مشکل فیصلوں کی مشکل کشائی

مشکل فیصلوں کی مشکل کشائی کون کرے گا

ایک زمانہ ایسا بھی تھا اور اب بھی کہیں کہیں کسی خاندان میں یہ روایت ہے کہ خواتین اپنے شوہروں کے نام نہیں لیتیں، لطیفے ٹائپ کا ایک فرضی قصہ خاندان کی بڑی بوڑھیاں بچوں کو سنایا کرتی تھیں کہ ایک عورت کے شوہر کا نام رحمت اللہ تھا، وہ جب نماز پڑھتی تو سلام پھیرتے وقت وہ شوہر کا نام نہیں لیتی بلکہ اس طرح کہتی کہ السلام علیکم زرینہ کے ابا اور دوسری طرف السلام علیکم ثمینہ کے ابا۔ ہمارے حکمرانوں کی بھی کیمسٹری کچھ اسی طرح کی ہے کہ ایک زمانے میں جب کسی چیز کی یا پٹرول ہی کی لے لیں قیمتیں بڑھانے کی بات ہوتی تو صاف انداز میں یہ نہیں کہتے کہ فلاں تاریخ سے اس چیز یا پٹرول کی نرخ میں اضافہ کیا جا رہا ہے بلکہ اس کے بدلے یہ کہا جاتا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے فلاں تاریخ سے پٹرول کی قیمتوں میں ردوبدل کیا جا رہا ہے، ملک میں ہونے والی مہنگائی کو قیمتوں میں رد وبدل کا نام دیا جاتا حکمران دراصل عوام کو بے وقوف سمجھتے ہیں یا اپنے آپ کو دھوکا دیتے ہیں۔ اسی طرح آج کل پٹرول یا کسی بھی چیز کی قیمتوں میں اضافے کو مشکل فیصلوں کا نام دیا جاتا ہے۔

حکومت کی طرف سے جب یہ بات آتی ہے کہ پٹرول کے حوالے سے ہمیں کچھ مشکل فیصلے کرنے ہوں گے تو عوام چوکنا ہوجاتے ہیں کہ پٹرول کے نرخ پھر بڑھنے والے ہیں پھر ایک خاص منصوبے کے تحت پبلک میں یہ بحث و مباحثہ کروایا جاتا کہ اب یہ تین سو روپے لٹر تک جائے گا دوسرے صاحب کہتے کہ نہیں بھائی آئی ایم ایف نے 360 روپے لٹر کے بارے میں حکومت پاکستان کو پابند کیا ایسا معلوم ہوتا کہ وہ صاحب براہ راست آئی ایم ایف سے اطلاع لے کر آئیں ہیں ویسے بھی اتنا کچھ کرنے کے بعد یعنی 85 روپے فی لٹر بڑھانے کے بعد بھی آئی ایم ایف نے معاہدے پر دستخط نہیں کیے۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ 30 روپے لیوی کے اور 17فی صد سیلز ٹیکس بڑھائے جائیں یعنی 60 روپے فی لٹر تک بڑھانے کا مطالبہ ہے جب کہ ہمارے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل قوم کو یہی تسلی دے رہے ہیں کہ بس ایک دو روز میں آئی ایم ایف سے معاہدہ ہونے والا ہے۔ اس طرح کے اعدادو شمار میں عام لوگوں کو الجھا کر ہر مہینے کی 15 اور 30 تاریخ کی شام کو پچیس تیس روپے فی لٹر کا اضافہ کردیا جائے گا لیکن اس سے بھی بات بنتی نظر نہیں آتی۔ ابھی تین چار سال پہلے تک گلی محلوں کے عام ہوٹلوں میں فل کپ چائے 30 روپے کی اور ہاف کپ یعنی اس کی آدھی جسے ہوٹل کی زبان میں کٹ چائے کہتے ہیں 15 روپے کی ملتی تھی اب فل کپ چائے 80 روپے کی اور ہاف کپ جسے کٹ چائے کہتے ہیں 40 روپے کی ہوگئی ہے۔

مزید دیکھیں :   جشن آزادی اور ہمارے رویے

ملک میں جب بھی مہنگائی ہوتی ہے تو اس سے کاروباری لوگوں کو زیادہ فائدہ ہوتا ہے، دہاڑی دار، روزانہ کمانے والے اور تنخواہ دار ملازمین اس مہنگائی سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں حکومت ان کی اشک شوئی کے لیے بجٹ میں کچھ اضافے کا اعلان کرتی ہے لیکن یہ اعلان اس تناسب سے بہت کم ہوتا ہے ایسے خاندان بسا اوقات فاقہ کشی پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح ہر گھر میں دو وقت چائے بنائی جاتی تھی مہمان وغیرہ آگئے تو الگ سے چائے بنائی جاتی کئی گھرانوں میں اب صرف صبح کی چائے بنتی ہے شام کی چائے ختم کردی گئی ویسے بھی ہمارے وزیر احسن اقبال نے قوم سے گزارش کی ہے کہ لوگ چائے کم پیا کریں۔

یہ تو وہ اقدامات ہیں جو لوگ ازخود کررہے ہیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت اس مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے خود کیا اقدامات اٹھا رہی ہے ہمارے یہاں گریڈ 19 سے 22 تک کے ملازمین کی آپ تنخواہیں دیکھ لیں اور پھر ان کو جو مراعات دی جاتی ہیں اس کو بھی دیکھ لیں خانسامہ، چوکیدار، مالی، ڈرائیور سرکار کی طرف سے انہیں دیے جاتے ہیں اس کے علاوہ مفت بجلی گیس اور پٹرول الگ سے دیے جاتے ہیں ایک دفعہ میں نے یہ رپورٹ پڑھی تھی اسلام آباد میں اعلیٰ سرکاری ملازمین گرمیوں میں بھی لحاف اوڑھ کر لیٹتے ہیں مفت کی بجلی ہونے کی وجہ سے ہر کمرے میں فل اے سی چلتا ہے اب وقت آگیا ہے کہ ہمارے حکمران ہماری اشرافیہ کے اللے تللوں پر پابندی لگائے اس طرح ہر ماہ لاکھوں لیٹر پٹرول کی بچت ہو سکتی ہے۔

مزید دیکھیں :   کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی

یہ بات بھی اب آہستہ آہستہ عوام میں زیر بحث آرہی ہے کہ مریم نواز اور نواز شریف اقتدار لینے کے حق میں نہیں تھے لیکن شہباز شریف نے کہا کے ہمیں اپنے مقدمات کو ختم کرانے میں آسانی مل جائے گی، نیب کے قوانین تبدیل کیے جاسکتے ہیں، انتخابی اصلاحات ہوجائیں گی، اگلے انتخابات میں ن لیگ کو سہولت مل سکتی ہے لیکن انہیں شاید یہ پتا نہیں تھا کہ ملک کی معاشی حالت ان کے ہاتھ پاؤں جکڑ کر رکھ دے گی اب بار بار لندن سے پیغام آتے ہیں پی ڈی ایم کی دوسری جماعتوں بالخصوص پی پی پی اور جے یو آئی کو بھی سارے فیصلوں میں آن بورڈ لیا جائے معلوم ہوا کہ بلاول زرداری تو بیرون ملک دورے کررہے ہیں اور ملک کے اندر مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام ن لیگ کو برا بھلا کہہ رہے ہیں اور شاید یہی ماحول آصف زرداری کو بھی سوٹ کرتا ہے۔