گوانتا ناموبے جیل

افغان شہری 15سال بعد گوانتا ناموبے جیل سے رہا

واشنگٹن(مشرق رپورٹ)کیوبا میں گوانتا ناموبے کے امریکی حراستی مرکز میں قید آخری افغان قیدیوں میں سے ایک کو واشنگٹن کےساتھ مذاکرات کر کے 15سال بعد رہا کر دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران زیادہ تر قیدیوں کو رہا کیا جا چکا ہے جن میں طالبان کے سینئر رہنما بھی شامل ہیں لیکن اسد اللہ ہارون کو بغیر کسی الزام کے لاپتا کردیا گیا تھا۔پاکستان کے شہر پشاور میں افغان مہاجرین کے طور پر رہنے والے ان کے بھائی رومان خان نے کہا کہ میرے بھائی پر لگائے گئے الزامات جھوٹے تھے اور رہائی نے ثابت کر دیا کہ وہ بے گناہ تھا لیکن ان کی زندگی کے وہ سال کون واپس کرے گا؟۔

رومان خان نے کہا کہ آج کا دن ہمارے گھر میں عید اور شادی کی طرح ہے، یہ ہمارے لیے بہت جذباتی لمحات ہیں۔ اسد اللہ اب قطر میں ہیں، امریکی حکومت نے انہیں 2007 میں گوانتاناموبے منتقل کر دیا تھا، ان پر الزام لگایا کہ وہ القاعدہ سے منسلک ایک کوریئر تھے اور عسکریت پسند گروپ حزب اسلامی کے ساتھ کمانڈر کے طور پر کام کر رہے تھے۔

اسد کا کہنا تھا کہ میں اب بہت کمزور ہوں، میری عمر 38 سال ہو چکی ہے لیکن میں خود کو لگ بھگ 60 سال کا محسوس کر رہا ہوں، میں برسوں سے جسمانی اور ذہنی طور پر تکلیف اٹھا رہا ہوں۔ افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں کہا کہ اسداللہ کی رہائی طالبان اور واشنگٹن کے درمیان براہ راست اور مثبت مذاکرات کے بعد عمل میں آئی۔

مزید دیکھیں :   سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ رواں ہفتے یوکرین جائیں گے

ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ اسد اللہ گوانتاناموبے میں باقی دو افغان قیدیوں میں سے ایک ہیں۔دوسرے قیدی محمد رحیم ہیں جن پر سی آئی اے نے القاعدہ کے بانی اسامہ بن لادن کا قریبی ساتھی ہونے کا الزام لگایا ہے۔ افغانستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے کہا کہ حکومت کو امید ہے کہ رحیم کو بھی جلد رہا کر دیا جائے گا۔