اندھیرا ہو تو کوئی شکل پہچانی نہیں جاتی

انسان کی اس دنیا میں آمد کیساتھ ہی اس کا امتحان شروع ہوجاتا ہے، ساری زندگی ایک امتحان ہے جو جہاں بھی ہے جس حال میں بھی ہے حالت امتحان میں ہے، اس دنیا اور اس میں موجود ہر شے کی موجودگی کا ایک مقصد ہے اور حضرت انسان پر بڑی ذمہ داریاں عائد کی گئی ہیں۔ اسے مخلوقات میں فضیلت اسی لئے بخشی گئی ہے کہ اسے شعور عطا کیا گیا ہے، اچھے برے کی تمیز سکھائی گئی ہے اور اسے اس دنیا میں بھیجنے کے بعد شتر بے مہار کی طرح نہیں چھوڑ دیا گیا بلکہ یہ اپنی تمام تر آزادیوں کے باوجود اصول وضوابط کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ زندگی کے تقاضے نباہنے کیلئے اسے بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت پڑتی ہے ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا پڑتا ہے بقول تشنہ بریلوی:
بشر آزاد ہی پیدا ہوا تھا
مگر وہ ہرجگہ زنجیر میں ہے
جن کے مقامات بلند ہوتے ہیں ان کی ذمہ داریاں بھی زیادہ ہوتی ہیں، یقینا ہماری مراد حکمرانوں سے ہے۔ حکمرانی پھولوں کی سیج نہیں ہے یہ کانٹوں کا بستر ہے، بس محسوس کرنے کی بات ہے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے کی بات ہے اور پھر آج کے ہنگامی دور میں صاحبان اقتدار کی ذمہ داریاں بہت زیادہ بڑھ چکی ہیں، انہیں نہ صرف عوام کے جان ومال کی حفاظت کرنا ہوتی ہے بلکہ ملکی معیشت کا بھی خیال رکھنا ہوتا ہے۔ گھر کی دہلیز پر سستے انصاف کی بروقت فراہمی بھی ان کی ذمہ داریوں میں شامل ہے، یقینا ان کے فرائض میں بہت کچھ شامل ہے جس کا شمار ممکن نہیں ہے، اگر اپنی ذمہ داریوں کو نباہنے کا احساس ہو عوام کے حقوق کا شعور ہو تو یہ روشنیوں کا سفر ہے۔ عاد ل حکمرانوں کے مقامات ودرجات بہت بلند ہوتے ہیں اور اگر بات ذاتی مفادات کے حصول تک محدود ہوکر رہ جائے تو پھر عوام الناس کی زندگی اجیرن ہوجاتی ہے۔ بددیانتی، چوربازاری اور لوٹ کھسوٹ کا چلن عام ہو جاتا ہے آج وطن عزیز میں یہی کچھ ہو رہا ہے:
شکوک اکثر حقائق تک پہنچنے ہی نہیں دیتے
اندھیرا ہو تو کوئی شکل پہچانی نہیں جاتی
آج ارباب اقتدار کے اردگرد عزیز واقربا کی ایک فوج ظفر موج موجود ہے جو بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہی ہے، ایک حکمران کیلئے سب سے ضروری سبق اصول جہانبانی ہوا کرتا ہے لیکن یہ سب کچھ اس وقت بے مقصد ہوکر رہ جاتا ہے جب آپ کے اردگرد دوستوں کا ایسا حلقہ موجود ہو اور صرف ان کی زبان سے نکلی ہوئی بات کی رسائی آپ کے کانوں تک ہو، آپ ان کی آنکھوں سے دیکھتے ہوں اور ان کے کانوں سے سنتے ہوں! اس وقت ہندوستان کے نامور حکمران غیاث الدین بلبن کی وہ مشہور ہدایات ذہن میں تازہ ہوگئی ہیں اس نے یہ نصیحتیں اپنے بیٹے کو اس وقت کیں جب وہ مغلوں کیخلاف لڑنے ملتان جارہا تھا، تجربہ کار اور جہاندیدہ بلبن کی یہ نصیحتیں آج بھی اتنی ہی مفید ہیں! میرے بیٹے! سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل کیلئے حکمرانی کی قوت کو کبھی بھی کام میں نہ لانا تجھے جو کام بھی کرنا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کیلئے کرنا اور قوم کی دولت جو اللہ پاک کی طرف سے ودیعت کردہ ایک عطیہ ہے ہمیشہ اچھے کاموں میں صرف کرنا اور خلق خدا کی بھلائی کی طرف توجہ کرنا، جب اللہ پاک تجھے مخلوق کی سرداری عطا کرے تو اس منصب کو آسان نہ سمجھنا، حکمرانی کو اللہ کریم کی نیابت سمجھنا اور یہ بہت مشکل کام ہے، تم اس پاک اور بڑے کام کو ناشائستہ حرکات اور ناپسندیدہ عادات کی گندگی سے آلودہ نہ کرنا کمینے اور ذلیل لوگوں کی صحبت سے دور بھاگنا۔ تم اپنے ملک کے حالات اور اپنے مقرر کردہ حاکموں کے افعال سے پوری طرح باخبر رہنا اور ان حاکموں کو ہمیشہ تاکید کرتے رہنا کہ وہ اچھے افعال اور اعلیٰ عادات اختیار کریں، ہمیشہ متقی اور پرہیزگار لوگوں کو قاضی اور حاکم مقرر کرنا تاکہ عوام انصاف اور دیانتداری کی برکات سے مستفید ہوتے رہیں، باصلاحیت، دیانتدار اور باصلاحیت لوگوں کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کرتے رہنا۔ عالی ہمتی اور حکمرانی ایک دوسرے کیلئے ناگزیر ہیں، دنیا کے تمام عقلمندوں اور دانشوروں نے ان دونوں کو جڑواں بھائیوں سے تشبیہ دی ہے اور یہ کہا ہے کہ حکمران کی ہمت کو بھی تمام ہمتوں کا بادشاہ ہونا چاہئے، بے ہمتی اور حکمرانی کا کوئی جوڑ نہیں ہے۔ آج وطن عزیز کے حالات دگرگوں ہیں، دوسرے بہت سے مسائل کیساتھ ساتھ کرونا وائرس کا عفریت موت کا کھیل جاری رکھے ہوئے ہے، ایسے میں حکمرانوں کی ذمہ داریاں بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں، انہیں حوصلے سے کام لینا ہوگا۔ اپنی صفوں میں موجود کالی بھیڑوں سے نہ صرف باخبر رہنا ہوگا بلکہ ان کی بیخ کنی کیلئے ضروری اقدامات بھی کرنے ہوں گے۔ تاریخ میں بہت دفعہ ایسا ہوا ہے کہ چند افراد کی بداعمالیوں نے پورا جہاز ہی ڈبو دیا۔
مسائل حل تو ہوتے ہیں مگر آہستہ آہستہ
جو مشکل آپڑے سر پر بہ آسانی نہیں جاتی