مشرقیات

اپنے ہاں کے وہ زاہد و عابد کہاں ہیں جو اپنی پارسائی کے ثبوت میں برسوں تک چندہ بھی ریال شریف میں وصول کرتے رہے یا پھر درہم و دینار کے صدقے ان عرب شہزادوں اور بادشاہوں کے حق و صداقت پر مبنی ایجنڈے کو بھی ہمارے ہاں صدق دل سے فروغ دیتے رہے، لیبیا سے لے کر تابخاک قطر تک ان کے پیر ومرشد جو حکم تھما دیتے تھے وہ حرز جاں سمجھ کر یہ عالم بے بدل ہمارے ناتواں کاندھوں پر ڈال کر خود عرب پتیوںکی بخشی ہوئی پیچارو شریف میں اڑتے پھرتے تھے، ایک نہیں کئی خطیب بے بدل اب بھی ہمارے ہاں شعلہ جوالہ بنے تیار بیٹھے ہیں تاہم ادھر عرب شہزادوں نے کچھ ہاتھ کھینچ لیا ہے اگرچہ اب بھی لبھاتا ہے دل کو کلام خطیب مگر لذت شوق سے بے نصیب یہ بے نصیبی اس وجہ سے پید ا ہوئی ہے کہ اب ریال ہوں یا درہم ودینار عرب پتی ہمارے ہاں کے خطیبوں سے زیادہ انہیں اسرائیل کی بقا کے لیے خرچ کرنے پر تل چکے ہیں ادھر ان کے کرائے پر اٹھائے گئے خطیب جو ہمیں دن رات اسرائیل کے خلاف دو آتشہ بنانے کا کام کرتے تھے اب چپ سادھے بیٹھے ہیں کوئی انہیں بتائے اسرائیل کو آدھے سے زیادہ عرب ممالک جی آیاں نو کہہ چکے ہیں اور مزید جو باقی ہیں وہ تیاریاں کر رہے ہیں اسرائیلی مصنوعات اور حکام کے استقبال کی۔ سننے میں آیا ہے کہ اپنے ولی عہد بہادر بھی آج کل میں انکل سام کی فرمائش پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان نہ کرنے کے باوجود سر تسلیم خم کردیں گے ادھر ویسے ہی ہمارے ہاں کے جبہ ودستار کے حاملین کپتان کو کھری کھری سناتے پھر رہے ہیں حالانکہ کپتان سے زیادہ ہمارے ہاں کے نیک پروینوں کے عرب خصائل مرشد ومربی اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے صف اول میں کھڑے تھے کسی ایک بھی جبہ ودستا ر کے حامل سے آپ نے عربوں کی اس جرات رندانہ بارے کچھ ارشادات عالیہ سنے ہوں تو ہمیں آگاہ کریں۔ اب یہ دیکھنا اور بھی دلچسپ ہوگا کہ ہمارے یہ جبہ ودستارکے حامل جس اسرائیل کے لتے لینے پر قوم کو لگا چکے تھے اسی کو تسلیم کرنے کے بعد اپنے عرب پتیوں کے اس اقدام کو کون سے جواز یا دلیل سے حق بجانب ثابت کرتے ہیں، ادھر امکان غالب ہے کہ اپنے ہاں کی حکومت کو بھی اربوں کی ضرورت پڑتی رہتی ہے ایسے میں ہم سے صاف صاف کہہ دیا جائے کہ اسرائیل کو تسلیم کرو پھر موجاں ہی موجاں، تو کیا کریں گے ہمارے ہاں کے حاکم و اس کے گماشتے، اپنے مولانا صاحب بھی کچھ روشنی ڈالیں اس موضوع پر، عرب پتی بااتفاق سب کے سب اسرائیل کو تسلیم کر لیں گے تو ہمارے ہاں کے ٹھیکیداروں کو بھی شاید نیا ٹھیکہ مل جائے اسرائیل کے بارے میں راہ ہموار کرنے کا، تب یہ دیکھنا بڑ ا دلچسپ ہوگا کہ کپتان کو بڑے شوق سے یہودیوں کا ایجنٹ کہنے والے اتنے ہی بلکہ اس سے بھی زیادہ ذوق وشوق سے007 بننے کے لیے دوڑ دھوپ کرتے نظر آئیں گے کہ آخر پاکستان میں ان کے لیے دھرا ہی کیا ہے سوائے عربوں کے درہم ودینار اور ریال شریف کے۔

مزید دیکھیں :   مشرقیات