دیتا ہے روزروز دلاسے نئے نئے

ہیں خواب میں ہنوز جو جاگے ہیں خواب میں ‘ صوبہ سندھ کے مشیر زراعت سائیں منظور وسان ایک بار پھرلمبی نیند سے جاگے ہیں اور ایک تازہ بیان میں چیئرمین تحریک انصاف سابق وزیر اعظم عمران خان کے بارے میں نئی پیشگوئی کردی ہے ‘ سیاسی خواب دیکھ کر پیشگوئیاں کرنے والے پی پی پی رہنما نے کہا ہے کہ عمران خان آئندہ انتخابات میں مجھے نظر نہیں آرہے کیونکہ جواقتدار سے جاتا ہے وہ جلدی واپس نہیں آتا ‘ اب انہیں (عمران خان) کو انتظار کرنا پڑے گا ‘ عمران خان کی مقبولیت میں آہستہ آہستہ کمی ہوتی جائے گی کیونکہ جو موقع عمران خان کو دیاگیاتھا وہ اس سے کچھ حاصل نہ کر سکے ‘ ان کا لانگ مارچ غلط فیصلوں کی وجہ سے ناکام ہوا ‘ اب ان کے ساتھی بھی جولائی میں ساتھ چھوڑ جائیں گے ‘ منظور وسان نے یہ بھی کہا کہ ملک میں عام انتخابات اپریل 2023 ء میں ہوتے دیکھ رہا ہوں جس میں بلاول بھٹو یا مسلم لیگ نون سے وزیر اعظم بننے کا امکان ہے جبکہ اتحاد بھی ہو سکتا ہے ۔
دیتا ہے روز روز دلاسے نئے نئے
کس طرح اعتبار ہو حافظ کی فال پر؟
ایک سائیں منظور وسان پر ہی کیا موقوف ہے’ اس”حمام” میں اور بھی کئی ہاتھ پائوں مار رہے ہیں یعنی ستارہ شناس’پامسٹ ‘ ٹیروکارڈ والے وغیرہ وغیرہ اور گزشتہ تقریباً دو ڈھائی سال سے مختلف اوقات میں مختلف سیاسی قائدین کے حوالے سے پیشگوئیاں کرتے ہوئے متضاد دعوے کر رہے ہیں اگرایک بلاول بھٹو زرداری کو اگلا وزیر اعظم دیکھ رہا ہے یعنی اپنے ”علم” کے مطابق تو دوسرا اس سے اختلاف کرتے ہوئے البتہ ساتھ ہی یہ پیشگوئی کرتا نظر آتا ہے کہ بلاول کے مقابلے میں اس کی چھوٹی ہمشیرہ کے ستارے زیادہ مضبوط تو توانا دکھائی دیتے ہیں اور اگرموصوفہ عملی سیاست میں کود گئیں تو ان کے چانسززیادہ روشن ہیں ‘ وغیرہ وغیرہ جبکہ سائیں منظور وسان نے اس حوالے سے اپنی پیشگوئیاں صرف بلاول بھٹو زرداری تک ہی محدود رکھی ہوئی ہیں تاہم ایک بات اہم ہے کہ سائیں منظور وسان نے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد دلائے جانے سے پہلے یہ پیشگوئی ضرور کی تھی کہ عمران خان کے اقتدار کا سورج غروب ہونے کو ہے ‘ اب یہ بات انہوں نے کسی تکے کے طور پر الار دی تھی یا واقعی انہوں نے کوئی ”خواب” دیکھا تھا ‘ کیونکہ بعض واقفان حال یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ سائیں منظور وسان کا بھی شیخ رشید کی طرح کسی گیٹ نمبر چار کے ساتھ کچھ تعلق ہے ۔ خدا جانے یہ بات درست ہے یا نہیں ‘ بہرحال اس وقت تو سائیں جی کی بات درست ثابت ہوئی تھی یعنی واقعی عمران خان کے اقتدار کو درپیش خطرات نے ا نہیں اپنی لپیٹ میں لیکر”دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا” والی صورتحال کو جنم دے کر انہیں اقتدار سے محروم کر دیا تھا ‘ اگرچہ اس دوران شیخ رشید نے بھی عمران خان اور ان کے مخالفین کے حوالے سے بہت سی پیشگوئیاں کر ڈالی تھیں اور ”قربانی سے پہلے قربانی” والے بیانئے کو بہ الفاظ دیگر جاری رکھا ہوا تھا ‘ مگر وہ تو ماضی کی بات تھی یعنی تب میاں نواز شریف برسراقتدار تھے ‘ جبکہ گزشتہ پونے چار سال شیخ رشید بھی اقتدار کے مزے لوٹ رہے تھے اور خود ان کے بقول وہ گیٹ نمبر چار سے زیادہ بلکہ ضرورت سے بھی زیادہ قریب رہے ‘ مگر بکرے کی ماں کب تک خیر منا سکتی ہے ‘ اس لئے شیخ صاحب کی تڑیاں بھی پھیکی پڑنے لگی تھیں ‘ اور آج کل وہ جس قسم کے بیانات دے رہے ہیں ان سے مایوسی کی کیفیت عیاں ہو رہی ہے بلکہ کبھی کبھی وہ اپنے ”ممدوح” کے خلاف بھی بول پڑتے ہیں اور واقفان حال نہ صرف ان کے حوالے سے بلکہ ملتان کے پیر اور جہلم کے بڑبولے کے بارے میں بھی بتا رہے ہیں کہ وہ بھی اپنے لئے نئے ٹھکانے تلاش کر رہے ہیں شاید اسی لئے سائیں منظور وسان نے عمران کے ساتھیوں کا ان سے ا لگ ہو جانے کی بھی پیشگوئی کر دی ہے ‘ ملتان کے پیر کے بارے میں تو یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ انہوں نے اپنے ہم خیالوں کے ساتھ مل کر نئی جماعت بنانے کی کوششیں شروع کر رکھی ہیں ‘ جہاں تک نئی سیاسی جماعت کی بات ہے تو دوسری جانب گجرات کے چوہدریوں کے درمیان بھی اختلافات کی خلیج وسیع ہونے کی خبریں آرہی ہیں اور ایک وی لاگر کے مطابق اب ق لیگ کی صورتحال تانگہ پارٹی سے سائیکل پارٹی والی بن رہی ہے ‘ تاہم گزشتہ روزایک بار پھر گجراتی خاندان کو ان کے بعض خیر خواہوں نے اختلافات ختم کرکے یکجا کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں ‘ اور اگر یہ تگ و دو کامیاب ہوجاتی ہے تو خاندان بکھرنے کا تماشا کرنے والوں کو مایوسی بھی ہوسکتی ہے ‘ یعنی بقول ایک پشتو کہاوت کے ”مقدمے کے انجام پر نظر رکھ” اور بقول انجینئر عتیق احمد
کانچ کادل لئے وہ بھیڑ میں جا پہنچا تھا
کرچیاں چنتے ہوئے اب یہ شکایت کیسی؟
بات ہو رہی تھی سائیں منظور وسان کی تازہ پیشگوئی کی ‘ توعرض ہے کہ ایک اینکر ‘ وی لاگرز ایسا بھی ہے جو گزشتہ تین ساڑھے تین سال سے اپنے متعلقہ ٹی وی چینل پر ایک بابے اسٹرالوجسٹ کو بٹھا کر عوام کے ذہنوں میں ”خود ساختہ” عمرانی بیانئے کو راسخ کرتا چلا آرہا ہے اب اس اینکر ‘ وی لاگرکے خلاف قانون نے اپنا شکنجہ کسنا شروع کر رکھا ہے اور وہ ”بھاگتا” پھرتا ہے یا کم از کم بھاگنے کی تگ و دو میں ہے ‘ موصوف نے بابے ستارہ شناس کے ذریعے ایک خاص کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے عمران خان کے خلاف مبینہ سازشوں کی ناکامی کی اس قدر پیشگوئیاں کیں کہ اب خود انہیں بھی یقین نہیں ہو رہا ہوگا کہ جوکچھ وہ کہتے آئے ہیں وہ سچ تھا یا جو کچھ اب وہ دیکھ رہے ہیں وہ درست ہے ‘ یعنی ان کے مطابق عمران خان اپنے تمام مخالفین کو ” شہ مات” دے کر اقتدار سے نہیں اتریں گے بلکہ دو تہائی اکثریت کے ساتھ صدارتی نظام لا کر ”شہنشاہ معظم” بن کر تاحیات اقتدار پر قابض ہوجائیں گے یعنی خود ہمارے ہی ایک شعر کے مطابق
بساط عشق پہ اس نے بچھا دیئے مہرے
سو ہم بھی دل ہی پہ شہ مات کرکے دیکھتے ہیں

مزید دیکھیں :   کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی