افغانستان میں زلزلے کی تباہ کاری

افغانستان میں زلزلے کی تباہ کاری

گزشتہ روز پاک افغان سرحد کے قریب زلزلے کے شدید جھٹکوں نے افغانستان میں تباہی مچا دی جب کہ اس کے اثرات پاکستان کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک میں بھی محسوس کئے گئے’.

پاکستان افغانستان کا قریبی پڑوسی ہونے کے ناطے زلزلے کے جھٹکوں سے متاثر تو ضرور ہوا تاہم اللہ کے کرم سے جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی’ البتہ افغانستان میں خوست کے مقام پر ضرب عضب متاثرین کے کیمپ میں تباہی مچ جانے سے پاکستانیوں کی تادم تحریر30 لاشیں اپنے آبائی علاقے وزیرستان پہنچائی جا چکی ہیں ‘ جب کہ اب تک زلزلے سے ایک ہزار افراد کے لقمہ اجل بننے کی خبریں سامنے آئی ہیں’ وزیرستان سے امدادی قافلے افغانستان پہنچ چکے ہیں’ ابتدائی طور پر ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت 5.1 بتائی گئی تھی مگر بعد میں اسے6.1 کی شدت کا زلزلہ قرار دیا گیا’ جس کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران آنے والا شدید ترین زلزلہ تھا’ اطلاعات کے مطابق پکتیا’ پکتیکا’ خوست’ بیرمل اور لامن میں کئی علاقے ملیا میٹ ہو گئے ہیں’ پورے کے پورے گائوں تباہ ہو چکے ہیں اور حتمی طور پر ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ مزید کتنے افراد کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاعات ابھی آنے کو ہیں’ پاک فوج نے سرحد پر میڈیکل کیمپ قائم کرکے زخمیوں کے لئے ہیلی کاپٹر بھی فراہم کر دیا ہے’ پاکستان نے سرحد پر نرمی کرتے ہوئے آمدورفت کی اجازت دے دی ہے اور الوڑہ منڈی کے مقام پرعارضی راستہ کھول دیا ہے’ وزیر اعظم شہباز شریف نے افغانستان میں زلزلے کے بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ دکھ اور مشکل کی اس گھڑی میںہم افغان بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ ہیں’ پاکستان کی طرف سے افغانستان کے عوام کو ہر ممکن مدد فراہم کریں گے، آئی ایس پی آر کے مطابق فوجی قیادت نے بھی افغانستان میں زلزلے اور سیلاب کے نتیجہ میں قیمتی جانوں کے ضیاع اور انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج افغان عوام کو انسانی بنیادوں پر ہر قسم کی امداد فراہم کرنے کو تیار ہے’ ادھر بدھ کے روز جاری ایک بیان میں وفاقی وزیراطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر افغانستان کے زلزلہ زدگان کے لئے فوری امدادی سامان بجھوا رہا ہے’ جس میں خیمے’ کمبل اور دیگر ضروری اشیاء شامل ہیں جب کہ ایک اور اطلاع کے مطابق زلزلہ متاثرین کی طبی امداد کے لئے میڈیکل ٹیمیں تشکیل دی جا رہی ہیں’ پاکستان کی سیاسی قیادت نے بھی افغانستان کی اس مشکل گھڑی میں ا فغان عوام کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ساتھ کھڑے ہونے کے حوالے سے بیانات دیئے ہیں امر واقعہ یہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں ایسے کئی واقعات ریکارڈ پر ہیں جن سے تباہی اور بربادی کی داستانیں وابستہ ہیں’ 70ء کی دہائی کے اوائل میں بشام کا زلزلہ ہو’ 1985ء میں آنے والا سیلاب اور آزاد کشمیر و پاکستان کے بالائی علاقوں میں آنے والا زلزلہ ہو یا دیگر اسی نوع کے واقعات’ ان میں عوامی جانوں کے بڑے پیمانے پر ضیاع اور انفراسٹرکچر کی تباہی’ یہ سب واقعات آج بھی ہمارے ذہنوں میں تازہ ہیں’ ہر موقع پرعالمی برادری نے پاکستان کی ہر ممکن مدد کرکے ہماری داد رسی کی’ بیرون ملک پاکستانیوں نے دامے، درمے، سخنے بھی ہمیں کسی کمی کا احساس ہونے نہیں دیا ‘ جس کی وجہ سے ہم نے متاثرین کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے میں آسانی محسوس کی’ اب ہمارا پڑوسی اور اسلامی برادر ملک افغانستان ایک امتحان سے دوچار ہے’ مقام شکر ہے کہ پاکستان نے اپنی اسلامی اور انسانی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے فوری مثبت رد عمل کا اظہار کیا اور نہ صرف متاثرین کے لئے اپنی سرحد عارضی طور پر کھول دی بلکہ ہر قسم کی امداد کا اعلان کرتے ہوئے اس حوالے سے عملی اقدامات بھی شروع کر دیئے’ اب عالمی برادری کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ انسانی بنیادوں پر افغانستان کے زلزلہ متاثرین کو فوری طور پر ہر ممکن امداد فراہم کرے’ خصوصاً اسلامی تنظیم او آئی سی کے رکن ممالک فوراً سے بھی پیشتر افغانستان کے متاثرین کو بھر پور تعاون دیتے ہوئے انہیں یہ احساس نہ ہونے دیں کہ مشکل کی اس گھڑی میں مسلمان ممالک نے بھی ا نہیں بے یارو ومدد گار چھوڑ دیا۔ ان مغربی ممالک جنہوں نے افغانستان کے اثاثے منجمد کر رکھے ہیں’ وہ انسانی ہمدردی کے ناطے ان اثاثوں سے معقول رقم واگزار کرکے افغانستان کو اپنے مصائب سے نبردآزما ہونے کا موقع فراہم کریں۔

مزید دیکھیں :   تعلیم 'پی ڈی اے سکول اور ای او بی آئی پنشنرز