بدعنوانی کے سہولت کار ترقی یافتہ ممالک

ہر براعظم میں ریاستی گرفت بڑھ رہی ہے کیونکہ مغرب بدعنوان حکمرانوں کی طرف سے سیاسی اختیار کے بل بوتے پر لوٹی کی گئی دولت کو باہر منتقل کرنے اور چھپانے میں مدد گار ہے۔ گزشتہ ہفتے بورس جانسن کے انسداد بدعنوانی کے زار جان پینروز نے پارٹی گیٹ کے دوران اپنے رہنما کی جانب سے وزارتی ضابطہ کی کھلم کھلا خلاف ورزی پر احتجاجاً استعفی دے دیا تھا۔ اس سے پہلے جنوری میں لارڈ اگنیو نے وزیر خزانہ کے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا، وہ حکومت کی طرف سے کوویڈ معاہدوں اور قرضوں میں ہونے والی دھوکہ دہی میں غفلت پر نالاں تھے۔ مذکورہ دونوں عہدیدار ناقص طرز حکمرانی اور کمزور قیادت کے باعث ہونے والی بدعنوانی کے خلاف اٹھ کھڑ ے ہوئے تھے۔ یونیورسٹی آف سسیکس کے سنٹر فار دی اسٹڈی آف کرپشن نے گزشتہ ماہ اپنی بہترین اشاعت ”انڈرسٹینڈنگ کرپشن” کے آغاز کے موقع پر ”بریکنگ فری فرم اسٹیٹ کیپچر” کے موضوع کے ساتھ ایک تقریب کا انعقاد کیا تھا جس میں سوڈانی نژاد برطانوی ارب پتی کاروباری شخصیت محمد ابراہیم کلیدی مقرر تھے۔ ٹیلی مواصلات کے مختلف کمپنیوں میں خدمات انجام دینے والے محمد ابراہیم اپنی فاؤنڈیشن کے ذریعے اچھے نظم ونسق اور بہتر قیادت کے بھرپور وکیل اور اس سلسلے میں کوششوںکے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں، محمد ابراہیم پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ افریقہ میں تفریق پیدا کر رہے ہیں جہاں اس وقت ریاستی گرفت اور کرونی سرمایہ داری (اقرباء پروری) نے کئی دہائیوں سے براعظم کوکمزورکر رکھا ہے۔
بدعنوانی، جسے ذاتی فائدے کے لئے تفویض کردہ اختیار کے غلط استعمال کے طور پر بیان کیا جاتا ہے، دراصل ایک پیچیدہ اور عمیق موضوع ہے جس کے نتائج انتہائی سنگین نوعیت کے ہوتے ہیں۔ بدعنوانی مساوی اور پائیدار ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے، یہ وسائل کا رخ غریب ترین لوگوں سے امیروں اور دولت کے پوجاریوں کی طرف موڑتی ہے جس سے معاشروں میں عدم مساوات، محرومی اور ناانصافی جیسی برائیاں جنم لیتی ہیں، اسی طرح بدعنوانی غیر ملکی سرمایہ کاری کو بھی روکتی ہے اور سرکاری اخراجات میں بے جا اضافے کا باعث بنتی ہے۔ بدعنوانی معاشروں کے لئے انتہائی مضر اور نقصان دہ ہے اور اسے اکثر پانی سے تشبیہ دی جاتی ہے کیونکہ اسے روکنا ایک مشکل ہدف ہے اور اس سلسلے میںکئی رکاوٹوں کا سامنا ہوتا ہے۔
دیکھا جائے تو اس وقت بدعنوانی نہ صرف ہمارے سیاسی اور قانونی اداروں میں سرایت کر چکی ہے بلکہ یہ ہمارے معاشرے کی تہہ تک پہنچ چکی ہے جو اب دھوکہ دہی، رشوت ستانی، بھتہ خوری، غبن اور اقرباء پروری کی شکل میں ظاہر ہو رہی ہے۔
واضح طور پر بدعنوانی کسی رنگ، صنف یا نسل تک محدود نہیں ہوتی، یہ طاقت، لالچ اور دیانت داری اور جوابدہی کے فقدان کا مجموعہ ہے،کوئی بھی آسانی سے یہ نتیجہ اخذ کر سکتا ہے کہ بدعنوانی صرف ترقی پذیر ممالک میں ہی ہوتی ہے۔ لیکن ناجائز ذرائع سے مالی بہاؤ کی میکانیات کی تفہیم اس رائے کو تبدیل کر دے گی۔ یہ بات واضح ہے کہ بدعنوانی منشیات اور انسانی اسمگلنگ، منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے ذریعے جرائم کے کاروبار کو سہل بناتی ہے، وکلاء ، اکاؤنٹنٹس، اسٹیٹ ایجنٹوں اور دیگر افراد کے ذریعہ فعال یہ مالیاتی نیٹ ورک امریکہ اور کیریبین تک پھیلاہوا ہے، یہ مالیاتی ڈھانچہ چور حکمرانوں (کلیپٹوکریٹس)کو بدعنوانی کے ذریعے حاصل کردہ دولت کو آسانی سے چھپانے میں معاون ہے، ریاستی گرفت عظیم الشان بدعنوانی کی ایک شکل ہے اس سے مراد نظامی سیاسی بدعنوانی ہے جس میں نجی مفادات اپنے فائدے کے لئے ریاست کی پالیسیوں اور قوانین کی تشکیل پر نمایاں طور پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
سیاسی اشرافیہ اپنے ذاتی رابطوں کے ذریعے نہ صرف قانون و قواعد تبدیل کرکے بلکہ اپنے مفادات، طاقت اور دولت کے بل بوتے پر مزید پیچیدگیاں پیدا کر طویل مدتی معاشی گرفت حاصل کر لیتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ ریاستی گرفت اس وقت ہوتی ہے جب ایک چھوٹے گروپ کا پالیسی کی تشکیل پر لامحدود اثر و رسوخ ہو۔ امریکہ میں نیشنل رائفل ایسوسی ایشن اس کی مثال ہے جہاں اسکولوں میں فائرنگ کے واقعات کے باوجود وہ بندوق کی ملکیت سے متعلق پالیسی میں رکاوٹ بنتی ہے۔ یہ گرفت ایک ہی پارٹی کے سیاست دانوں کے گروپ کی بھی ہوسکتی ہے، جو ایک ہی یونیورسٹی میں پڑھے ہوں اور ملک پر اپنی اشرافیہ کے نظریے کو مسلط کرتے ہوں۔
محمد ابراہیم نے قدرتی اور انسانی وسائل کی بدانتظامی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 60 کروڑ سے زائد افریقی باشندے بجلی سے محروم ہیں جس سے ان کا معیار زندگی، کاروبار اور تعلیم متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے یہ سوال اٹھایا کہ افریقہ اتنا غریب کیوں ہے جبکہ اس کے پاس اتنے قدرتی وسائل بھی ہیں اگرچہ انہوں نے اس کی ایک وجہ ناقص طرز حکمرانی اور ناقص قیادت کے باعث ہونے والی بدعنوانی کو قرار دیا تاہم اس کا بڑا سبب انہوں نے امریکہ اور یورپ میں غیر قانونی طور پر مالی بہاؤ کو قرار دیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے اس جائزے کا حوالہ دیا کہ یہ رقم سالانہ 89 ارب ڈالر سے زیادہ ہے جو افریقہ کی مجموعی ملکی پیداوار کا تقریباً 3.7 فیصد ہے کیونکہ امریکہ اور یورپ میں منی لانڈرنگ بدعنوانی کے پھیلاؤ کے علاوہ مجرموں اور آمروں کی حمایت کا باعث بھی بنتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کس طرح بہتر حکمرانی کے ذریعے کارپوریٹ سرگرمیوںکو باضابطہ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے اسٹار بکس، ایپل اور گوگل جیسی بڑی کارپوریشنوں کا ذکر کیا جن میں ٹیکس سے بچنے کی اسکیموں کی تحقیقات کی گئی ہیں۔ انہوں نے کمپنیوں کی فائدہ مند ملکیت کے رجسٹروں کی اشد ضرورت پر افسوس کا اظہار کیا جو پہلے رازداری میں ڈھکے ہوئے تھے لیکن اب اچانک روسیوں کے اثاثوں کا سراغ لگانے اور منجمد کرنے میں جانچ پڑتال کے تحت ہیں۔ محمد ابراہیم نے ان الفاظ کے ساتھ اپنے خطاب کا اختتام کیا کہ افریقہ میں بدعنوانی سے مؤثر طریقے سے نمٹنے سے پہلے ویسٹ منسٹر اور واشنگٹن میں بدعنوانی سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ دنیا کو محمد ابراہیم جیسے مزید لوگوں کی ضرورت ہے۔(ترجمہ: راشد عباسی)

مزید دیکھیں :   مشکلات کا شکار حکومت کی نئی مشکل