نظام انصاف پرقبائلی عوام کے تحفظات

قبائلی اضلاع کے انضمام کی بنیادی وجہ وہ ایف سی آر قانون تھا جسے عرف عام میںکالا قانون کہا جاتا تھا، فرنٹیئر کرائم ریگولیشن(ایف سی آر)1848میں برطانوی راج نے نافذ کیا تھا، جس کا بنیادی مقصد شمالی علاقہ جات میں پختون اثر و رسوخ کو ختم کرنا تھا، آزادی پاکستان کے بعد اس قانون میں ترمیم کی گئی جس کے تحت کسی بھی فاٹا کے شہری کو اس کا جرم بتائے بغیر گرفتار کیا جا سکتا تھا، اس قانون کے نفاذ کے بعد شمالی علاقہ جات کے لوگ انصاف کے بنیادی حقوق سے محروم رہے کیونکہ انہیں وکیل، دلیل اور اپیل کا حق حاصل نہ تھا، اس قانون کا ایک رُخ یہ بھی تھا کہ جرم کرنے والا شخص ملک سے فرار ہو جاتا تو اس کی جگہ اس کے قریبی رشتہ دار کو سزا سنا دی جاتی تھی، یہ وہ اسباب تھے جو قبائلی علاقہ جات کے صوبے میں انضمام کی بنیادی وجہ بنے تاکہ قبائلی اضلاع کے افراد کو صوبے کے دیگر لوگوں کی طرح حصول انصاف کے حقوق حاصل ہوں۔ اب جبکہ انضمام کو چار سال کا عرصہ بیت چکا ہے تو قبائلی اضلاع کے لوگوں کا نظام انصاف پر اعتماد بڑھنے کی بجائے کم ہوا ہے، کیونکہ انہیں مروجہ عدالتی سسٹم میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جرگہ میں جو فیصلہ چند دن میں ہو جاتا تھا وہی فیصلہ عدالتوں سے کرانے میں نسلیں گزر جاتی ہیں۔ ایف آئی آر کے اندراج کیلئے طویل سفر اور اخراجات بھی عدالتوں سے مایوسی کی بڑی وجہ ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ جب قبائلی اضلاع کا صوبے میں انضمام ہو رہا تھا تو اس سے پہلے بنیادی ضروریات کی فراہمی کیلئے متبادل پر غور و غوض کیا گیا تھا، انضمام کے فوری بعد عدالتوں کا قیام ضروری تھا لیکن بوجوہ فراہمی انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہو رہے ہیں جس کا نقصان یہ ہو رہا ہے کہ قبائلی عوام جرگہ کو عدالتوں پر ترجیح دینے لگے ہیں، قبائلی عوام کے تحفظات دور کر کے عدالتوں پہ اعتماد کیلئے کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے جو اسی صورت ممکن ہے جب قبائلی عوام کو فوری اور سستا انصاف ان کی دہلیز پر ملے گا۔
ٹیکس نظام میں اصلاحات کی ضرورت
حکومت نے سپر ٹیکس کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے مزید پانچ صنعتوں کو شامل کیا ہے، رئیل اسٹیٹ کے بروکرز، بلڈرز، کارڈیلرز، ریسٹورنٹس اور سیلونز ٹیکس نیٹ میں لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح تنخواہ دار طبقے پر بھی ٹیکس لگایا گیا ہے، 50 ہزار روپے یا اس سے کم تنخواہ لینے والے پر ٹیکس عائد نہیں کیا گیا ہے جب کہ51 ہزار روپے یا اس سے زائد تنخواہ لینے والے پر 25 روپے، ایک لاکھ پر 1250، دو لاکھ پر 13ہزار 750، تین لاکھ پر 33 ہزار 750، چار لاکھ پر58 ہزار 750 جب کہ پانچ لاکھ ماہانہ آمدن پر 83 ہزار 750 روپے انکم ٹیکس لگایا گیا ہے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم من حیث القوم ٹیکس ادا نہیں کرتے لیکن ہم سہولتیں ترقی یافتہ ملکوں کے شہریوں کے برابر چاہتے ہیں، ہمارے ہاں 22 کروڑ کی آبادی میں سے صرف30 لاکھ افراد ٹیکس گوشوارے جمع کراتے ہیں، یہ تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے ، ہونا تو یہ چاہیے کہ 22 کروڑ آبادی میں سے کم از کم پانچ کروڑ افراد تو ایسے ہوں جو باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرتے ہوں۔ بدقسمتی کی بات ہے کہ حکومت کی طرف سے بھی ٹیکس وصولی کا کمزور سسٹم بنایا گیا ہے جو ٹیکس چوروں کے لئے ٹیکس سے بچنے کا موقع فراہم کرتا ہے، ترقی یافتہ ملکوں میں اس کا تصور بھی محال ہے۔ اگرچہ ہر حکومت ٹیکس نظام میں اصلاحات لا کر اسے بہتر بنانے کے دعوے تو کرتی رہی ہے لیکن عملی طور پر اس حوالے سے تاحال کوئی پیشرفت سامنے نہیں آئی۔
ہمیں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے ملک کو اس وقت شدید معاشی بحران کا سامنا ہے، جس کے لئے حکومت قرضوں کے حصول کے لئے کوششیں کر رہی ہے، لیکن قرضے معاشی مسائل کا وقتی حل ہیں، مسائل کے پائیدار بنیادوں پر حل کے لئے ہمیں ملکی سطح پر آمدن کو بڑھانا ہوگا جس کا ایک بڑا ذریعہ ٹیکسز ہیں، اس لئے متمول طبقہ کو ٹیکس دینا ہوگا کیونکہ ٹیکس دیئے بغیر ہمارے مسائل کبھی بھی حل نہیں ہوں گے۔ اگر حکومت کی طرف سے عائد کردہ ٹیکسز کی شرح پر کوئی تحفظات ہیں تو انہیں بات چیت کے ذریعے دور کیا جا سکتا ہے، حکومت کو بھی ان تحفظات کو سننا اور ٹیکس دہندگان کو مطمئن کرنا چاہیے۔
مون سون پلان کیلئے پیشگی منصوبہ بندی
خیبرپختونخوا حکومت نے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کی مشاورت سے مون سون پلان 2022ء تیار کر لیا ہے، جس کے تحت صوبے کے سات اضلاع چترال اپر، چارسدہ، کوہستان اپر، نوشہرہ، شانگلہ، دیراپر اور چترال لوئر کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔ اس سال چونکہ معمول سے زیادہ بارشوں کی پیشن گوئی کی گئی ہے، اس لئے صوبائی حکومت کی طرف سے مون سون سے پہلے سیلاب سے بچنے کی منصوبہ بندی خوش آئند بات ہے جبکہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ مون سون کے دوران سیلاب کی تباہ کارویوںکو روکنے کے لئے اقدامات کرے۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہ دیکھا گیا ہے کہ حکومت کی طرف سے مون سون میں ممکنہ سیلاب کے نقصانات سے بچنے کے پلان تو بنا لئے جاتے ہیں لیکن ان پر مؤثر عملدرآمد نہیں ہوتا۔ اسی طرح متعلقہ اداروں میں بہتر رابطے اور تعاون کا فقدان بھی ہوتا ہے جس کا نتیجہ سیلاب سے تباہی کے نتیجے میں نکلتا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ملک پہلے ہی شدید معاشی بحران کا سامنا کر رہا ہے ہم سیلاب کی تباہ کاریوں کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ لہذا تمام متعلقہ ادارے مون سون پلان پر مکمل طور پر عملدرآمد کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں، خاص طور پر شہری آبادی میں نالوں کی صفائی یقینی بنائی جائے اور تجاوزات کو بروقت ہٹایا جائے۔ خاص طور پر جن علاقوں کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے ان پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ مون سون بارشوں میں ممکنہ نقصان سے بچا جا سکے۔

مزید دیکھیں :   جشن آزادی اور ہمارے رویے