مہارت اور سلیقہ مندی سے آگے بڑھیں

مہارت اور سلیقہ مندی سے آگے بڑھیں

بعض دفعہ لوگوں کے ساتھ بیٹھنا ہوتا ہے تو دیکھتے ہیں کہ بیس سالہ لڑکا بہت ترقی کر چکا ہے، اخلاق میں بھی بہت اچھا ہے، ہنر و مہارت بھی ہے… بعض دفعہ تیس سالہ نوجوان کے ساتھ بیٹھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ اس نے کوئی ترقی نہیں کی، نہ کوئی ہنر نہ کوئی مہارت اپنائی ہے،

اگر اس جیسے اور نوجوانوں کے ساتھ بیٹھیں تو انہوں نے اپنی زندگی سے فائدہ اٹھایا ہے، ہر ایک دوسرے دن کے اندر ترقی کیے جا رہے ہیں بلکہ ان کے اوپر ایک گھنٹہ بھی گزرتا ہے تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔

مجھے ایک عربی محاورہ یاد آ رہا ہے کہ ہر برتن سے وہی چیز نکلتی ہے جو اس میں ہوتی ہے ۔ ذرا ان لوگوں کو دیکھیں جو اخباروں اور رسالوں وغیرہ کو پڑھتے ہیں، جن کے پڑھنے سے مہارت اور علم و معرفت حاصل ہوتی ہے…

دوسری قسم کے وہ لوگ ہیں جو رسالوں میں صرف فحش چیزوں پر توجہ کرتے ہیں ایسی مثالیں اپنی مجلسوں اور اپنے اوقات میں شامل کریں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ عزت والے بنیں اور ذلیل نہ ہوں تو کوئی نہ کوئی ہنر یا مہارت حاصل کریں۔

مزید دیکھیں :   بکھرے ہوئے دودھ پر مت روئیں

عبداللہ ایک چست لڑکا تھا … مگر اس میں لوگوں کے ساتھ معاملہ کرنے کی مہارت کمزور تھی … ایک دن ظہر کی نماز کے لیے اپنے گھر سے مسجد کی طرف نکلا… وہ جلدی جلدی چل رہا تھا اور ڈر رہا تھا کہ مسجد میں پہنچنے سے پہلے ہی نماز نکل نہ جائے۔

راستے میں ایک کھجور پر ایک آدمی کھجوریں اُتار رہا تھا… عبداللہ کی جب اس پر نظر پڑی تو سوچنے لگا کہ یہ کون ہے جو ابھی تک کام میں مصروف کھڑا ہے، اس کو نماز کی کوئی فکر بھی نہیں ہے؟ جیسے اس نے اذان کی آواز ہی نہ سنی ہو، تو عبداللہ نے غصہ میں زور سے چلا کر کہا اترو اور نماز پڑھو تو اس آدمی نے بالکل ٹھنڈے مزاج سے کہا … ٹھیک ہے ٹھیک ہے

مزید دیکھیں :   دعا قبول نہ ہونے کے دس اسباب

عبداللہ نے دوبارہ جلالی آواز میں کہا کہ اے گدھے … نماز پڑھ !! …
آدمی چلایا میں گدھا ہوں؟ تو اس نے کھجور سے ایک ٹہنی توڑ لی اور نیچے اُترنے لگا تاکہ اس کے سر میں مارے ۔ جب عبداللہ نے اس کو اس طرح اترتے دیکھا تو رومال سے اپنا منہ چھپا لیا تاکہ وہ اسے پہچان نہ سکے اور دوڑ کر مسجد کے اندر چلا گیا۔

وہ آدمی جب غصے سے کھجور سے نیچے اُترا تو اس نے وہاں کسی کو نہ پایا ، آدمی اپنے گھر چلا گیا اور نماز عصر کے قریب دوبارہ کام شروع کر دیا ۔ عبداللہ عصر کی نماز کے وقت دوبارہ گزرا تو اس آدمی کو اسی حال میں پایا۔

اب عبداللہ نے دوسرے طریقے سے بات کی … پہلے اس کو سلام کیا اور اس کا حال پوچھا ، تو اس نے بھی اچھے طریقہ سے جواب دیا، تو عبداللہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اچھے کام کی توفیق دے اور آپ کے رزق میں برکت ڈالے ، وہ آدمی خوش ہوا اور دعائوں پر آمین کہتا رہا پھر عبداللہ نے کہا کہ لگتا ہے … آپ کام میں اتنے مصروف تھے کہ آپ کو عصر کی اذان سنائی نہیں دی… عصر کی اذان کب کی ہو گئی ہے اور اقامت بھی قریب ہے ، آپ اتر کر نماز پڑھ کر اپنا کام پورا کر لیں۔

مزید دیکھیں :   دعا قبول نہ ہونے کے دس اسباب

آدمی نے کہا جی بالکل ان شاء اللہ اور آدمی آرام سے نیچے اُتر آیا ، پھر عبداللہ کو محبت اور خلوص سے سلام کیا اور اس کا شکریہ ادا کیا اور کہا جس نے دوپہر کی نماز میں مجھے نصیحت کی تھی میں اس کو بتلاتا کہ گدھا کون ہے؟

آپ کی مہارت دوسروں کے ساتھ اچھا معاملہ کرنے میں ہے … اس مہارت سے آپ وہ اچھے راستے دیکھیں گے … جن سے آپ لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔