ایک اور عدالتی جنگ

سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے نیب ترامیم کو مسترد کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے ان کا سب سے بڑا اعتراض الزام ثابت کرنے کا بار نیب پر ڈالنے کا ہے پارلیمان کے قانون سازی کے حق اور اس کے بنائے گئے قوانین کوچیلنج کرنے کا سلسلہ چل نکلاتو عدالتوں پر نہ صرف بوجھ بڑھے گا بلکہ ہر معاملے کو عدالت لے جانے سے اور خاص طور پرسیاسی معاملات کا حل سیاسی طریقے سے مخالفت کرکے اور سیاسی پلیٹ فارمز پر اس کی مزاحمت و مخالفت کرنے کی بجائے سیاسی عدالت سے رجوع خود عدلیہ کے لئے بھی مشکلات کا باعث ہو گا قبل ا زیں مختلف معاملات خاص طور پر دھرنے اور احتجاج کے ضمن میں اس تجربے سے عدالت کا وقار جس طرح سوالیہ نشان بن گیا وہ اپنی جگہ چیئرمین نیب کی تقرری کے حوالے سے جج کے ریمارکس و دیگر معاملات سے پیدا شدہ صورتحال کوئی احسن معاملہ نہیں عدالت سے رجوع کا حق استعمال کرنے کی تو ممانعت نہیں لیکن سیاستدانوں کو سوچ لینا چاہئے کہ سیاسی پلیٹ فارم اور ایوان کو اس طرح سے بازیچہ اطفال بنا دینے سے جمہوریت پر سوالات اور پارلیمان کی بالادستی اور وقعت کے مزید سوالات اٹھ سکتے ہیں تحریک انصاف اگر قومی اسمبلی اور سینٹ میں یہ فریضہ نبھاتی اس کے بعد اگر عدالت سے رجوع کرتی تو بھی اس کی گنجائش تھی پارلیمان میں حکومت کو واک اوور دے کر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے سے خود عدالت سے رجوع کرنے والوں کا مقدمہ مضبوط نہیں ہو سکتا اس ترمیم کی ضرورت شاید اس لئے پیش آئی کہ نیب کو مزید سیاسی دبائو کے لئے استعمال نہ کیا جا سکے اور جس طرح قبل ازیں مقدمات کی بھر مار چلی آرہی ہے اور بہت سا وقت اوروسائل کے ضیاع کے بعد سارا مقدمہ بے نتیجہ اور لاحاصل رہنے کا عمل ہے اس سے بچا جا سکے ۔بہتر ہو گا کہ سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لئے سیاسی رہنما مذاکرات کا راستہ اختیار کریں اس ضمن میں حکومت میں شامل جماعتوں پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ تحریک انصاف کی قیادت کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کے لئے حالات کو ساز گار بنانے کی ذمہ داری پوری کریں جاری سیاسی صورتحال حکومت ملک و قوم کسی کے بھی مفاد میں نہیں بلکہ اس کشیدگی کے اثرات سے معاشرے سے لے کر معیشت تک بری طرح متاثر ہو رہے ہیں جب تک یہ صورتحال رہے گی عدالتوں سے لے کر سڑکوں تک بے چینی اور محاذ آرائی کی کیفیت کا خاتمہ نہیں ہو سکتا ۔توقع کی جانی چاہئے کہ سیاستدان اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں گے اور باہمی ا ختلافات کو اس حد تک لے جانے سے گریز کریں گے جس کے نتیجے میں ملک متاثرنہ ہو۔
خیبر پختونخوا سے سوتیلی ماں کا سلوک کیوں؟
وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں کے سلوک پر جرگہ کرنے اور باضابطہ احتجاج پر مجبور ہونا تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق امر ہے بد قسمتی سے خیبر پختونخوا کے ساتھ نا انصافی کسی ایک دور حکومت پر محیط نہیں بلکہ ہر دور میں یہاں تک کہ تحریک انصاف کی مرکزی حکومت کے دور میں بھی صوبے کے حقوق اور وسائل کے حوالے سے کوئی سنہرا دورنہیں اب جبکہ صوبے اور مرکز کی حکومتیں مخالفت کی اس انتہا پر ہیں جس کی گنجائش نہیں مشکل امر یہ ہے کہ سیاسی مخالفت پر صوبہ خیبر پختونخوا کے وسائل کو روکے جانا حکومت اور سیاسی مخالفین سے نہیں صوبے کے عوام کی حق تلفی ہے جو پہلے ہی سخت مشکلات کا شکار ہیں ان حالات میں صوبائی حکومت ہی نہیں صوبے کی تمام سیاسی جماعتوں اور عمائدین کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کریں بہتر ہو گا کہ مرکز اور صوبائی حکومت کے درمیان اس حد تک صلح ضرور کرادی جائے کہ سیاسی مخالفت کے باوجود آئینی اور قانونی فورمرز پر وفاق اور صوبے کے قائدین کا جو کردار اور فرائض ہیں ان پر حرف نہ آئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور صوبائی وزیر خزانہ کو متعلقہ فورمز میں خود جا کر صوبے کے حقوق کے حوالے سے بات کرنی چاہئے اور صوبے کی نمائندگی خود کرنے کی بجائے اپنے ایسے نمائندے کے ذریعے نہیں کرانا چاہئے جو سیاسی اور حکومتی عہدیدار نہ ہو کسی سرکاری عہدیدار سے سیاسی مقدمہ لڑنے اور اس انداز سے بات کرنے کی توقع نہیں کی جا سکتی جو منتخب نمائندے کر سکتے ہوں نیز یہ ان کا منصب اور ذمہ داری بھی نہیں با امر مجبوری نمائندگی کی ضرورت پڑے تو یہ الگ بات ہو گی بہرحال ان تمام معاملات سے قطع نظر مرکزی حکومت نے صوبے کے ساتھ سوتیلی ماں کا جو سلوک روا رکھا ہے وہ ناقابل برداشت ہے جس پر اجتماعی طور پر احتجاج اور جرگہ سمیت جو بھی مناسب آئینی و قانونی راستے موجود ہوں ان کو بروئے کار لانے میں دریغ نہیں کیا جانا چاہئے اور ان اقدامات کی اجتماعی حمایت کی بھی ضرورت ہے۔
پولیس حکام کے لئے لمحہ فکریہ
پشاور شہر کے مختلف علاقوں سے گاڑیاں ‘ موٹرسائیکل ‘ موبائل چھیننے او رچوری کی وارداتوں میں اضافہ پولیس اور خاص طور پر گشت کرنے والی ابابیل فورس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان سے رہزنی کی وارداتیں اور موبائل چھیننے کے واقعات میں ا ضافہ سے شہریوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھنا فطری امر ہے خاص طور پر خواتین خود کو غیر محفوظ سمجھتی ہیں یہ صورتحال پولیس کے اعلیٰ حکام کے لئے چشم کشا ہونا چاہئے اس امر کا جائزہ ضروری ہے کہ خصوصی سکواڈ اور گشت کے باوجود رہزنی کی وارداتوں میں کمی کیوں نہیں آتی ہے ۔بیروزگاری اور سخت معاشی حالات کے تناظر میں رہزنی کی وارداتوں اور چوری کے واقعات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے جس کے تدارک کے لئے جہاں پولیس کو مزید اقدامات کی ضرورت ہے وہاں شہری بھی غافل نہ ہوں اور خود حفاظتی کی ذمہ داریاں اور احتیاط کے تقاضوں کوملحوظ خاطر رکھیں۔

مزید دیکھیں :   جمہوری نظام سے فرار ہونے کے رحجانات