سود کے خلاف ملی یکجہتی کی ضرورت

اسلام کے نام پر بننے والے ملک،اسلامیہ جمہوریہ پاکستان میں جب سرعام حکم الٰہی کی دھجیاں اڑائی گئیں اور دیکھنے والے کھلی آنکھوں سے دیکھتے رہے تو یہ لمحہ اذیت ناک ہی نہیں کرب ناک بھی بہت ہے ایسے موقع پر مجھے امام الہند ابوالکلام آزاد کے وہ الفاظ شدت سے یاد آتے ہیں جو انہوں نے قیام پاکستان کے بعد کہے تھے کہ پاکستان میں ہمیشہ اسلام مظلوم رہے گا اور ہندوستان میں مسلمان ‘ملک عزیز میں سود کیسے پھیلا اور محرکات کیاکیا تھے؟یہ سوال جتنا اہم ہے اس سے زیادہ شاید یہ سوال اہم ہے کہ ملک عزیز میں سود کا راستہ روکنے کے لئے مسلمانوں نے کیا کیا اقدامات کئے اور انہوں نے کیا کردار ادا کیا اور سود سے بچنے کی کتنی سعی کی؟ یہاں یہ بات کہناضروری ہے کہ سود کی حرمت اتنی یقینی ہے جتنی کہ زنا ،شراب خوری اور چوری کی ہے مگر میری معلومات کے مطابق چند گِنے چنے افراد کے علاوہ سب کو مصلحت کا سانپ سونگھ گیا ہے یاان کے نزدیک سود کامعاملہ اتنی اہمیت نہیں رکھتا جس کے لئے مستقل خطوط پر تگ ودو کی جائے۔
ملک عزیز میں جو افراد بغیر کسی مصلحت،بغیر کسی لالچ اور بغیر کسی دبائو کے سود کے خلاف علم بغاوت بلند کیا ہے اس میں استاد مکرم شہید ناموس رسالت شیخ الحدیث حضرت مولانا سمیع الحق نوراللہ مرقدہ،شیخ الاسلام مفتی محمدتقی عثمانی حفظلہ اللہ،شیخ الحدیث حضرت مولانا زاہد الراشدی مدظلہ،تنظیم اسلامی اور جماعت اسلامی قابل ذکر ہے اس کے ساتھ ساتھ انفرادی طور پر ملک کے ہر حصہ میں علما کرام،دانشوران ملت اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتے رہتے ہیں لیکن ان کی آوازصدا بصحرا ثابت ہوتی رہی ہے ۔ ایسے موقعوں پر جہاں سے امیدیں وابستہ ہوتی ہیں اور ہر مسلمان کی نظریں جن کی طرف اٹھتی ہیں ان کا کردار اس حوالے یقینا تکلیف دہ ہوتا ہے اور یہی ماحول مقابل حریفوں کے اس مشہور قول کو انتہائی تقویت دیتا ہے کہ جہاں اسلام آباد خطرے میں ہو وہاں اسلام خطرے میں پڑ جاتا ہے اس جملے کو مزید آسان الفاظ میں یوں کہاجاسکتا ہے جہاں ووٹ کو خطرہ ہو وہاں اسلام محفوظ نہیں ہوتا اور حفاظت کے لئے جو کچھ بھی کرنا پڑے کرگزرتے ہیں۔مذہبی جماعتوں کو اس حوالے سے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہئے ورنہ کل ہمارے پلے سوائے خوشنما فلسفوں کے کچھ نہیں ہوگا.دوماہ قبل27رمضان المبارک کو سود کے متعلق وفاقی شرعی عدالت نے جو فیصلہ سنایا وہ یقینا دین کا درد رکھنے والے ہر مسلمان کے لئے خوشی کا باعث تھا.کہ ملک عزیز میں سود بحران کا ذریعہ ہے اور سود کو تحفظ دینے والے تمام قوانین کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حکومت سودی نظام سے چھٹکارا پانے کے لئے اقدامات کرے یہ فیصلہ آنے کے بعد جس طرح اس کا خیر مقدم کرنا چاہئے تھا نہیں ہوا.مذہبی حلقوں میں اس فیصلہ کو وہ پذیرائی نصیب نہ ہوئی جو کہ ہونی چاہئے تھی.اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہمیشہ کی طرح یہ فیصلہ بھی اقدامی حثیت حاصل نہ کرسکا اور آج انتہائی دکھ سے کہنا پڑ رہا ہے کہ اس فیصلہ کے خلاف اپیل دائر کی گئی.اس میں جہاں اسلام مخالف تحریکوں کا عمل درآمد شامل ہے تو ساتھ ہی ساتھ اپنوں کی بے اعتنائی نے بھی معاملہ یہاں تک پہنچایا۔
میرا یہ کالم دردِدل کے سواکچھ نہیں،لیکن یہ بات بھی ہرگزمعقول نہیں کہ ہمیشہ ہم نوحہ کناں رہیں، بلکہ ہمیں مستقل بنیادوں پر حکمت عملی تیار کرنی چاہئے اور ان اقدامات کو عملی جامہ پہنانے کے لئے انفرادی اور اجتماعی کوشش کرنی چاہئے اور اگر ہم واقعتا تہیہ کرلیں تو کچھ بھی ناممکن نہیںسوال یہاں پر ذہن میں یہ آرہا ہے کہ ہمیں اس موقع پر کیا کرنا چاہئے؟اس کا جواب انتہائی واضح اور قابل عمل ہے کہ ہر انسان طاقت کے بقدر مکلف ہے جس سے جتنا ہوسکے وہ کرگزرے ۔ سوشل میڈیا تو آج کل ہر عام
وخاص استعمال کرتے ہیں یہاں پر سود کے خلاف لکھنے والی تحاریر کو زیادہ سے زیادہ شیئر کیجئے تاکہ پریشر ڈویلیپ ہو،ٹوئٹر پر سود کے خلاف ٹرینڈ چلائیں،جن بینکوں نے سود کے خلاف فیصلے کو چیلنج کیا ہے ان کا مکمل بائیکاٹ کریں ان بینکوں میں رکھی گئی رقوم نکالیں تاکہ کل روز محشر اتنا تو کہہ سکیں کہ ہم نے اپنے حصہ کی شمع جلائے رکھی تھی اپنے حصے کی ذمہ داری پوری کی تھی میرے خیال میں یہ کم سے کم ممکن اقدام ہے جس میں کوئی مشکل نہیں اور ممکنہ متبادل بھی موجود ہے صرف ایک فیصلے اور عملی اقدام کی ضرورت ہے اگر اس کے باوجود بھی خدانخواستہ ہم کوتاہی کرجائیں تو خود سوچیں ہماری حیثیت کیا ہے اور روز آخرت کیا منہ دکھائیں گے کیا ہم دنیاوی منفعت اور وہ بھی بہت تھوڑی منفعت کے لئے کہیں آخرت کی زندگی کو دائو پر تو نہیں لگا رہے ہیں؟ ہر مسلمان کو خود سوچنا اور فیصلہ کرنا چاہئے عملی اقدامات کے طور پر اس راست اقدام کے ساتھ ساتھ سود کی وعیدات کی اگاہی مہم چلانے میں اپنا کردار اداکرے چھوٹے چھوٹے لٹریچر شائع کرنی چاہئے تاکہ ضمیر کا بوجھ ہلکا ہوسکے.اس حوالے سے تنظیم اسلامی کی محنت قابل ستائش ہے۔اگر ہم بجلی،گیس،نوکری اوردھاندلی کے خلاف بڑے بڑے مظاہرے کرسکتے ہیں تو یقینا سود کے خلاف اس سے بھی بڑے مظاہرے ہوسکتے ہیں گلی،چوکوں اور چوراہوں میں سود کے متعلق آوازیں بلندکرنی چاہئے یہ جہاں ہماری ایمانی زندگی کے لئے ضروری ہے تو ساتھ ہی ساتھ سیاسی زندگی کے لئے بھی بنیادی کردار ادا کرسکتا ہے ورنہ کل روز محشر ہمارے پاس کیا جواب ہو گا؟۔خدارا ہر قسم کی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر اجتماعی طور پر سود کے خلاف ہمیں سدِ سکندری کاکردار اداکرنا چاہئے،ساتھ ہی ساتھ اللہ سے دعابھی کرنی چاہئے کہ یااللہ ملکِ عزیز پاکستان کو سود کی لعنت سے پاک کیجئے،اگر ہم ان تجاویز پر عمل پیراہوں تو یقینا ہم سود کی لعنت سے چھٹکارا پا سکتے ہیں آئیے ہر ایک اپنے اپنے حصے کی شمع جلا کر روشنی پھیلانے اور ظلمت دور کرنے کا آغاز کرتے ہیں۔

مزید دیکھیں :   نشہ خودی کا چڑھا آپ میں رہا نہ گیا