب