پھیلتا کورونا اور سکڑتا لاک ڈاؤن

\ملک میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ جاری ہے مگر کورونا کیخلاف سب سے مؤثر ہتھیار اور شافی علاج یعنی لاک ڈاؤن اور سوشل ڈسٹنسنگ کا سلسلہ سکڑنے لگا ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں رمضان المبارک میں لاک ڈاؤن میں اس انداز سے نرمی کرنے کی طرف بڑھ رہی ہیں جس میں زیادہ تر ذمہ داری عام آدمی کے کندھوں پر منتقل ہوتی محسوس ہو رہی ہے۔ حکومت رمضان المبارک میں مذہبی اجتماعات کو محدود انداز سے اجازت دے رہی ہے۔ ایسے اجتماعات کے محدود رہنے کی ضمانت کون دے گا؟ کسی کو علم نہیں۔ بازاروں اور مارکیٹس کو جس انداز سے کھولنے کا فیصلہ کیا جا رہا ہے اس کے بعد بازاروں میں رش بڑھنا یقینی ہے۔ اس کے بعد لاک ڈاؤن کی اصطلاح عملی طور پر بے معنی ہو کر رہ جاتی ہے۔ صبح آٹھ بجے سے شام چھ بجے تک بازاروں میں بھیڑ لگنا اب معمول ہے۔ لاک ڈاؤن میں نرمی کے فیصلے پر عمل درآمد ہوتے ہی بازاروں میں ٹھٹھ کے ٹھٹھ لگنا نوشتہ دیوار ہے۔ عوام اگر رضاکارانہ طور پر معاملے کی سنگینی کو سمجھتے تو دنیا بھر میں کرفیو لگانے کی نوبت ہی نہیں آتی۔ رضاکارانہ طور پر سیلف آئیسولیشن کے اصول پر دنیا کے صرف ان ملکوں میں عمل درآمد ہوا جہاں لوگوں نے لاشیں گرتے دیکھیں اور انہوں نے خوف کے مارے خود کو گھروں میں قید کر لیا۔ باقی دنیا میں رضاکارانہ لاک ڈاؤن کا کوئی تصور نہیں رہا۔ حکومتوں کو ایک واضح لائن لیکر کوئی فیصلہ کرنا پڑا اور اس فیصلے پر عمل درآمد کیلئے انتظامی قوت کا سہارا لیا گیا۔ خود پاکستان میں بھی معاملہ یہی ہے۔ یہاں بھی عوام ابھی تک اپنی ذمہ داری پوری طرح محسوس کرنے کو تیار نہیں، اس لئے معاملے کو رضاکارانہ کی اصطلاح کے نام پر عوام پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ حکومت کو حالات پر اپنی نظر اور گرفت مسلسل قائم رکھنا پڑے گی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ کاروبارحیات کو غیرمعینہ مدت تک معطل رکھنا بھی ممکن نہیں۔ جب تک دنیا کورونا فری نہیں ہوتی کورونا کیساتھ یہ چھپن چھپائی چلتی رہے گی۔ کبھی لاک ڈاؤن کا لاک کھلے گا تو کبھی حکومتیں حالات کے ہاتھوں مجبور ہو کر لاک بند کرتی رہیں گی۔ امریکہ جیسے ملک میں اب کئی ریاستوں میں لاک ڈاؤن کیخلاف کاروباری طبقات نے سڑکوں پر آکر احتجاج کرنا شروع کیا ہے کئی مقامات پر ''اوپن مائی سٹیٹ'' میری ریاست کو کھولیں کے مطالبات پر مبنی بینر لہراتے نظر آرہے ہیں۔ فرانس میں بھی احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے ہیں۔ عوام کے اسی دباؤ کی وجہ سے امریکہ نے کئی ریاستوں میں لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ تو بہرحال ترقی یافتہ اور باوسیلہ ملکوں کا معاملہ ہے، پاکستان کی معیشت جس مقام پر ہے وہاں کورونا اگر بے قابو ہو جاتا ہے تو ریاست کے وسائل کم پڑ جائیں گے۔ اس لئے پاکستان کے حالات کے تناظر میں سب سے بہتر راستہ اور نسخہ ''احتیاط'' ہے۔ پاکستان میں بھی تاجر برادری کا دباؤ اپنی جگہ ایک حقیقت ہے۔ عمران خان کی حکومت یوں بھی تاجر برادری میں زیادہ مقبول نہیں۔ تاجر برادری کا مجموعی تاثر یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کی صورت میں حکومت اس طبقے کے ہاتھوں سے چھین کر کسی اجنبی سیارے سے آنے والی کسی مخلوق کے حوالے کی گئی ہے۔ اس تلخی کو کم کرنے اور اس تاثر کو محدود کرنے میں سال سے زیادہ عرصہ لگا اور اب حکومت تاجربرادری کو اپنی اپنی سی لگنے لگی ہے۔ اس دوران کورونا کا ہیر رانجھے کی اس داستان میں ''چاچا کیدو'' جیسا ولن بن کر سامنے آگیا ہے۔ عمران خان اپنی حکومت کے تاجر فرینڈلی ہونے کے تاثر میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں اور اس مرحلے پر وہ تاجر دشمنی کا یہ لیبل اپنے اوپر لگو انہیں سکتے۔ تاجروں کا دباؤ اپنی جگہ مذہبی طبقات بھی اپنا دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ علمائے کرام نے ایوان صدر میں صدر عارف علوی سے ملاقات کے بعد بیس نکاتی ضابطہ اخلاق کی منظوری دی ہے یہ بظاہر تو خوش کن مگر عملی طور پر خاصا ناقابل عمل نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ نمازیوں کے درمیان فاصلہ تین فٹ ہو یا چھ فٹ ابھی تو حکومت اور علمائے کرام کے درمیان یہیں سے اختلاف شروع ہوگیا۔ جوں جوں وقت گزرتا جائے گا اور رمضان المبارک کا آغاز ہوگا تو عمل کی دنیا میں اس اعلامئے کی پیچیدگی ظاہر ہونا شروع ہوگی۔ تشویشنا ک بات یہ ہے کہ کورونا بحران کا عروج آنا ابھی باقی ہے، خود وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مئی کا مہینہ زیادہ سخت ہوگا۔ اس تلخ زمینی حقیقت کیساتھ لاک ڈاؤن میں نرمی لاک ڈاؤن کو عملاً بے معنی اور غیرمؤثر بنانے کا باعث بن سکتی ہے۔ لاک ڈاؤن میں نرمی کرکے حکومت گیند عوام کی کورٹ میںڈال رہی ہے یہ دوسرے لفظوں میں عوام کی دانش کا امتحان بھی ہے۔ عوام اس امتحان میں سرخرو ہو کر نکلیں تو اس سے اچھی کیا بات ہو سکتی ہے مگر رمضان المبارک اور عید کی خوشی میں عوام رسیاں تڑوا کر بازاروں میں نکل آتی ہے اور اس روئیے میں سردست تبدیلی کے آثار نہیں۔ ایک دن لاک ڈاؤن میں نرمی ہوجائے تو یوں لگتا ہے کسی ڈیم کا بندھ ٹوٹ گیا ہو۔ عوام اس امتحان میں کامیاب نہ ہوئے تو یہ کسی ایک فریق کی نہیں ہم سب کی اجتماعی ناکامی ہوگی۔ اس ناکامی کی صورت میں حکومت کو دوبارہ سخت فیصلوں پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔ اس لئے نازک صورتحال میں حکومتوں کو بہت سوچ سمجھ کر ہر قدم اُٹھانا چاہئے۔
ہم نیک وبد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں