لرزہ خیزقتل پرپشاورجام ہوگی

لاش ٹکڑے ٹکڑے، لرزہ خیزقتل پرپشاورجام ہوگیا

پشاور(جنرل رپورٹر)پشاورمیں دیرینہ دشمنی پرمخالف شخص کواغوا کے بعدقتل کرنے کی اپنی نوعیت کی انتہائی لرزہ خیز واردات نے لوگوں کوہلاکررکھ دیاجبکہ مقتول کے ورثا کے احتجاج کے دوران شہر کی سڑکوں پرکئی گھنٹے ٹریفک جام رہی ۔

شاہ پور کے رہائشی کو اغوا کے بعد بیدردی سے قتل کر کے نعش کے ٹکڑے مختلف سڑکوں پر پھینک دیئے گئے جو اکبرپورہ سمیت مختلف علاقوں سے برآمد ہوئے، ابتدائی طور پر معلوم ہوا ہے کہ اسے ذاتی دشمنی کی بنائ پر مخالفین نے قتل کیا ہے۔

اکبرپورہ پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آر میں مد عی محمد طا رق ولد سلا مت خان سکنہ محمد زئی شاہ پورہ نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کا چچا مقتول احسا ن اللہ ولد اسلم خان عمر 55سال قو م خلیل صبح گھر سے نکلا اور فیا ض خان نامی شخص کے سا تھ مو ٹر کا ر میں بیٹھ کر جر گہ کیلئے جا رہا تھاجہاں اکبرپو رہ کے قریب مسلح افراد نے انہیں اسلحہ کی نو ک پر اغوا کرلیا اوربعد میں اس پرتشدد کرتے ہوئے اس کا سر تیز دار آ لہ سے کاٹ کر تن سے جدا کر دیا،ایف آئی آرمیںملزمان رمضان علی، جان شیر پسرا ن شمشیر، عبا س عرف مہمند ے ولد جو ہر، لعل شیر ولد شمشیر سا کنا ن محمد زئی کو نامزد کیا گیا ہے ۔ ورثا کے مطابق مقتول کے دونوں ہا تھ و پائوں کو بھی کاٹ کراعضا مختلف علاقوں میں پھینکے گئے جہاں اکبرپورہ کے علاقے جبہ دائودزئی اوردیگر علاقوں سے مختلف اعضائ برآمد کئے گئے ۔فریقین میں پرانی دشمنی بتائی جاتی ہے جبکہ مقتول جرگے کرنے کیلئے بھی مشہور تھا،پولیس نے نعش تحویل میں لیکر پوسٹمارٹم کیلئے منتقل کی اورمختلف دفعات کے تحت ملزمان کیخلا ف مقدمہ درج کرلیا تاہم آخری اطلاعات تک کسی قسم کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاسکی ۔

مزید دیکھیں :   پرائیویٹ ملازمین کی کم ازکم اجرت26ہزارکرنے کی منظوری

واردات کے بعد ملزمان نے اپنے ذاتی مسجد میں اعلان کیا کہ مقتول احسان اللہ کوقتل کردیا ہے اوراس کا سر اور ہاتھ ہمارے قبضے میں ہے ،ورثا نعش کو خود ڈھونڈےں،ایف آئی آر میں مدعی سلامت نے الزام لگایا ہے کہ ایک ملزم نے اسکے بھائی کوفون کیا اور میرے چچا زاد بھائی نے بھی اس سے بات کی اور مسجد میں جو اعلان ہوا تھا وہ پیغام اس نے ہمیں فون پر بھی دھرایا ،انہوں نے بتایا کہ ملزمان نے لائوڈ سپیکر پر دہشت اورخوف وہراس پھیلانے کی کوشش کی۔بتایاجارہاہے کہ فریقین کے درمیان دشمنی کی ابتداایک لڑکی کے اغوا سے شروع ہوئی تھی اورپہلے بھی جانی نقصان ہوا۔یہ بھی بتایاجارہاہے مقتول پربھی اپنے مخالفین کے قتل کاالزام تھاتاہم اس حوالے سے کوئی مصدقہ بات سامنے نہیں آسکی۔

پشاور ہائی کورٹ کے قریب سے بر آمد ہونے والی سر بریدہ لاش کی شناخت پر شاہ پور کے رہائشی احتجاج کے طور پر شیر شاہ سوری پل کے نیچے جمع ہوگئے اور جی ٹی روڈ ٹریفک کیلئے بند کرکے احتجاج شروع کر دیا ۔ شدید گرمی میں احتجاج کے دوران جی ٹی روڈ پر دونوں اطراف ٹریفک معطل ہوگئی جس کے نتیجے میں تین گھنٹے سے زائد وقت تک پشاور کی اہم شاہراہیں گاڑیوں کی آمدورفت کیلئے بند رہیں ۔

مزید دیکھیں :   شہباز گل کا مزید 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور، جیل منتقل

لاش ملنے کی اطلاع پر مقتول کے رشتہ دار اور قریبی عزیز گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر شیر شاہ سوری پل پشاور کے نیچے جمع ہوگئے اور مظاہرہ شروع کر دیا ۔ احتجاج کی وجہ سے جی ٹی روڈ، ایل آر ایچ روڈ، خیبر روڈ، ریلوے روڈ اور باچاخان چوک جانے والے تمام راستے بند ہوگئے اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔اس موقع پر ٹریفک پولیس نے سنٹرل جیل پشاور کے سامنے روڈ بند کر کے ٹریفک خیبر بازار کی جانب موڑ دی جبکہ سابق آرمی سٹیڈیم پارک کے ساتھ سڑک بند کر کے ٹریفک شامی روڈ کے ذریعہ چارسدہ روڈ اور دلہ زاک روڈ پر منتقل کی گئی ۔

اسی طرح ہشت نگری میں بھی سڑک کو بند کیا گیا تھا جس سے شہر کی تمام سڑکیں تین گھنٹے سے زائد وقت تک جام رہیں۔ مظاہرین نے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا اور شدید نعرے بازی کی اس موقع پر پتھر رکھ کر سڑک کو بند کیا گیا تھا بعد ازاں پولیس کی جانب سے کارروائی کی یقین دہانی پر مظاہرین منتشر ہوگئے اور سڑک ٹریفک کیلئے کھول دی گئی ۔